Browsing: عالمی خبریں

انھیں منتخب کرنے والے 88 رکنی علما کے ادارے کے لیے یہ دراصل بقا کی لڑائی ہے۔
وہ اپنے والد تک رسائی دلانے کے لیے جانے جاتے تھے اس لیے وہ لازماً نظام کے اندر ہونے والے بہت سے معاملات سے بخوبی واقف ہوں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای بنیادی طور پر دفتر میں موجود شخصیت تھے۔ چاہے وہ پہلے اُس کرسی پر نہیں بیٹھتے تھے مگر اب وہی میز کے پیچھے موجود ہیں۔

تہران صوبے کے مغرب میں واقع کاراج سے 30 سال کے ایک شخص نے بتایا: ’یہ ایک سرخ روشنی سے شروع ہوا جس نے ہر چیز کو روشن کر دیا۔ اس کے بعد ایک دھماکے کی لہر آئی جس نے دروازے ہلا کر رکھ دیے۔ پھر آسمان دوبارہ روشن ہوا اور ایک بہت بڑا سرخ رنگ کا بادل نمودار ہوا۔‘
ایک 20 سالہ خاتون بتاتی ہیں کہ پورا شہر دھوئیں میں چھپ گیا تھا۔ ’آپ جلنے کی بو محسوس کر سکتے ہیں۔‘