وہ جلوس شہر کے ایک محلے سے سات بچوں نے شروع کیا۔ دو نے سفید پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر کچھ بھی نہیں لکھا تھا۔ سب سے آگے چلنے والے بچے نے ایک ہرا پنجرہ اٹھایا ہوا تھا جس میں ایک سفید کبوتر موجود تھا۔ جیسے جیسے وہ ہر سڑک پر جاتے، مزید بچے ان میں شامل ہوجاتے۔ کچھ نے پرندوں کے پنجرے اٹھا رکھے تھے۔ بہت سوں کی گود میں بلیاں، خرگوش، مرغے اور چوزے تھے۔ ان کے کتے ان کے پیچھے تھے۔ وہ ایک کے بعد دوسری سڑک پر چلتے گئے اور جلوس بڑا ہوتا چلا گیا۔ یہ بتانا مشکل ہوگیا کہ ان کی تعداد کیا تھی۔ وہ سب مکمل طور پر خاموش تھے۔ راہگیر ان پر مسکرائے لیکن کوئی ہنسا نہیں۔
لوگ حیران تھے کہ اس جلوس کا مقصد کیا ہے۔ انھوں نے جانور اٹھائے ہوئے تھے جس سے وہ جلوس مزید پراسرار ہوگیا تھا۔ بڑے بے خبر تھے۔ غالبا صرف ابتدائی سات بچوں کو علم تھا۔ بعد میں شامل ہونے والے بچوں کو کچھ پتا نہیں تھا۔ نہ وہ کچھ بولے، نہ کسی کو دھکا دیا، نہ جلدی کی۔ وہ پرانی سڑکوں پر چلتے رہے۔ ان میں اضافہ ہوتا گیا۔ ان کی بڑی تعداد اور سنجیدہ خاموشی نے راہگیروں کو حیرت میں مبتلا کیا۔ وہ بچے آج ہمیشہ سے زیادہ ذہین معلوم ہورہے تھے۔ لوگ ان کے بارے میں یہ کہہ رہے تھے۔ مائیں اور باپ جلوس کے پیچھے یا ایک جانب چل رہے تھے۔ دوسرے بچے بھی شامل ہوتے گئے۔ وہ بھی اپنی ماوں اور باپوں سے الگ ہوتے اور جلوس میں شامل ہوجاتے۔ ایک بچہ سڑک پر رو رہا تھا۔ وہ جلوس میں شامل ہونا چاہتا تھا لیکن اس کی خوف زدہ ماں اسے روک رہی تھی۔ وہ ٹانگیں چلاتا اور روتا رہا۔ وہ ماں کے ہاتھ پر کاٹ کر اس سے جدا ہونے میں کامیاب ہوا اور جلوس میں شامل ہوتے ہی خاموش اور پرسکون ہوگیا۔ اس نے اپنے آنسو تک نہیں پونچھے کہ جلوس کا نظم خراب نہ ہوجائے۔
چھوٹے چوارہے پر پہنچ کر وہ ایک لمحے کو ٹھہرے۔ چائے خانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ احتراما کھڑے ہوگئے۔ ان کے گرد ایک بڑا ہجوم ہوگیا۔ہوٹلوں اور گھروں کی بالکونیوں سے لوگوں نے انھیں دیکھا۔ بچے خاموش اور سنجیدہ تھے۔ وہ اپنے اطراف نہیں دیکھ رہے تھے۔ ان کی نظر صرف سامنے کی جانب تھی۔ وہ اپنی الگ دنیا تشکیل دے رہے تھے۔ جلوس سے باہر ایک بھی بچہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
"جب بچے ایسا سمجھ داری کا رویہ اپناتے ہیں،” ہجوم میں موجود ایک شخص نے اپنے دوست سے کہا، "تو بڑوں کو ان سے احترام سے پیش آنا چاہیے۔ بے شک اس طرح دنیا کی اہمیت بالکل مختلف معلوم ہوتی ہے۔”
جلوس آگے بڑھا۔ وہ ایک چوراہے پر آئے اور وہاں ٹھہر کر ایک دائرہ بنایا۔ تین بچے آگے بڑھ کر اس دائرے کے مرکز میں کھڑے ہوگئے۔ ان میں سب سے چھوٹے بچے کو باقی دو نے اپنے کندھوں پر اٹھالیا۔ چھوٹے بچے نے سفید کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جس پر کچھ بھی نہیں لکھا تھا۔ اس نے خاموشی کے عالم میں خطاب کیا۔ منہ کھولا لیکن کوئی الفاظ ادا نہیں کیے۔ اس سب نے اس چھوٹے مقرر کو دیکھا جو بے آواز الفاظ ادا کررہا تھا۔ خاموش تقریر ختم کرنے کے بعد اس نے کاغذ کو تہہ کیا اور دوبارہ اپنی جیب میں رکھ لیا۔ بچے اور بڑوں نے تالیاں بجائیں۔ دونوں بچوں نے اپنے چھوٹے ساتھی کو آرام سے نیچے اتارا۔ ہرے پنجرے میں سفید کبوتر لانے والا بچہ آگے بڑھا اور اس نے اپنے کبوتر کو آزاد کردیا۔
دوسرے بچوں نے بھی سیکڑوں چڑیوں اور پرندوں کو ہوا میں اڑا دیا۔ اس کے بعد ان جانوروں کو آزاد کیا جو اڑتے نہیں ہیں۔ تماشائیوں نے تالیاں بجائیں۔ روایتی عباوں اور چادروں میں ملبوس بدو اور شہری خواتین نے خوشی سے نعرے لگائے۔ ہر شخص مسکرارہا تھا اور ہنس رہا تھا۔ چند منٹ کے لیے ٹریفک بھی تھم گیا۔ راستہ رکنے پر کسی ایک کار کا بھی ہارن نہیں بجا۔ وہ سب فضا میں اڑتی چڑیوں اور کبوتروں کو دیکھ رہے تھے۔ نہ اڑنے والے ان کی ٹانگوں کے درمیان سے بحفاظت نکل کر جارہے تھے۔ بچے نعرے لگاتے ہوئے منتشر ہونے لگے،
کبوتر زندہ باد
چڑیاں زندہ باد
چوزے زندہ باد
خرگوش زندہ باد
بلیاں زندہ باد
کتے زندہ باد
ماوں اور باپوں نے اپنے بچوں کو گلے لگالیا اور پیار کیا۔
فیس بک کمینٹ

