ایم اے شکور صاحب سے میری پہلی ملاقات 1979 ء میں ہوئی تھی ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں ادب کے میدان میں صرف ایک…
Browsing: رضی الدین رضی
عید خوشیاں تو لاتی ہےلیکن کچھ زخم بھی تازہ کر دیتی ہے ۔ ہر مرتبہ ہم اپنے ان پیاروں کو یاد کرتے ہیں جو پچھلے برس…
ملتان پریس کلب میں کوئی ایک تو ایسا ہوتا تھا جس کےنظریاتی ہونے کا ہمیں آنکھیں بند کر کے یقین تھا ۔ جیسے ہمیں خود پر…
ڈاکٹر جواز جعفری کی اس کتاب پر اگر ایک جملے میں بات کرنا ہو تو صرف یہی کہنا کافی ہو گا کہ جواز جعفری نے مجھے نثری نظم کا جواز فراہم کر دیا ہے
فتح اپنے سامنے ہاتھ ہلاتی بے نظیر بھٹو کودیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتاہے کہ اسے تومعلوم ہی نہیں تھاکہ وہ جس دشمن کو نشانہ بنانے آیا ہے اور جس کی موت کے عوض اسے جنت میں جانا ہے وہ دشمن تو وہی بے نظیر ہے جس سے اس کی ماں محبت کرتی ہے
اس ڈرامے نے جبر کے ماحول میں لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھااورانہیں بتایا کہ چوہدری حشمتوں کی حشمت و ہیبت کاانجام کیاہوتاہے اور وقت کا بہاؤ ان کے جعلی رعب ودبدبے والی حویلیوں کو کس طرح خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے اور پھرہم نے آنے والے دنوں میں ایسی حویلیوں کو نیست ونابودہوتے بھی دیکھا۔
ہرسال کی طرح2024بھی ہمیں بہت سے دکھ دے گیا۔ان میں کچھ دکھ ذاتی اور کچھ اجتماعی ہیں ۔ کچھ ہستیاں ایسی ہیں جنہوں نے ہماری زندگیوں…
حیدر جاوید سید صاحب کے ساتھ جب بھی ملا مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے ہی قبیلے کے کسی فرد سے مل رہا ہوں ۔ ایک…
برادرم علی سخن ورکو ہم اس زمانے سے پڑھ رہے ہیں جب وہ روزنامہ امروز کے سنڈے میگزین ( جواس زمانے میں ”جمعہ میگزین“ کہلاتا تھااور…
یہ دس بارہ برس پہلے کی بات ہے اب ٹھیک طرح یاد نہیں کہ سال کون سا تھا ۔ مسعود کاظمی مرحوم ہر سال محرم الحرام…
