اس درد کو بیان کرنے کے لیے جو حوصلہ درکار ہے وہ حوصلہ دو روز سے ہم تو پیدا نہیں کرسکے ۔۔ اور یہ حوصلہ پیدا کرنا بہت حوصلے والوں کا کام ہے ۔۔ یہ کہنے کو تو چودہ نومولود بچوں کے جل کر راکھ ہونے کا واقعہ ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ ہماری اجتماعی بے حسی کی بھی ایک ’’ روشن مثال ‘‘ ہے اور اس روشن مثال کو روشنی آگ کے ان شعلوں سے ملی ہے جو کئی گھروں میں تاریکیاں لے کر آئی ہے ۔۔ منیر نیازی نے کہا تھا ’’ بین کرتی عورتیں / رونقیں ہیں موت کی ‘‘ لیکن یہ صرف عورتیں نہیں تھیں یہ بین کرتی مائیں تھیں جو نو ماہ تک ان بچوں کی اپنے وجود میں پرورش کرتی رہیں ، انہیں محسوس کرتی رہیں اور راتوں کو کبھی دل ہی دل میں اور کبھی بلند آواز کے ساتھ ان کے ساتھ باتیں کرتی رہیں ۔ ان میں سے کچھ پہلی بار اس تجربے سے گزر رہی تھیں ۔ ماں بننے کا خوبصورت تجربہ جو شاید کسی کو منتوں اور مرادوں کے بعد میسر آنے والا تھا ۔۔ ممکن ہے انہوں نے ان کے نام بھی سوچ رکھے ہوں اور دن چونکہ عید میلادالنبی کا تھا اس لیے نام بھی اسی مناسبت سے سوچے گئے ہوں گے کہ ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ مقدس دنوں اور مہینوں میں جنم لینے والے بچوں کے نام بھی ان مہینوں اور مقدس ہستیوں کے حوالے سے رکھے جاتے ہیں ۔ اور مائیں ہی نہیں بچوں کے باپ بھی تو وہیں موجود تھے بہت سی امیدوں اور آرزوؤں کو اپنے سینے میں لیے بے قراری سے ہسپتال کے باہر ٹہلتے ہوئے ۔۔
اور بچے ۔۔ وہ چودہ ننھے فرشتے وہ تو پہلی بار اس دنیائے رنگ و بو میں سانس لینے والے تھے ۔ پہلی بار روشنی میں اپنی ننھی منی آنکھیں کھولنےوالے تھے انہیں تو خبر ہی نہیں تھی کہ وہ تاریکی سے تاریکی کے سفر پر روانے ہونے والے ہیں ۔۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ جس معاشرے میں جنم لینے والے ہیں وہاں ’’ ریاست ہو گی ماں کے جیسی ‘‘ بس ایک دل فریب اور جذباتی نعرہ ہے ۔۔ یہاں تو مائیں بس بین کرنے اور احتجاج کرنے کے لیے آتی ہیں ۔۔ وہ ننھے فرشتے کب جانتے تھے کہ انہیں پہلا سانس ہی آگ اور دھوئیں میں لینا ہے جنم لیتے اجل کے فرشتوں نے ان کا استقبال کرنا ہے ۔ ان کے تو ابھی نام بھی رکھے جانے تھے اور وہ جنم لیتے ہی گم نام ہو گئے ۔ ۔۔
ویسے تو ہم عادی ہیں ایسے دردناک مناظر کے کہ ہم نے ماضی میں بھی ایسے کئی درد ناک مناظر دیکھے ۔۔’’ کسی بھی حادثے پر لوگ اب حیراں نہیں ہوتے ‘‘ ہم کچھ دیر کے لیے ماتم و گریہ کرتے ہیں اور پھر آنسو پونچھ کر اگلے ماتم کے لیے اپنے حوصلے مجتمع کرنے لگتے ہیں ۔۔ اپنے آنسو بچا کر رکھتے ہیں کہ اگر آج ہی سب آنسو بہا دیے تو کل نئے حادثے پر نئے دکھ پر بھی تو اشکوں کا نذرانہ پیش کرنا ہو گا ۔ کل اگر ہم نہ روئے تو سب کے سامنے سبکی ہو جائے گی کہ یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں المیوں پر ڈھنگ سے رونا بھی نہیں آتا ۔۔دکھ تو یہ ہے کہ ہم زود فراموش ہیں ۔ ہماری یادداشت بہت کمزور ہے جس میں صرف وہی چند واقعات محفوظ رہتے ہیں جو ہمیں میڈیا کے ذریعے بار بار دکھائے جاتے ہیں ۔۔
کوئی ایک واقعہ ہو تو بتائیں ہماری تاریخ ان المیوں سے بھری پڑی ہے ۔۔ ہر سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر کی بھرمار ہو جاتی ہے ۔۔ ۔۔ روتی ہوئی مائیں اور غم سےنڈھال عزیزواقارب کی ویڈیوز اور تصاویر ہمیں ریٹنگ میں لے آتی ہیں کچھ سٹارز وغیرہ مل جاتے ہیں اور لوگوں کے لیے حادثہ صرف ایک تماشہ بن کر رہ جاتا ہے ۔۔ سازشیں تلاش کی جاتی ہیں ۔ الزامات لگائے جاتے ہیں ۔ افسروں اور عملے کو میڈیا گھیر لیتا ہے ۔۔ مرنے والوں کے لواحقین کی فوٹیج اور دوڑتے بھاگتے کیمرہ مین ۔۔ اسی دوران وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال صاحب اپنے کمالات دکھانے کے لیے سکرین پر آئے ۔ وہ الطاف بھائی کے ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں جس پارٹی سے ان کا سیاست میں ظہور ہوا اس پر جب برا وقت آیا تو کسی کے اشارے پر 23 مارچ 2016ء کو کراچی میں انہوں نے انیس قائم خانی اور دیگر ساتھیوں کی مدد سے پاک سر زمین پارٹی کی بنیاد رکھی اور پھر متحدہ قومی ممومنٹ پاکستان میں اسے ضم کر دیا ۔۔چند برس قبل تک ان کے خلاف احتساب عدالت میں کلفٹن میں سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے حوالے سے ریفرنس کی سماعت بھی ہوتی رہی ۔۔وہ اس میں پیش بھی ہوتے تھے لیکن اب تو خیر سے وہ وزیر ہیں اور موجودہ حکومت میں وزیر صحت کے عہدے پر فائز ہیں ۔۔ان سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے بات گول کر دی ۔۔وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے جبکہ واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔آگے کیا ہو گا ؟ یہ ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔ سرد خانے میں صرف نعشیں نہیں رکھی جاتیں فائلیں بھی ڈالی جاتی ہیں ۔۔ مائیں روتی رہیں ۔۔ باپ نڈھال رہیں ۔۔ اور اینکروں کے بھاگ لگے رہے ہیں کہ جب سسٹم کو لپیٹنے کی باتیں چل رہی ہوں تو پھر ایسے واقعات چارج شیٹ کا حصہ بنتے ہیں ۔۔ ہم ویسے بھی بچے مارنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔۔ اے پی ایس کا سانحہ تو آپ کویاد ہی ہو گا ۔ ان کی مائیں آج تک رو رہی ہیں ۔۔ یہ بھی روتی رہیں گی ۔۔ ہم نے کہا نا کہ مائیں تو ویسے بھی رونے کے لیے ہی اس دنیا میں آتی ہیں ۔

