Browsing: سید مجاہد علی

ٹرمپ گزشتہ چند روز سے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ پابندیاں ہٹانے اور حتمی امن کے لیے ایران کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنا پڑے گا۔ البتہ مفاہمتی یادداشت میں تو ایسا کوئی تقاضہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مفادات کے ٹکراؤ اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس تاریخی کامیابی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدارامن اب بھی ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔

بے شمار ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا میں یک بیک موجودہ حکومت کے جانے کی باتیں بلکہ اس کے وداع کی تاریخ تک کا اعلان کیامعنی رکھتا ہے۔ کیا اس قسم کے مباحث کا مقصد جمہوریت اور موجودہ آئینی نظام پر لوگوں کے رہے سہے اعتماد کو ختم کرنا ہے

ایرانی قیادت کوخطے کی ناانصافیاں اور امریکی تسلط ختم کرنے کی بجائے اپنے عوام کی بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بنیادی وسائل سے محروم ایرانی عوام کی صورت حال کو پیش نظر رکھا جائے تو ایران مزید ایک دن بھی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

ایران نہ صرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے وجود کو ناجائز قرار دے کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور امن کی کوششوں کے درمیان اس دعوے کو دہرانا ضروری سمجھا ہے۔

یہ اشارے بھی موجود ہیں کہ بعض سیاسی عناصر ایکشن کمیٹی کو اپنے گروہی سیاسی مفادات کے لیے آلہ کار بنائے ہوئے ہیں۔
آزاد کشمیر حکومت کو کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کو رہا کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور ایکشن کمیٹی بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں یہ تسلیم کرلے کہ آئیندہ منتخب اسمبلی اس سوال پر حتمی آئینی فیصلہ کرے گی۔ اس وقت تک احتجاج ملتوی کرکے آزاد کشمیر کی سیاست کو کسی بڑے بحران سے بچایا جائے۔

تجارتی خسارہ روز افزوں ہے اور کوئی سرکاری حکمت عملی اس میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی اور نہ ہی علاقائی یا عالمی حالات کی صورت حال سے یہ قیاس کیا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں ملکی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔

یہ امر باعث حیرت ضرور ہے کہ اپنی حمایت میں اسرائیل غیظ و غضب کا نشانہ بننے والی حزب اللہ کو ایران ، امریکہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کیوں فراموش کیے ہوئے ہے؟ کیا تہران کے لیڈر اب مشرق وسطیٰ میں موجود اپنی پراکسیوں کی حمایت سے دست بردار ہورہے ہیں؟

امریکہ ایران کا بلاکیڈ ختم کرنے اور جوہری ہتھیاروں پر حتمی معاہدے کے لیے دوسرے مرحلے میں اتفاق رائے پر بھی راضی ہے۔ اس کے باوجود تہران کی طرف سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے جوہری ہتھیاروں کا معاملہ موضوع بحث ہی نہیں۔ حالانکہ یہ سارا تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام ہی کی وجہ سے شروع ہؤا تھا