یہ قیدی حکومت پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اس حکومت کو عمران خان فوبیا سے رہا ہونا ہے اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔
Browsing: عمران
لاہور کے معروف لکشمی چوک کے قریب ایک مصروف ترین سڑک کے کنارے سہیل آفریدی پولیس وین سے اتر کر گھنٹے سے زیادہ دیر تک بیٹھے رہے۔ مجھ جیسے بڈھے صحافی کو اس چوک کے کسی کونے میں دیکھ کر کم از کم 15سے 20افراد سیلفیاں کھنچوانے کو رک جاتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے جانے پہچانے چہرے کو مگر ایسی ’’پذیرائی‘‘ بھی نصیب نہ ہوئی۔
عطااللہ تارڑ اور سہیل آفریدی کے بیانات یکساں طور سے واضح کرتے ہیں کہ اپوزیشن ہی نہیں حکومت بھی مسائل کی شدت سمجھنے یا انہیں حل کرنے کی طرف پیش قدمی کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
اجلاس کے بعد وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے وزیراعلی ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی باونڈری پر کیل لگانے کا مطلب ہے کہ اس صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہورہی ہے، کیا اس صوبے کے عوام یہ سمجھے کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش پر کام شروع ہوچکا ہے۔
تحریک انصاف کی بجائے حکومت اور اس کے نمائندوں نے اس سوال پر سیاست کی اور ہر لحظہ بدلتے بیانات کے ذریعے پورا ہفتہ بے یقینی کی فضا قائم رکھی۔ اس کا نقصان بنیادی طور پر حکومت ہی کو برداشت کرنا پڑے گا لیکن کسی سرکاری سیاسی عہدے دار میں اس کا اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔
لیڈر سے وفاداری کا مطلب ہر افواہ کو فتح اور ہر سیاسی اشارے کو ڈیل قرار دینا نہیں۔ کبھی کبھی اپنے لیڈر کے لیے سب سے بڑی وفاداری اپنے جذبات پر قابو پانا ہوتی ہے۔ کسی لیڈر کے لیے لڑنے اور اپنے لیڈر کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں بہت باریک فرق ہوتا ہے۔
عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے قبل اڈیالہ کے اردگرد سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے، پولیس نے اطراف کی تمام دکانیں جبکہ اندھیرے کیلیے اردگرد لگی لائٹس بھی بند کرادیں۔اس کے علاوہ اسلام آباد پولیس اسکواڈ کی دو گاڑیاں اڈیالہ جیل پہنچ گئیں۔
مسلم لیگ ن کو اس کھلبلی میں کوئی کلیئر پوزیشن لینی ہوگی، ورنہ پریشانیاں بڑھیں گی۔ عمران خان کو ملنے والا ریلیف فی الحال صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر نے اس عدالتی فیصلے کے پیچھے کسی سازش کی تلاش شروع کردی ہے۔ سینیٹر صاحب سے گزارش ہے کہ ہر جج کو ارشد ملک نہ سمجھیں۔ ہر جج کی ویڈیو نہیں بن سکتی۔
تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو قید ہوئے تین سال پورے ہوگئے۔ ان میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران انہیں تقریباً قید تنہائی میں رکھا…
مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی انتخابی حوالوں سے ہماری سب سے تجربہ کار جماعتیں ہیں۔ میں ان سے اس بچگانہ سوچ کی توقع نہیں رکھتا کہ ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھانا ان کی انتخابی کامیابی یقینی بناسکتا ہے۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے ووٹر کی عمر بڑھاتے ہوئے یہ جماعتیں بلکہ انتخابی میدان میں اترتے ہوئے شکست کے خوف سے مفلوج ہوئی نظر آئیں گی۔
