پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موبائل سروس تو تاحال چل رہی لیکن انٹرنیٹ سروس میرپور کے علاوہ تمام جگہوں پر بند ہے۔
میرپور کے رہائشی فیضان کا کہنا ہے کہ ’صرف لینڈ لائن انٹرنیٹ کنیکشن کام کر رہا ہے۔ لیکن وہ بھی مستحکم نہیں جبکہ موبائل فون پر انٹرنیٹ نہیں چل رہا۔‘
Browsing: علاقائی رنگ
یہ بی اے جمال کا ہی ہنر اورکمال تھا کہ اس سے جو ملا وہ ہیرو بن گیا اور اس نے خوب نام ، دولت اور عزت کمائی۔ بی اے جمال نئے شعرا اور لکھاریوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے جس اخبار رسالے یا جریدہ میں ممکن ہوتا اس کو ضرور کوریج دلاتے۔ شعبہ صحافت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا گوکہ ان کا زیادہ تعلق فن و ثقافت تھا مگر ان کی ساری زندگی اخبارات کے دفاتر میں گزری ۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ایک درجن سے زیادہ کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی ڈیڈ باڈیز راولا کوٹ کے علاقے دریک کے قریب قائم کیے گئے میڈیکل کیمپ میں رکھوا دی گئی ہیں
انہوں نے کہا کہ میں یاد دہانی کرانا چاہتی ہوں کہ جس سڑک سے چل کر وہ آزاد کشمیر آتے ہیں وہ سڑک بھی نواز شریف نے بنائی ہے، آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ(ن) کا یہی وعدہ ہے جو سہولیات ہم پنجاب کو دے رہے ہیں وہ الیکشن جیت کر ایک دن ضائع کیے بغیر وہ سہولیات ہم آزاد کشمیر کو دیں گے۔
پاکستانی فوج کے مطابق ’حملہ آوروں نے اپنی ناکامی اور بوکھلاہٹ میں بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو چیک پوسٹ کے حفاظتی احاطے کی دیوار سے ٹکرا دیا‘ جس کے نتیجے میں 12 فوجی اہلکاروں سمیت چیک پوسٹ پر موجود 15 افراد کی ہلاکت ہوئی۔
نمائندہ بی بی سی عزیز اللہ خان کے مطابق چیک پوسٹ پر ہوئے اس حملے کے نتیجے میں مانجھی خیل چیک پوسٹ مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہے جبکہ حملے کے فوراً بعد زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
بھرپور سیاسی زندگی گزارنے کے بعد رانا تاج احمد نون 9 ستمبر 2017ء کی صبح ملتان میں انتقال کر گئے۔ ان کو آبائی گاؤں میں جب سپردِ خاک کیا گیا تو ہزاروں لوگ ان کی معنوی اولاد بن کر نم آنکھوں سے انہیں رخصت کر رہے تھے کہ شجاع آباد کی سیاست کا تاج اب منوں مٹی کے تلے جا سویا ۔ رانا تاج احمد نون کی شخصیت کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ وہ کرپشن کیے بغیر دنیا سے چلے گئے۔ ایسے بے داغ اور اُجلے سیاست دان اب ہمارے بچوں کے نصیب میں کہاں ہیں؟
جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔
دربار کے پہلو میں ایک بار پھر عظیم الشان مدرسہ اور جدید لائبریری قائم کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کے علمی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ یہ صرف ایک عمارت کی تعمیر نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک تحریک ہوگی جو وسیب کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے جائے گی۔
خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔
ان کے مطابق سیشن کورٹ گوادر نے اسی مقدمے میں استغاثہ کی پیش کردہ شہادتوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک ملزم کو بری کر دیا تھا، جبکہ انھی شہادتوں کی بنیاد پر بی وائی سی کے رہنماؤں کو سزا سنائی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز ہونے والی ہلاکتوں کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں اور حکومتی کریک ڈاؤن میں اب تک پانچ پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 28 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
