سب کی طرح امریکہ اور ایران پر بھی واضح ہورہا ہے کہ جس تنازعہ میں انہوں نے سینگ پھنسائے ہیں، اس سے باہر نکلنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ اللہ کا شکر کرنا چاہئے کہ دونوں ملک بہت زیادہ خرابی سے پہلے ہی امن کو موقع دینے کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔ اس میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار نہیں ہے۔
Browsing: سید مجاہد علی
پاکستان اسی وقت سعودی عرب کی امداد کے لیے جاسکتا ہے اگر کوئی ملک یا گروہ براہ راست اس پر حملہ کرے۔ اگر حوثی سعودی عرب پر حملہ آور نہیں ہوتے اور محض دھمکیاں دیتے ہیں تو کیا پھر بھی پاکستان اس معاہدے کے تحت حوثیوں کی طاقت کچلنے میں آگے بڑھے گا؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بیٹا اپنے باپ کے جنازے میں لمحہ بھر کے لیے بھی شریک نہ ہو اور نہ ہی اس کا کوئی آڈیو یا ویڈیو سامنے آسکے۔ یہ طے ہونا باقی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر کون ایران اور دنیا کو دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔
ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو اپنی وزارت عظمی کے 12 برس میں پہلی بار حقیقی عوامی احتجاج کا سامنا ہورہا ہے ۔ اس احتجاج میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
ازراہ تفنن کہا گیا ایک فقرہ اب بھارتی سیاست کی ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جو نریندر مودی کی طاقت ور کرسی کوہلا سکتی ہے۔ لگتا ہے ملک کے سب’ کاکروچ ‘ اب جمع ہورہے ہیں۔
نورین خان کی دلیل یہ ہے کہ پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے ’جنگ کا ڈرامہ‘ رچایا گیا تھا اور پاکستانی فوج کو ’نام نہاد فتح‘ دلوائی گئی تھی تاکہ پاکستانی فوج کے وقار میں اضافہ ہو اور وہ اس کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ تو سب سے پہلا سوال تو یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جنگ کسی دس بیس سالہ منصوبہ کا حصہ تھی؟ کیوں کہ پاکستان نے تو ابھی تک نہ اسرائیل کو تسلیم کیا ہے بلکہ اس کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا۔
پاکستان میں نام نہاد ہائبرڈ نظام حکومت نے ملکی سیاسی منظر نامہ میں غیر یقینی پیدا کی ہے لیکن ایران امریکہ جنگ اور تیل کی بڑھتی…
سوال دینی کتب کی خریداری کے بارے میں تھا، اس لیے اسے آسانی سے حرام قرار دے کر ملکی حکومت کو بے بس کرنے کی شعوری کوشش کی گئی جو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایک طرف ٹرمپ خاندان کو راضی کرنے کا جتن کررہی ہے تو دوسری طرف بعض زعما اس کاروبار سے اپنی دولت میں اضافہ کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
اگر ایران نے عرب ممالک پر حملوں پر کنٹرول نہ کیا تو بعض ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی اس تنازعہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ لڑائی پاسداران انقلاب کی طاقت سے زیادہ اسرائیلی حکمت عملی کی کامیابی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
(
خامنہ ای کے جنازے پر آنسو بہانے والوں کا ایک سمندر موجود تھا لیکن اس سوگ کو پاسداران کی شدت پسندی کا تصدیق نامہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ نہ ہی ان جلوسوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوکر بھی موجودہ رجیم کا ساتھ دیتے رہیں گے۔
پاکستان میں خیرات کی ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لوگ خیرات دے کر یا لے کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ کوئی یہ جاننا نہیں چاہتا کہ خیرات میں بانٹے جانے والے وسائل کو پیداواری سہولتوں میں صرف کرکے روزگار کے لاتعداد مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ سرکاری بجٹ میں ’بے نظیر انکم سپورٹ‘ پروگرام اس خیرات ثقافت کی نمائیندہ مثال ہے۔ اسی طرح پاکستانی اشرافیہ بھی درحقیقت اسی ’خیرات کلچر‘ کا حصہ ہے۔
