"عمران خان نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گراؤنڈ سے دوستی لگا لو۔۔یہ دوستی آپ کو ہمیشہ صحتمند رکھے گی ”
اپریل 1991ء کی ایک قدرے گرم سہ پہر عمران خان نے اس وقت کے صوبائی وزیر شاہ محمود حسین قریشی کویہ نصیحت بھرا جملہ ملتان کی معروف درسگاہ لاسال سکول کے کرکٹ گراؤنڈ پر بولا تھا۔ اس گراؤنڈ پر پیپسی کرکٹ کلینک کے نام سے ایک کیمپ لگا ہوا تھا اور عمران خان کا پیپسی کے ساتھ ابھرتے ہوئے کرکٹرز کی تلاش اور تربیت دینے کے مشن کا معاہدہ تھا۔ ۔۔
عمران خان اپریل 1991ء میں اپنی والدہ کے نام سے موسوم شوکت خانم کینسر ہسپتال کے تعمیراتی منصوبہ کی چندہ مہم کیلئے ملتان آئے ہوئے تھے ۔اور انہوں نے ملتان میں اپنے تین روزہ قیام کے دوران ایک شام پیپسی کلینک کرکٹ کیمپ کیلئے مختص کی تھی۔ عمران خان سہ پہر کے وقت لا سال سکول کرکٹ گراؤنڈ پہنچے تو اس ابھی کمسن کرکٹرز کی آمد شروع ہوئی تھی۔ شاہ محمود قریشی اس وقت پنجاب میں مسلم لیگی وزیراعلی غلام حیدر وائیں کی کابینہ کا حصہ تھے اور غلام حیدر وائیں نے شاہ محمود کو عمران خان کی ملتان میں کینسر ہسپتال چندہ مہم کیلئے پنجاب حکومت کا فوکل پرسن مقرر کیا تھا۔
لاسال سکول پہنچنے پر شاہ محمود نے کرکٹ کیمپ کے آغاز میں تھوڑی بہت تاخیر ہونے پر گرمی سے محفوظ رہنے کیلئے عمران خان کو مشورہ دیا کہ جب تک شروع ہوتا ہے آؤ لاسال کے یخ بستہ ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ جاتے ہیں جس پر عمران خان بولے کہ
گراؤنڈ سے دوستی لگا لو۔۔یہ دوستی آپ کو ہمیشہ صحتمند رکھے گی ” یہ کہہ کر شلوار قمیض میں ملبوس عمران خان آلتی پالتی مار کر لاسال کے سرسبز گراؤنڈ پر بیٹھ گئے اور شاہ محمود قریشی کو بھی ایئر کنڈیشنڈ کمرے کی بجائے گراؤنڈ پر بیٹھنا پڑا ۔
عمران خان نے کینسر ہسپتال چندہ مہم کے سلسلے میں ملتان کا یہ دورہ ایسے وقت میں کیا تھا کہ ورلڈ کپ 92 میں سال بھر رہ گیا تھا اس وقت کی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان اپنی والدہ سے موسوم شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کی تعمیر کیلئے چندہ مہم کے سلسلے میں دو بار ملتان تشریف لائے ۔یہ مارچ اور اپریل 1991ء کی بات ہے اور میں ان دنوں روزنامہ جنگ کیلئے صحافتی خدمات انجام دے رہا تھا۔ بیوروچیف محترم خان رضوانی صاحب نے مجھے اور سینئر فوٹوگرافر محترم صدیق بلوچ کو عمران خان کی ملتان میں چندہ مہم کی ڈیوٹی اسائن کی ۔ مارچ 1991ء میں عمران خان نے کینسر ہسپتال چندہ مہم کیلئے تعلیمی اداروں کا دورہ کیا اور عطیات اکٹھا کرنے کی مہم میں طلبہ و طالبات کو شامل کرنے کیلئے جذبہ خدمت بارے خصوصی لیکچر دیئے اور عطیات اکٹھا کرنے کیلئے رسید بکس تقسیم کیں ۔ پھر ایک ماہ بعد (اپریل 1991ء) میں طلبہ و طالبات کے تعاون سے اکٹھا کیا گیا نقد چندہ وصول کرنے کیلئے عمران خان دوبارہ ملتان تشریف لائے۔ اس چندہ مہم میں خاتون سیاستدان بیگم فیضان بھی کوارڈی نیٹر کی حیثیت سے عمران خان کے ساتھ ساتھ رہیں ۔ اور دوپہر کو بیگم فیضان نے اپنے داماد۔ کرکٹ آرگنائزر و نامور ماہر قانون مولوی سلطان عالم کی رہائشگاہ واقع گلگشت (جو کہ اب بزنس برانڈ پلازہ میں تبدیل ہو چکی ہے )پر عمران خان کے ساتھ ملتان کے کرکٹرز اور آرگنائزرز کے ساتھ ایک ملاقات کا اہتمام کیا۔۔ عمران خان اس وقت تک ورلڈ کپ 92 کے لیے پاکستان کے سکواڈ کیلئے نوجوان ابھرتے ہوئے باصلاحیت بیٹسمین انضمام الحق کو گرین سگنل دے چکے تھے اور انہوں نے انضمام کو اپنا وزن کنٹرول کرنے کی ہدایت بھی کی تھی مولوی سلطان عالم کی رہائش گاہ پر کرکٹرز کے ہمراہ ملاقات کیلئے انضمام الحق کے بڑے بھائی انتظار الحق بھی آئے ہوئے تھے۔انتظار الحق اپنے چھوٹے بھائی انضمام سے مشابہت رکھتے تھے لیکن سلم سمارٹ تھے ۔ عمران خان کی انتظار الحق پر نظر پڑی تو انہوں نے قدرے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھنا چاہا کہ آپ انضمام ہو ۔۔لیکن اس سے پہلے ہی انتظار بول اٹھے کہ میں انضمام نہیں ان کا بڑا بھائی ہوں ۔۔عمران نے زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ انتظار سے کہا کہ انضمام سے کہنا کہ وہ اپنا وزن کم کرے ۔
عمران خان نے اپنی کینسر ہسپتال چندہ مہم کے سلسلے میں کینٹ ملتان کے قریب برٹش دور کے مسیحی برادری کے کانونٹ سکول (نزد گراس منڈی) کا بھی دورہ کیا ۔ سکول میں چندہ مہم کے ساتھ ساتھ ان کی خصوصی توجہ کا محور کانونٹ سکول کی برٹش دور کی پر شکوہ عمارت بھی رہی اور وہ اس عمارت کی فن تعمیرات کا برطانیہ میں موجود قدیم عمارات کی ڈیزائننگ سے کرتے رہے عمران نے کہا کہ مجھے زیادہ اطمنیان بخش خوشی اس لیے محسوس ہو رہی ہے کہ کانونٹ سکول ملتان کی منیجمنٹ نے اس بلڈنگ کا خاص خیال رکھا ہوا ہے۔
عمران خان جو کہ اپنی خوش خوراکی کے حوالے سے بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے لیکن ایک وقت میں انواع و اقسام کے کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے بعد وہ خوراک کو ہضم کرنے کیلئے کیا ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں اس کا مشاہدہ مجھے 98_1997ء میں ہوا کہ جب وہ اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک تنظیمی دورہ کے سلسلے میں تین چار روز کیلئے ملتان آئے ہوئے تھے اور پیر خورشید کالونی موڑ سے سٹی ہسپتال کی طرف جاتے ہوئے اپنے ایک پارٹی رہنما کے گھر پر ڈنر میں مدعو تھے۔اس عشائیہ تقریب میں بار بی کیو۔ فش ڈشز۔ مٹن پلاؤ کھائج۔ سمیت دیگر انواع اقسام کے کھانوں کا اہتمام۔کیا گیا تھا۔ ۔۔ اس تقریب کی کوریج کیلئے میں روزنامہ نوائے وقت کے رپورٹر کی حیثیت سے گیا ہوا تھا۔ یہ عمران خان کے دورہ ملتان کا آخری عشائیہ تھا اور اگلے روزانہوں نے ملتان سے واپس لاہور روانہ ہونا تھا میں نے عمران خان سے انٹرویو کیلئے بات کی ہوئی تھی اس ڈنر میں عمران خان کو یاد کروایا تو انہوں نے اپنے قریب کھڑے ہوئے اپنی پارٹی کے لیڈر محترم میجر(ر) مجیب الرحمان کو کہا کہ اس عشائیہ کے بعد آپ کے گھر جانا ہے آپ ان کے ساتھ انٹرویو کا وقت طے کر لو۔ بعد میں عمران خان ڈنر کرنے میں مصروف ہو گئے اورانہوں نے عشائیہ کیلئے تیار کی گئی تمام ڈشز کے ساتھ ایسا پورا پورا انصاف کیا کہ دیکھنے والے سب دنگ رہ گئے۔ عشائیہ کے بعد عمران خان کے ہمراہ میں محتم مجیب الرحمٰن کی رہائش گاہ پہنچا ابھی انٹرویو کیلئے سوال جواب کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا کہ محترن مجیب الرحمٰن نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آج دوپہر کو رات کیلئے فروٹ کی فرمائش کی تھی ابھی لے آؤں؟ عمران خان نے اوکے میں اپنا سر ہلایا تو وہ پھل اور ایک بھری آئے وہ پھل دراصل پپیتا تھا عمران نے پپیتا اور بھری لے کر خود ہی کاٹنا شروع کردیا اور مجھے بھی کھانے کیلئے دیا اور کہا کہ ابھی ڈنر میں جتنا بھی کھا کر آیا ہوں یہ پپیتا سارا ہضم کردے گا۔۔
اگلی صبح کو پارٹی رہنما و معروف بزنس مین میاں عارف کی رہائشگاہ پر عمران خان کے اعزاز میں بوفہ ٹائپ پر تکلف ناشتہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ میڈیا سیشن کے بعد ناشتہ سیشن شروع ہوا تو عمران خان نے اپنا سفری بیگ منگوا کر اس میں سے شہد کی بوتل نکال لی اور کہا کہ شہد کی بوتل گھر ہو یا سفر میرے ناشتہ کی خاص غذا ہے اور شہد میں اپنے ساتھ رکھتا ہوں
عمران خان اور ملتان سے جڑی ہوئی یادیں : محمد ندیم قیصر کی گردو پیش کے لیے خصوصی تحریر
ایڈیٹر27 Views

