Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, جولائی 22, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پیٹرول کی قیمت طے کرنے میں آئل کمپنیوں کا کیا کردار رہا ؟ ۔۔ برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • ڈاکٹر وزیر آغا نقاد ،محقق ، شاعر ۔۔ ایک ہمہ جہت شخصیت : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری
  • میسی کا جادو نہ چلا : سپین دوسری بار فٹ بال کا عالمی چیمپئن بن گیا : ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کا ’شرمناک رویہ، مکے بھی مارے
  • پیٹرول کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ، عوام کو فائدہ ہو گا یا نقصان ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
  • عمران خان کی بہن نورین خان کا افسوسناک بیان ، نتائج کیا ہوں گے ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • جاوید ہاشمی کے خلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج
  • 6 گیندوں پر 6 چھکے مارنے والے پہلے کرکٹر سرگیری سوبرز انتقال کرگئے
  • ہائبرڈ نظام ۔۔ بے یقینی ، اندیشے اور بے خبر حکومت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ڈیزل 31 روپے، پیٹرول 5 روپے لیٹر مہنگا : روزانہ نئی قیمت مقرر کرنے کا اعلان
  • ملا کھد بدھ ، گرانی اور سانڈ کے میمنا بننے کی کہانی : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»صرف الزامات کافی نہیں : آگےبڑھنے کی ضرورت ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
تجزیے

صرف الزامات کافی نہیں : آگےبڑھنے کی ضرورت ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ

ایڈیٹرجون 28, 202613 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
new logo mujahid
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی اور لاقانونیت پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے مئی کے دوران جھڑپوں میں شکست خوردہ ملک قرار دیا ہے۔ اس بیان کے دو نوں پہلو قابل توجہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر پاکستان بھارت پر پراکسی گروپوں کے ذریعے بدامنی پیدا کرنے کا الزام لگاتا ہے تو دوسری طرف بھارت بھی پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست کہتا ہے۔ اور سرحد پار دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔
پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس کے علاوہ مئی کے دوران بھارت کی شکست اور پاکستان کی فتح کی کہانی بڑھا چڑھا کر بیان کی۔ زیب داستان کے لیے یہ کہانی خوشگوار ہوسکتی ہے لیکن اسے بار بار دہرانے سے ملک کو درپیش مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ دوسری طرف اگر بھارتی میڈیا یا سرکاری دعوؤں کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں بھی مئی کی جھڑپوں میں بھارت کی کامیابی کے شاندار دعوے نوٹ کیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح یہ معاملہ بھی دو طرفہ دعوؤں پر مشتمل ہے۔
اس نشاندہی کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی یا تخریب کاری میں بھارتی و افغان ہاتھ ملوث نہیں ہیں لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان کا ذکر کرنے سے تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو ان اقدمات کے بارے میں بتانا چاہئے جو ان مشکلات سے نکلنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ یہ تو ہے کہ ملک کے تمام متاثرہ علاقوں کو جن میں خیبر پختون خوا اور بلوچستان خاص طور سے شامل ہیں، کو تقریباً فوج کی تحویل میں دے دیاگیا ہے۔ اس طرح امید کی جاتی ہے کہ دہشت گردوں کوہلاک کرکے امن و مان بحال ہوجائے گا۔ تاہم تاریخ ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں ہوتی بلکہ اگر صرف عسکری قوت پر انحصار کیا جائے تو عام طور سے مسائل کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے یہ پہلو بھی نوٹ کرنا چاہئے کہ بلاشبہ کسی سانحہ میں ملوث لوگوں کو افغانستان میں تربیت ملتی ہوگی یا انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسیاں فنڈز فراہم کرتی ہوں گی لیکن کوئی بھی ایجنسی اپنی پراکسیز کو فعال کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی مدد و تعاون کی محتاج ہوتی ہے۔ کوئی بھی ملک یا اس کی ایجنسیاں باہر سے اپنے ایجنٹ بھیج کر مقامی لوگوں کی مدد و تعاون کے بغیر ہلاکت خیز کارروائیاں کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ حکومت کو ہمسایہ ملک پر الزام تراشی کرتے ہوئے کم از کم یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا وجہ ہے دشمن طاقتوں کو پاکستان کے اندر سے پاکستان کو کمزور کرنے والی کارروائیوں کے لیے مددگار مل جاتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
اس کی ایک وجہ بلاشبہ مالی فوائد ہوں گے۔ ہر ملک میں ایسے وطن فروش موجود ہوتے ہیں جو ذاتی مفادکے لیے قومی سکیورٹی کا سودا کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔لیکن جس وسعت اور تسلسل سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں، ان کی روشنی میں صرف یہ عذر کافی نہیں ہوسکتا۔ اس کی دوسری بڑی وجہ مقامی طور سے لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی، ناپسندیدگی، حکومت سے ناراضی اور اپنے بنیادی حقوق سے محرومی کا احساس ہے۔ پاکستان کے چھوٹے علاقوں میں یہ احساس کئی دہائیوں سے پروان چڑھتا رہا ہے لیکن کسی بھی حکومت نے اس کا نوٹس لینے اور اس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ ایک طرف دشمن پر الزام تراشی سے کام چلایا جاتا ہے تو دوسری طرف ملک کے اندر حقوق کی بات کرنے والے گروہوں یا افراد کو ملک دشمن قرار دے کر ان کی آوازیں دبانے کی کوشش ہوتی ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے یہ دل شکستہ لوگ یا تو خاموش ہوکر بیٹھ رہتے ہیں یا بعض اوقات قانون شکن قوتوں کا آلہ کار بننے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ بلوچستان میں سال ہا سال سے یہ صورت حال موجود رہی ہے لیکن کوئی بھی حکومت یاریاستی ادارہ لاپتہ افراد کے بنیادی مسئلہ کا شافی حل بھی تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ بھارت کو مورد الزام ٹھہرانے سے پہلے وزیر اعظم کو اس صورت حال پر بھی غور کرنا چاہئے۔ اور جانچنا چاہئے کہ دشمن کی تخریب کاری روکنے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہوسکتے ہیں۔
ملک میں عسکری گروہوں کے دنگا فساد یا دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بلاشبہ فوجی طاقت کا استعمال ہی واحد فوری حل ہوسکتا ہے لیکن ملک کے وسیع علاقوں کو فوج کے حوالے کرنے کا یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ وہاں بنیادی حقوق نظر انداز ہوتے ہیں اور سول زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ قومی میڈیا میں تو حکومت کے بیانات یافراہم کردہ معلومات کی وجہ سے لوگوں کو دشمن کے نازیبا اور افسوسناک ہتھکنڈوں کا علم ہوتا رہتا ہے لیکن جن علاقوں میں میڈیا عام نہیں ہے اور جدت کے اس دور میں بھی جو علاقے ماڈرن مواصلاتی سہولتوں سے محروم ہیں، وہاں کے عوام تک حکومت کا پیغام تو نہیں پہنچتا لیکن تخریبی عناصر کی پھیلائی ہوئی معلومات ضرور عام ہوجاتی ہیں۔ کیوں کہ قومیت پسندی یا علاقائی خودمختاری یا قبائیلی تعلق کی بنیاد پر یہ عناصر کسی نہ کسی طرح دیہات ور دور دراز علاقوں میں لوگوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ حکومت فوج کے مسلسل استعمال، طاقت پر بھروسہ کرنے اور مواصلاتی سہولتیں عام نہ کرنے کے سبب ایسی رسائی حاصل نہیں کرپاتی۔ اس کمزوری کی ذمہ داری دشمنوں کی بجائے، اپنی نالائقی اور غلط ترجیحات پر عائد ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کو ہمسایہ ملک پر الزام لگاتے ہوئے اس کا ادراک بھی ہونا چاہئے۔
بھارت ایک بڑا اور طاقت ور ملک ہے۔ اس نے آپریشن سندور کاا آغاز کیا اور ڈھٹائی سے اب تک اسے جاری رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے پاکستان کے سر پر ایک نئی جنگ کی تلوار مسلسل لٹک رہی ہے اور حکومت اپنے قلیل وسائل کے باوجود فوج کے اخراجات بڑھانے پر مجبور ہے۔ لیکن دیگر جنگوں کے علاوہ مئی کے دوران ہونے والی جھڑپوں سے بھی یہی واضح ہؤا ہے کہ یہ مسئلہ الزام لگانے یا ایک دوسرے کو میدان جنگ میں نیچا دکھانے سے حل نہیں ہوگا۔ بھارت شاید جان بوجھ کر پاکستان کو مسلسل جنگ کے ماحول میں دھکیلنا چاہتا ہے تاکہ وہ دیگر عوامی ضروریات پر توجہ نہ دے سکے۔ کسی بھی حکومت کو معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ایران امریکہ معاہدہ میں پاکستان کی سفارتی مہارت کا پوری دنیا نے مشاہدہ بھی کیا اور اس کا اعتراف بھی کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کو بھی بتانا چاہئے کہ وہ ملک کی اس صلاحیت کو بھارت و افغانستان کے ساتھ مسائل حل کرنے کے لیے کیسے استعمال کریں گے؟
بدقسمتی سے باہمی مذاکرات کا راستہ صرف بھارت نے بند نہیں کیا بلکہ پاکستان بھی اب ہمسایہ ملک کے ساتھ کسی مواصلت یا سفارتی کاوش کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہے۔ مئی کی جھڑپوں کے دوران ایک دوسرے پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں ، وہ بدستور موجود ہیں۔ اور جنگ رکنے کے باوجود باہم مواصلت کے راستے تلاش کرنے کا کام نہیں ہؤا۔ پاکستانی لیڈروں کو سوچنا چاہئے کہ اگر ایران اور امریکہ جیسے دشمن بات چیت اور مفاہمتی یادداشت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تو پاکستان اور بھارت کیوں ایسے ہی راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔ یہ دونوں ملک تو ایک دوسرے کے ہمسایہ میں واقع ہیں اور ان کے درمیان متعدد ثقافتی و سماجی روایات بھی سانجھی ہیں۔
پاکستانی لیڈروں نے امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی کو دوستی میں بدلنے کے لیے جو مہارت اور چابکدستی استعمال کی ہے، اس کا کچھ مظاہرہ بھارت کے ساتھ معاملات حل کرنے میں بھی ہونا چاہئے۔ کسی سفارتی پیش رفت کے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات درست ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے ملک کے گوناں گوں مسائل کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

تجزیہ پاک فوج
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleکراچی میں رینجرز کے دفتر پر حملہ :دھماکے کے بعد دو گھنٹے سے فائرنگ جاری
Next Article محرم الحرام میں قابلِ اعتراض مواد دکھانے پر جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

بلوچستان : چار دن میں شدت پسندی کے تین واقعات : 11 فوجی ، 27 پولیس اہلکارجان سے گئے ، 54 شدت پسند بھی مار دیے ۔۔ آئی ایس پی آر

جولائی 8, 2026

پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں نہیں ہوتی؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

جولائی 5, 2026

پاک بھارت مذاکرات کا امکان ہی نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ

جولائی 3, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پیٹرول کی قیمت طے کرنے میں آئل کمپنیوں کا کیا کردار رہا ؟ ۔۔ برملا / نصرت جاوید کا کالم جولائی 22, 2026
  • ڈاکٹر وزیر آغا نقاد ،محقق ، شاعر ۔۔ ایک ہمہ جہت شخصیت : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری جولائی 21, 2026
  • میسی کا جادو نہ چلا : سپین دوسری بار فٹ بال کا عالمی چیمپئن بن گیا : ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کا ’شرمناک رویہ، مکے بھی مارے جولائی 20, 2026
  • پیٹرول کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ، عوام کو فائدہ ہو گا یا نقصان ؟ شہزاد عمران خان کا کالم جولائی 19, 2026
  • عمران خان کی بہن نورین خان کا افسوسناک بیان ، نتائج کیا ہوں گے ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 19, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.