Browsing: ملتان

کسی ملک میں تخلیقی سرگرمی کا معیار ناگزیر طور پر اجتماعی بندوبست کی توانائی سے بندھا ہے۔ ہم نے جو اجتماعی ذہن مرتب کیا ہے وہ تخلیقی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکا اور سوویت یونین میں فلم کے میدان میں کڑا مقابلہ رہا اور بازی امریکا کے ہاتھ رہی۔ وجہ یہ کہ سوویت یونین میں تخلیقی سرگرمی پر نظریاتی قبا اوڑھے ہوئے کم سواد ، خوشامدی اور جعل ساز اہلکاروں کا اجارہ تھا۔

یہ صرف ایک فون انڈیکس نہیں، بلکہ میری زندگی کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس کے ہر صفحے پر ایک چہرہ آباد ہے، ہر نمبر کے پیچھے ایک آواز محفوظ ہے، اور ہر نام کے ساتھ زندگی کا ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔

پیر سپاہی بلاشبہ ملتان کا دلچسپ کردار تھا جس کے پاس میری نانی اماں بھی اپنے ہاتھ کے شوگر زدہ زخم پر دم کرانے کوٹ ادو سے ملتان آئی تھیں۔ ٹھیک تو خیر کیا ہونا تھا ان کی تشخیص بھی بعد میں ہوئی تھی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ پیر سپاہی بھی ضیائی کرشمہ تھا۔رضی کا پیر سپاہی کی کہانی کو ‘توڑ’ (آخر) تک پہنچانا ، ان کا صحافیانہ انداز ہے۔

انکی ایک بیٹی نے شاید بزنس ایڈ منسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا وہ چاہتے تھے زکریا یونیورسٹی میں اسے ملازمت مل جائے میں کہتا تھا کہ اس بچی سے کہوکہ وہ ہمت کرکے موزوں دریچہ کھٹکھٹائے میری اس بات پر وہ ٹھنڈی سانس لے کے کہتے کہ کاش آپ بھی چھوٹے موٹے مخدوم ہوتے یا پھر مخدوم سجاد حسین قریشی زندہ ہوتے تو وہ کبھی مخدوم شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بننے کی چاہت میں جیل نہ جانے دیتے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون اور بچوں کا رات گئے پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا جس کے مطابق تینوں بچوں کی موت گلا دبانے سے ہوئی، بچوں کو قتل کے بعد لاشیں لٹکائی گئیں۔
اسپتال ذرائع کا بتانا ہے کہ مزید تحقیقات کے لیے نمونے فرانزک لیب روانہ کردیے گئے ہیں۔

جب بھی لاہور ہمیں بلاتا ہم اشرف صاحب سے ضرور ملتے تھے ۔۔گوال منڈی میں محفل سجتی ۔ اشرف جاوید بعد ازاں انجمن ترقی ادب سے منسلک ہو گئے ۔۔ اب تک ان کے چھے شعری مجموعوں سمیت مختلف سیاسی و ادبی موضوعات پر جو کتب شائع ہوئیں ان میں عالمی سیاست کے فرمانروا ، پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ، امنِ عالم خدشات و خطرات ، آفتابِ داغ ( داغ دہلوی کے کلام کی تدوین حواشی کے ساتھ شامل ہیں ۔۔

محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق ایک مضبوط مغربی موسمی سسٹم خطے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے زیرِ اثر ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں مزید بارش، آندھی اور ژالہ باری کا امکان آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔

مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔