یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ جب فریقین ایک دوسرے کی طاقت کے بارے میں بدگمانیوں سے باہر نکل آئیں تو سفارت کاری کا راستہ از خود کھل جاتا ہے۔
Browsing: سید مجاہد علی
کاہنہ کے ٹیوشن سنٹر کا حادثہ تو یہ خبر دیتا ہے کہ مجبور اور لاچار ماں باپ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو وہ بنیادی تعلیم دلانے کے لیے کیسے اسکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں، جو درحقیقت حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پانی کے سوال پر دونوں ملکوں کے درمیان شروع ہونے والی کوئی جنگ مکمل تباہی کے بغیر ختم نہیں ہوگی۔ اس جنگ کی لپیٹ میں برصغیر ہی نہیں دیگر ممالک بھی آسکتے ہیں۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ اسے جتنی جلدی پڑھ کر سمجھ لیا جائے دنیا کے امن کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔
یہ پہلو قابل غور ہونا چاہئے کہ ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے عرب ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے کے بارے میں دورہ عراق کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے یہ بات ا س تنازعہ کے ثالث پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران نہیں کہی اور نہ ہی دیگر اہم عرب ممالک کے ساتھ گفتگو میں اس قسم کی کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
تاریخ ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں ہوتی بلکہ اگر صرف عسکری قوت پر انحصار کیا جائے تو عام طور سے مسائل کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ کسی قابل قبول معاہدے کے بغیر نہ تو ایران پر سے تمام پابندیاں ختم ہوں گی اور نہ عرب ممالک کے لیے خود سر ایران کی بالادستی ماننا ممکن ہوگا۔ یہ مسئلہ فتح کے شادیانے دھیمے کرکے بقائے باہمی کے اصول کے تحت علاقے کے تمام ملکوں کے ساتھ مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنے سے ہی حل ہوسکتا ہے۔
بہتر ہوتا کہ ایران پر سے پابندیاں اٹھنے کے بعد پاکستانی حکومت ایران سے تیل کی خریداری کا اعلان کرتی تاکہ اس کی درآمدی قیمت کم ہو سکتی
مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشوں کے حصول کے لیے احتجاج شروع کیا اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر پر امن احتجاج کا راستہ ترک کرکے سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم اور ٹکراؤ کاراستہ اختیار کیا۔ اسی تنازعہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بیشتر لیڈر گرفتار ہوئے۔
ملک اور اس کے لوگوں کے سروں پر سانحہ 9 مئی کا بھوت مسلط ہے۔ عام لوگ اس معاملہ کی حقیقت سے نہ تو آگاہ ہیں اور نہ ہی اصل حقائق ان تک پہنچانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
عمران خان تین سال سے زائد مدت سے جیل میں بند ہیں۔ عدالتی حکم کے باوجود 6 ماہ سے ان کے وکلا و اہل خاندان کو ملاقات سے روکا جارہا ہے۔ ایسے یک طرفہ اور شدت پسندانہ انتظامی اقدامات ملک میں سیاسی ہم آہنگی کو شدید متاثر کررہے ہیں۔
