مذہب کی تعبیر ہر عہد میں بدلی ہے۔ جو لوگ آج ہمیں راسخ العقیدہ نظر آتے ہیں، اپنے زمانے میں وہ بدعتی کہلائے تھے۔ امام غزالی پر فلسفے کی آمیزش کا الزام لگا، ابنِ عربی پر کفر کے فتوے لگے، مغل دربار کی خطاطی اور مصوری کو مولوی نے کبھی جائز نہ کہا مگر آج وہی مصوری اسلامی آرٹ کے عجائب گھروں کی زینت ہے۔
Browsing: یاسر پیرزادہ
ایک ہم ہیں کبھی کسی تعیناتی کے بارے میں ہلکان ہو جاتے ہیں تو کبھی کسی کے ہوائی سفر پر تبصرے کرنے لگتے ہیں، بھئی عام آدمی کا کیا کام اِن باتوں سے۔ اسے تو صرف پٹرول۔ اوہ معافی چاہتا ہوں، اُسے تو صرف اِس بات سے غرض ہے کہ ماہرہ خان اِس عمر میں حاملہ کیسے ہو گئی؟
لیکن جیسا میں نے کہا کہ یہ بنکاک کا محض ایک چہرہ ہے۔ اگر آپ ثقافت، تاریخ یا کھیل کے دلدادہ ہیں تو یہ شہر آپ کا دل موہ لے گا۔ سونے کے پانی سے بنے ہوئے مندروں سے لے کر مہاتما بدھ کی مورتیوں تک اور میلے ٹھیلوں سے لے کر کِک باکسنگ کے عالمی مقابلوں تک، بنکاک وہ سب کچھ پیش کرتا ہے جو کسی اور شہر میں نہیں۔ یہاں لوگ پلاسٹک سرجری کروانے آتے ہیں، ہر دوسری عورت نے یہاں ’فِلرز‘ لگوائے ہوئے ہیں اور بندے یہاں میک اپ کر کے یوں پھرتے ہیں کہ لڑکی کا گمان ہوتا ہے، انہیں لیڈی بوائے بھی کہا جاتا ہے۔ جنس تبدیل کروانے کی پوری صنعت بنکاک میں ہے۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی یہ شہر کمال ہے، سستا اور اچھا کھانا بنکاک کا طرہ امتیاز ہے۔ ساٹھ بھات (تقریباً ساڑھے پانچ سو روپوں ) میں آپ کسی شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھ کر اچھا کھانا کھا سکتے ہیں اور اگر اِس سے بھی کم پیسوں میں کھانا ہو تو سڑک کے کنارے ریڑھی سے بار بی کیو کھا لیں۔ اِس سے سستا صرف فاقہ۔
ہم نے اپنے فون کو وہ تمام اجازتیں رضاکارانہ طور پر خود دے رکھی ہیں کہ جن کی مدد سے وہ ہمارا کچا چٹھا جانتا ہے۔ سونے پہ سہاگا یہ چیٹ بوٹ ہیں۔ ہم اُنہیں وہ باتیں بتا رہے ہیں جو بیوی، دوست، ڈاکٹر یا وکیل کو بھی نہیں بتاتے۔ کوئی اپنی بیماری کی علامات لکھ رہا ہے، کوئی گھریلو جھگڑے کی تفصیل اور کوئی محبوبہ کے نام پیغام۔ کئی صدیاں پہلے یہ کام کلیسا میں پادری کے سامنے ہوتا تھا، مگر وہاں پادری کم از کم آپ کے اعترافات لکھ کر محفوظ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اگلی صبح آپ کو گناہوں سے متعلقہ اشتہار بھیجتا تھا۔
اس کی ارمغانی پگڑی کے نیچے ماتھے پر پسینہ چمکا۔ اس نے ایک نظر صدیقہ کو دیکھا، ایک نظر گوپال کے جتھے کو اور اس کی نگاہیں زمین میں گڑ گئیں۔ اس میں گوپال سے بھڑنے کی ہمت نہیں تھی۔ کبھی نہیں تھی۔ اس کے قدم آپ ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے۔
اللہ نے چونکہ حسن بہت دیا ہے اِس لیے آٹھ بج کر چھ منٹ پر اپنی نظر بھی اتارتا ہوں، اور سب سے بڑا ہنر جو میرے پاس ہے اور جس پر آج تک میں نے غرور نہیں کیا وہ یہ کہ میں تیس سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنے جوتوں کے تسمے بند کر سکتا ہوں۔
یہ تکنیک مجھے روانڈا کے ایک قصبے مائی پھیرو کی ایک لڑکی نے سکھائی تھی،
مسئلہ یہ ہے کہ مولوی نے ہمیں یہ بتایا ہوا ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے لہذا آبادی کنٹرول کرنا یا بچے کم پیدا کرنا دینی احکامات کے خلاف ہے۔ اِس سوچ نے پاکستان کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔
اسکولوں میں جگہ نہیں، ہسپتالوں میں بستر نہیں، پینے کو صاف پانی نہیں، لیکن غریب کی جھونپڑی میں آٹھواں بچہ جنم لے رہا ہوتا ہے۔
ماہرین کی ’تحقیق‘ یہ بھی تھی کہ اسے بہت زیادہ چمک والے جوتے نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ایسے جوتے مہنگے وکلا اور بینکرز پہنتے ہیں سو جوتوں کی چمک کچھ کم ہونی چاہیے مگر اتنی کم بھی نہ ہو کہ اشرافیہ اسے گھٹیا سمجھے اور اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ عام بندہ اسے اشرافیہ میں سے سمجھے سو اُس کی ٹیم نے ’مناسب چمک‘ کا معیار طے کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ کو 7300 ڈالر دیے اور یقینی بنایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے جوتے پہنے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں ۔
اصول یہ ہے کہ طلاق حاصل کرنے والے جوڑے کے نام پر جو مشترکہ اثاثہ جات ہوں گے اُن کی مساوی تقسیم ہوگی لیکن دو پیشگی شرائط کے ساتھ۔ اوّل، اثاثے اُن کی شادی کے دوران دونوں کے مشترکہ تعاون سے بنائے گئے ہوں، دوم، اُن اثاثوں کو بنانے میں فریقین کی کاوشوں اور باہمی تعاون اور شراکت کا واضح تعین نہ ہو سکے۔ اپنے ہاں تو حال یہ ہے کہ برسوں عورت اپنے شوہر اور اُس کے خاندان والوں کی محنت کرتی ہے اور اگر ون فائن مارننگ شوہر اُس کو طلاق کے ساتھ حق مہر کے بیس ہزار روپے دے کر فارغ کر دے تو اُس کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔
ریاضی میں ایک دلچسپ تصور ہے جسے Bayes ’Theorem کہتے ہیں، یہ تھیورم ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے نئے شواہد کی روشنی میں اپنے پرانے نظریات…
