واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب سے کُچھ دیر قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایک مختصر فون کال میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’صورتِ حال ایران کے ساتھ بہت اچھی جا رہی ہے۔‘
یہ بیان صدر کے اس پہلے سوشل میڈیا پیغام کے بعد آیا ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور امریکہ ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کے معاملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہا ہے۔
تاہم دوسری جانب امری صدر کے اس بیان کے کُچھ ہی لمحات کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس بات کی تردید کی کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی بات چیت ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہےکہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 2 دنوں کے دوران نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور حتمی حل تلاش کرنا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان گہرے، تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہےکہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو 5 دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ جاری ملاقاتوں اور بات چیت کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حکام سے یہ مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے۔
خیال رہے کہ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز 48 گھنٹوں میں کھولنے کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمزنہ کھولی تو پاورپلانٹس پر حملے کریں گے۔ ٹرمپ کی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کی48گھنٹے کی ڈیڈ لائن آج ختم ہو رہی تھی۔
ایران نے جواب میں کہا تھا کہ حملے کا جواب خلیجی ملکوں کے پاور پلانٹس اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس پر حملوں سے دیں گے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہےکہ ٹرمپ کا یہ اعلان آپریشن ایپک فیوری کے خاتمے سے متعلق بات چیت کی پہلی باقاعدہ تصدیق ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
ایران کے ساتھ معاملات بہتر سمت میں بڑھ رہے ہیں: امریکی صدر کا دعویٰ ۔۔ایران کی تردید
ایڈیٹر7 Views

