Browsing: صحافت

مغربی پاکستان کے سولہ اخبارات میں 6 مئی 1949 کو ’غداری‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ اداریہ شائع کیا گیا جس میں سول اینڈ ملٹری گزٹ پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے کسی اخبار نے اس شرمناک کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ صرف امروز کے مدیر چراغ حسن حسرت نے یہ اداریہ شائع کرنے سے انکار کیا لیکن ان کی مزاحمت بھی چوبیس گھنٹے میں دم توڑ گئی۔

ہم نے متحدہ ہندوستان کے آخری دس برس میں جی توڑ کر مقدمہ لڑا، مقدمہ جیت گئے اور تاریخ ہار گئے۔ تاریخ کی اسی شکست کا تزلزل 1973 کے دستور کو روز اول سے مرتعش کیے ہوئے تھا۔ بظاہر ایک جمہوری حکومت دستور کے مطابق اپنی میعاد مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن کہیں کوئی تھا جسے صدارتی نظام حکومت اور قومی وسائل پر فرمان شاہی کے ذریعے قدرت مطلق کی آرزو مچلتی تھی۔

ان کے ہاں وطن عزیز کو مثبت راہوں پر چلانے کا کوئی واضح ایجنڈا اور حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ غالباََ اسی باعث ہمارے ہاں نوجوانوں میں ’’غیر معمولی حد تک مقبول‘‘ تصور ہوتی تحریک انصاف اپنے اہداف کے حصول میں مسلسل ناکام ہورہی ہے۔

روہی ٹی وی نے جہاں وسیب کے محرومیوں اور مسائل کو حکامِ بالا تک پہنچایا، وہاں ملتان کے تاریخی و ثقافتی حسن اور سرائیکی شاعری و ادب کو بھی ڈیجیٹل اسکرینز کے ذریعے ایک نئی زندگی دی۔ملک بھر کے صحافیوں نے روہی ٹی وی کی بندش پر احتجاج کیا ہے اور اسے صحافیوں کا قتلِ عام قرار دیا ہے ۔

چند روز قبل مطیع اللہ جان نے ایران امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان آئے غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب رکھی تھی جس میں انہوں نے حکومت پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مقدمات بنانے اور ان کے خلاف کاروائیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینل نے انہیں حکومتی دباؤ پر ملازمت سے فارغ کیا۔

یہ ملکی عدالتی نظام کا نقص ہے کہ غلط اور بلاجواز طورسے گرفتار کیے گئے لوگوں کو بھی اپنا مؤقف درست ثابت ہونے کے باوجود عدالتیں مقدمہ خارج نہیں کرتیں بلکہ ملزم ہی کو مالی بوجھ برداشت کرتے ہوئے وکیل کی فیس کے علاوہ زر ضمانت کا بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں عدالت نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کے ایک غلط فیصلے کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود مقدمہ جاری ہے اور متعلقہ صحافی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے پیشیاں بھگتنا ہوں گی۔