Browsing: عالمی خبریں

سینیئر عہدیدار نے رائٹرز کو مزید بتایا کہ امریکا کی ملاقات کی درخواست پر ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی امریکی درخواست کا جواب دیا گیا ہے۔
رائٹرز کے بقول ایران کے سینیئر عہدیدار نے اس مجوزہ ملاقات کے مقام یا اس سے متعلق مزید تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان گہرے، تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہےکہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو 5 دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔

وزارت نے زور دیا کہ یہ حملے بین الاقوامی معاہدوں، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے احترام کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اسلامی اقدار و اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسماعیل خطیب نے 1979 کے انقلاب کے بعد 1980 میں پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔

دوسری جانب اس دعوے پر ایران کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کے باعث اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن کی تصدیق بعد میں مختلف ذرائع سے ہوتی رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔

اسرائیلی پولیس فورس نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک دھماکے کے بعد ایک شخص کو لڑکھڑاتے ہوئے سڑک سے دور جاتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ملبہ چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔
کلسٹر ہتھیار کے ذریعے راکٹ، میزائل یا توپ کے گولے سے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے بم (بمبیٹس) بکھیر دیے جاتے ہیں، جو ایک وسیع علاقے تک پھیل جاتے ہیں۔

اے ایف پی کے ایک صحافی نے سفارتخانے کے احاطے سے سیاہ دھواں بھی اٹھتے دیکھا ہے۔
سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایک ڈرون حملے میں سفارت خانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ ایک اور سکیورٹی ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون سے حملہ کیا گیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیٹے کا دعویٰ ہے کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم وہ ’محفوظ‘ ہیں۔
یوسف پزشکیان کی جانب سے ٹیلی گرام پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ انھیں بھی ایسی ’اطلاعات ملی ہیں‘ کہ نئے رہبرِ اعلیٰ زخمی ہیں۔
’میں نے متعدد دوستوں سے پوچھا جن کے رابطے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ: ’خدا کے فضل سے، وہ محفوظ ہیں اور پریشانی کی کوئی بات نہیں۔‘
خیال رہے کہ اس سے قبل بی بی سی نے خبر دی تھی کہ نئے رہبرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔

وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے صحافی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کے امریکی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات درست ہیں؟
جس پر امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کہ مجتبی خامنہ ای زخمی ہیں یا نہیں۔
انھوں نے مشورہ دیا کہ مجتبی خامنہ ای عقلمندی کا مظاہرہ کریں اور صدر ٹرمپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں۔