اٹک : وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)کی تین رکنی ٹیم نے اٹک جیل میں قید سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے سائفر کیس سے متعلق تحقیقات کیں۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے ٹیم نے جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے ٹیم نے عمران خان سے سائفرگم ہونے سے متعلق سوالات کیے اور انہوں نے ٹیم کے سامنے خفیہ سائفر مراسلہ گم کرنے کا ایک بار پھراعتراف کیا۔ذرائع نے بتایاکہ ایف آئی اے ٹیم کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کررہے تھے۔
خیال رہے کہ 5 اگست کو اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے بعد سے وہ اٹک جیل میں قید ہیں۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کے معاملے میں 15 اگست کو ایف آئی آر درج کی گئی اور یہ مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا۔گزشتہ دنوں ہی عمران خان کو سائفر گمشدگی کیس میں بھی گرفتار کیا گیا ہے جبکہ شاہ محمود بھی ریمانڈ پر ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمران خان سے ہونے والی پوچھ گچھ اسی مقدمے میں گرفتار سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اب تک ہونے والی تفتیش کی روشنی میں کی گئی ہے۔ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم کو اس مقدمے میں باقاعدہ شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سائفر کے مواد کی چوری سے متعلق درج مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان بھی نامزد ملزم ہیں۔
یہ وہی سائفر ہی جس کی بنیاد پر عمران خان نے دعوی کیا تھا کہ ان کی حکومت گرانے کی سازش میں امریکہ ملوث ہے۔سیکرٹ ایکٹ کے تحت کوئی مجاز شخص ایسے راز کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ شئیر کرے جس سے قومی سلامتی کو خطرہ تو جرم ثابت ہونے پر اس کی 14 سال قید ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج سائفر کیس میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی ان کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سائفر ٹیلی گرام نہ انھوں نے اپنے پاس رکھا اور نہ ہی اس کا متن کسی غیر مجاز شخص کو بتایا۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ’اس ضمن میں درج ہونے والے مقدمے میں بھی سائفر میرے پاس ہونے کا الزام نہیں ہے بلکہ کسی اور کے پاس ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔‘درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جسمانی ریمانڈ کا آرڈر کالعدم قرار دے کر ان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوایا جائے۔
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں وفاق اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سائفر کا جھوٹا اور غلط مقدمہ بنایا گیا۔‘اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’سیاسی مخالفت پر انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے وفاقی حکومت اور سیکرٹری داخلہ کی ملی بھگت سے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا گیا۔‘درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ایف آئی اے کے سامنے شامل تفتیش ہو کر بتایا کہ سائفر ٹیلی گرام نہ اپنے پاس رکھا اور نہ ہی اس کا متن کسی غیر مجاز شخص کو بتایا، بطور وزیر خارجہ فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے قانون کے مطابق وزیراعظم پاکستان کو پیغام پہنچایا تھا۔‘
درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ ’ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے سائفر وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے لیکن ان تمام حقائق کے باوجود ایف آئی اے نے مجھے گرفتار کیا۔‘

