سوشل میڈیا پر دکانیں چمکانیں والوں سے قطع نظر اب ملک کے ممتاز تجزیہ نگار، صحافی اور اندر کی خبر کھوج کر باہر نکال لانے والے…
Browsing: سید مجاہد علی
پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر نے سربراہی اجلاس کی جو ابتدائی تصویر شائع کی، اس میں بھارتی وزیر اعظم کی تصویر کاٹ دی گئی تھی۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس پر تبصروں اور حرف زنی کے بعد میں مکمل تصویر جاری کی گئی۔ اس قسم کا طرز عمل سردمہری اور فاصلوں میں اضافہ کا سبب بنتا ہے حالانکہ بوجوہ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے اور باہمی تعلقات میں حائل دیواریں گرانے کی ضرورت ہے۔
ناروے کے مرد و زن ، چھوٹے بڑے، مقامی یا تارکین وطن آج رنجیدہ و افسردہ ہیں۔ آج علی الصبح گزشتہ 35 برس سے ملک کا…
وزیر اعظم نے سیکرٹری صحت کو معطل تو کردیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا کیا قصور تھا ؟ کیا وہ تنہا ہی اس سانحہ کے ذمہ دار تھے یا وزیر اعظم کو کوئی چہیتا وزیر بھی جواب دہ ہے؟
تحریک انصاف کی بجائے حکومت اور اس کے نمائندوں نے اس سوال پر سیاست کی اور ہر لحظہ بدلتے بیانات کے ذریعے پورا ہفتہ بے یقینی کی فضا قائم رکھی۔ اس کا نقصان بنیادی طور پر حکومت ہی کو برداشت کرنا پڑے گا لیکن کسی سرکاری سیاسی عہدے دار میں اس کا اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔
77 سال تک پاکستان کو اسلامی ریاست بنا کر عوام کی ضرورتیں پورا کرنے کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔ فوجی آمر تو اقتدار سنبھالتے ہوئے اپنے فعل کو درست قرار دینے کے لیے یہ نعرہ لگاتے رہے لیکن دھیرے دھیرے تمام سیاست دانوں نے بھی انہی نعروں میں پناہ لینے کو اپنی سیاست کی کامیابی کے لیے ضروری سمجھا۔
تحریک انصاف کے بانی رہنما کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے خاص طور سے جھوٹ پھیلانے والے ،بے بنیاد خبریں عام کرکے ملک میں مزید مایوسی و پریشانی پیدا کررہے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ اس صورت حال کا مزہ لے رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اس کی قیادت ایک دوسرے سے الجھنے میں زیادہ مصروف ہے۔
پاکستان اگر بھارت کے ساتھ کسی تنازعہ میں ملوث ہوتا ہے تو معاہدے کے تحت دیگر ملکوں کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کرسکتا بلکہ ترکیہ اور سعودی عرب خود مختارانہ طور پر یہ طے کرنے کے مجاز ہوں گے کہ کیا واقعی پاکستان پر حملہ ہؤا ہے اور کیا انہیں بھی اس جنگ میں ملوث ہونا چاہئے۔
جنگ بند ہونے اور حالات معمول پر آنے کی صورت میں پاسداران کے جنرلز شاید من مانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ خاص طور سے اگر انہیں ’قوت‘ فراہم کرنے والا رہبر اعلیٰ بھی کوئی فیصلہ کرنے یا عوام کو شکل دکھانے کے قابل نہیں ہے تو پاسداران انقلاب کی ’مجبوری‘ قابل فہم بھی ہوجاتی ہے۔
بعض تجزیہ نگار یہ بھی قیاس کررہے ہیں کہ جلد ہی قطر اور مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہوجائیں گے۔ اور جب ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ جنگ کی دھول بیٹھ جائے گی تو ایران بھی ایسے معاہدے میں شامل ہوکر علاقائی سلامتی میں کردار ادا کرنا چاہے گا۔
