ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی ٹرین کی ایک بوگی سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔
Browsing: علاقائی رنگ
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابریوسفزئی نے بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چاروں افراد ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ سے بازیاب ہو گئے ہیں تاہم انھوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق مغوی آفیسر اور اہلکار کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاحال سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں گذشتہ چند دنوں سے قومی شاہراہوں پر معدنیات لے جانے والے گاڑیوں پر حملوں اور اغوا کے واقعات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ گذشتہ شب ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے سے پولیس کے ایک ایس ایچ او سمیت تین افراد کو اغوا کرلیا گیا۔
ضلع کرم سے یہ اطلاع بدھ کے روز سامنے آئی تھی کہ وسطی کرم کے علاقے مناتو میں دو شدت پسندوں گروہوں کے درمیان جھڑپ میں 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
مقامی پولیس ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ اس جھڑپ کے بارے میں مزید بتایا گیا کہ یہ شدت پسندوں کے دو مقامی اور ذیلی گروہوں ’کاظم گروپ‘ اور ’امتی گروپ‘ کے درمیان ہوئی جس میں مبینہ طور پر امتی گروپ کے کمانڈر ممتاز سمیت 18 افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق امتی گروپ کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ امتی گروپ کے شدت پسندوں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں بڑا جانی نقصان ہوا۔
ادھر ضلع چاغی میں پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے چہتر کے مقام پر حملہ کرکے آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا۔
ادھر ضلع نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں بم کے ایک دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔
ارشد حسین ارشد کے صاحبزادے عادل ذیشان قریشی نے کہا کہ انہوں نے بہت مشکل وقت گزارا،انتھک محنت کی لیکن ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا ،ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم معاشرے میں بہتر زندگی گزاررہے ہیں۔ سلیم قیصر نے کہا وہ گروہ بندی پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن جوبات ناگوار گزرتی تھی اس کا بر ملا اظہار بھی کردیتے تھے،انہوں نے کہاان کی خدمات کے حوالے سےایک کتاب کی اشاعت ہم سب پر قرض ہے ۔مکمل خبر پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سجاد خان نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہاں ڈیوٹی پر 15 اہلکار تعینات تھے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نقصان کا تعین آپریشن ختم ہونے کے بعد کیا جا سکے گا۔
اس دوران بہت سی قیاص آرائیوں نے جنم لیا سید یوسف رضا گیلانی پر ایک بڑا دباؤ یہ تھا کہ اس اغواء کا مقدمہ سیاسی مخالفین کے خلاف درج کرایا جائے مگر انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جس کے بعد سے سید علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی بھر پور مہم چلانے کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔
اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون اور بچوں کا رات گئے پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا جس کے مطابق تینوں بچوں کی موت گلا دبانے سے ہوئی، بچوں کو قتل کے بعد لاشیں لٹکائی گئیں۔
اسپتال ذرائع کا بتانا ہے کہ مزید تحقیقات کے لیے نمونے فرانزک لیب روانہ کردیے گئے ہیں۔
مولانا ادریس کے قتل کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ چارسدہ کے فاروق اعظم چوک اور تنگی روڈ پر احتجاج جاری ہے جبکہ چارسدہ آنے جانے والی تمام شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔ علاقے میں اس وقت حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ دن قبل مولانا ادریس کا ایک بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا جس میں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حق میں بیان دیا تھا جس پر انھیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
