"دن ڈھل چکا۔۔۔۔ مگر پرندے کا سفر ابھی جاری ہے،بدن کا سارا لہو پروں میں سمٹ آیا ہے۔دور افق پر سیاہ درختوں کی ایک لکیر سی دکھائی دینے لگی ہے۔بظاہر یہ خط شام ہے مگر میرے لیے یہ سپیدہ سحر ہے۔مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں شام کی اس دہلیز کی طرف نہیں جا رہا۔جس سے آگے اندھی شب کا ایوان ہے اور جہاں پہنچتے ہی پر بکھر جاتے ہیں اور چراغوں کی لویں، ٹمٹما کر بجھ جاتی ہیں.میں تو شام کی منڈیر پر اترنے کی کوشش میں ہوں جہاں سے میں طلوع ہوتی ہوئی تاروں بھری رات کا نظارہ کر سکوں گا۔”
اور پھر 18 مئی 1922 کو سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ سے طلوع ہونے والا یہ آفتاب ڈاکٹر وزیر آغا کے نام سے پوری دنیا میں جانا گیا۔یہ ایک ایسی شخصیت تھی۔ جس نے افسانہ نگاری کے علاوہ اردو کی ہر صنف ادب میں نہ صرف طبع آزمائی کی بلکہ ہر صنف کو نئے رجحانات عطا کیے۔شاعری، تنقید ،تحقیق سفرنامہ،انشائیہ،ماہر اقبال ادبی جریدہ اوراق کی ادارت سمیت ہر شعبے میں ڈاکٹر وزیر اغا کی الگ شناخت دکھائی دیتی ہے۔
آپ کا شمار پاکستان کے ان منفرد مفکرین اور ادیبوں میں ہوتا ہے ، جن کی مختلف سوچ نے فکر و نظر کی بے شمار نئی قندیلیں روشن کیں اور اپنی زندگی میں ادب کے وسیلے سے ہر لکھنے والے کے لئے قطبی ستارے کی مانند چمکتے رہے ہیں۔ اور آج بھی ان کا لکھا ہوا ادبی اثاثہ ہر نئے آنے والے کو راستہ دکھا رہا ہے۔انہوں نے ادب کو امتزاجی تنقید سے متعارف کرایا اور اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوں کو اعتماد اور قوت اظہار عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے تھے۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ کیونکہ وہ فکرو خیال کی انوکھی پگڈنڈیوں پر سفر کرنے والے ایسے ادیب تھے۔ جنہوں نے بلا شبہ ایک نہیں بلکہ کئی نسلوں کو متاثر کیا۔خاص طور پر اپنے ادبی جریدے اوراق کے ذریعے انہوں نے جہاں سینکڑوں نئے لکھنے والوں کو متعارف کرایا۔وہاں انہوں نے اردو ادب میں بہت سی نئی اصناف کو نئے تلازمات کے ساتھ پیش کیا۔انہوں نے اپنے ادبی رسالے اوراق کے ذریعے انشائیہ، تنقید اور تحقیق میں نئے در واکئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نثری نظم کہنے والوں کے لیے بھی اپنے رسالے اوراق کے صفحات مختص کیے۔انہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے انسانیت کے وقار اور اس کی سربلندی کے لیے کام کیا۔وہ بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ سلطانی جمہور کے زبردست حامی اور حریت فکر و عمل کے مجاہد ہے۔اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے انہوں نے جو فعال اور تاریخی کردار ادا کیا۔جس پر اردو ادب ان کا ہمیشہ مشکور رہے گا۔اور تاریخ کے ہر دور میں اردو ادب ان کے لیے نہ صرف تعظیم کرے گا۔بلکہ آنے والے دور میں بھی ان کی تخلیقات ادب کے نئے طالب علموں کو روشنی اور راستہ فراہم کریں گی۔ان کے متنوع اسلوب کی ایک پوری دنیا معترف تھی۔کہ انہوں نے جس صنف ادب میں بھی قلم اٹھایا۔اس میں باکمال تخلیق عطا کی ۔وہ اردو ادب کی واحد باکمال اور باوسائل شخصیت تھی۔جس نے اپنے سرمائے کو بھی ادب کے فروغ کے لیے وقف کیا۔
میری 1980 کی دہائی میں جب ان سے محکمہ ڈاک ملتان کینٹ کے ریسٹ ہاؤس میں پہلی ملاقات ہوئی۔تو ان کی خوبصورت رنگت دیکھ کر یہ احساس ہوا۔کہ وہ واقعی ایرانی النسل قزلباش گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کے والد کا آبائی پیشہ تجارت تھا۔جو گھوڑوں کی تجارت سے روزگار کماتے تھے۔ڈاکٹر وزیر آغا نے فارسی زبان اپنے والد محترم سے سیکھی۔جبکہ پنجابی ان کی مادری زبان تھی۔انگریزی سیکھنے کے لیے ان کے وہ احباب کام آئے جن کے ساتھ ان کے دیرینہ روابط تھے۔یہیں سے انہوں نے انگریزی زبان اور ادب پر دسترس حاصل کی۔ان کی خوش نصیبی تھی کہ زمانہ طالب علمی میں ایسے اساتذہ کرام میسر آئے۔جنہوں نے وزیراعلی کو عالمی ادبیات اور کلاسیکی شاعری سے روشناس کروایا۔اپنے آبائی شہر سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وزیر آغا نے جھنگ کے تاریخی گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔جھنگ میں قیام کے دوران انہوں نے حضرت سلطان باہو کی شاعری میں دلچسپی لینا شروع کی۔ابیات باہو کا بغور مطالعہ کیا۔یہی وہ دور تھا۔جب وہ حضرت سلطان باہو کا کلام سن کر نہ صرف آب دیدہ ہو جاتے۔بلکہ وہ بار بار باہو کا کلام سننے پر اصرار کرتے۔

گورنمنٹ کالج جھنگ میں داخلے کے بعد ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں بے حد اضافہ ہوا۔بلکہ یہاں کے معروف اساتذہ کرام ڈاکٹر نذیر احمد،پروفیسر غلام رسول شوق،پروفیسر ایم اے خان،پروفیسر رانا عبدالحمید اور پروفیسر سی ایم صادق نے وزیر آغا کی صلاحیتوں کو نہ صرف پہچاننا بلکہ اس کی آبیاری بھی کی۔اسی کالج میں ان کے ہم جماعت پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام (نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان)،سردار باقر علی خان(جو انڈین سول سروس کے امتحان میں اول آئے۔اور بعد میں ملتان کے کمشنر مقررہوئے)تھے۔ جنہوں نے وزیرآغا کے ادبی شوق کی حوصلہ افزائی کی۔اسی شوق کی وجہ سے وہ کالج کے ادبی مجلہ” چناب” کے مدیر بھی منتخب ہو گئے۔جس کے بعد ان کی ادارت میں ادبی مجلہ "چناب "کے یادگار نمبر شائع ہوئے.گورنمنٹ کالج جھنگ میں انہوں نے باقاعدگی سے نشستوں کا اہتمام کرنا شروع کیا۔جس میں اس وقت کے ممتاز ادیب و شاعرسید جعفر طاہر، مجید امجد ،شیر افضل جعفری، کبیر نور جعفری،صاحبزادہ رفعت سلطان ،سید مظفر علی ظفر،خادم مگھیانوی،،غلام محمد رنگین، امیر اختر بھٹی، بلال زبیری، تقی الدین ،انجم علیگ،صدیق لالی،الحاج سید غلام بھیک نیرنگ اور مظہر اختر باقاعدگی سے شریک ہونے لگے۔وزیرآغا ایک طرف ان ادبی محافل کے میزبان تھے تو دوسری طرف اس کے روح رواں بھی تھے۔جھنگ کے زمانے کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ ڈاکٹر وزیرآغا نے ڈاکٹر خورشید رضوی کو(3فروری1993) خط میں لکھا
”
برادرم خورشید رضوی صاحب
خط ملا، بے حد ممنون ہوں۔ آپ سے ملے تو جیسے صدیاں گزر گئیں۔ اس دوران میں کم از کم تین بار صرف آپ سے ملنے کے لیے گورنمنٹ کالج گیا، لیکن آپ کے کمرے کے باہر ایک اتنا بڑا زنگ آلود تالہ پڑا دیکھا ۔نہ جانے یہ تالہ آپ نے کہاں سے لیا ہے۔ خاصا مضبوط لگتا ہے مگر آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اسے دیکھ کر آپ کے دوستوں کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ خدارا اس ڈینو سار سے پیچھا چھڑائیں اور دروازے پر کوئی نرم و نازک جندری آویزاں کریں جس کی کلائی پروفیسر غلام جیلانی اصغر باآسانی مروڑ سکیں۔ اس کا فائدہ کم از کم یہ ضرور ہو گا کہ آپ کے دوست آپ کی عدم موجودگی میں کمرے کے اندر جا کر آپ کی خوشبو سے معانقہ کر سکیں گے۔ غلام جیلانی اصغر اور میرا یہ تاثر ہے کہ ہمارے دوستوں میں سے رشید قیصرانی، جمیل یوسف اور نصف درجن دوسرے دوستوں کو چھوڑ کر، آپ سب سے زیادہ ”بے وفا“ ہیں کہ کبھی ملنے کی کوشش نہیں کرتے۔
آپ نے صوفی محمد ضیاءالحق صاحب کا پوچھا ہے تو میری یادداشت نے ایک زقند بھری ہے اور میری نظروں کے سامنے وہ زمانہ آ گیا ہے جب میں گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج جھنگ کا طالب علم تھا اور صوفی محمد ضیاءالحق ہمیں پڑھاتے تھے۔ غالباً رومی ٹوپی پہنتے تھے۔ دبلے پتلے، مرنجاں مرنج، مجسم شرافت تھے۔ دھیمی آواز میں بولتے مگر ان کا ہر لفظ شفقت اور محبت سے لبریز ہوتا۔ اس زمانے کے ایک اور استاد بھی مجھے یاد ہیں۔ ان کا نام خواجہ معراج الدین تھا۔ بڑے دبنگ آدمی تھے۔ مسلمان طلبہ کے لیے کالج کی سطح پر جنگیں لڑتے تھے جبکہ صوفی ضیاءالحق کسی بکھیڑے میں نہیں پڑے تھے۔ اپنے کمرے میں بیٹھے سب طلبہ کے لیے جیسے ایک چشمے کی طرح رواں دواں رہتے۔
میں عربی کا طالب علم نہیں تھا۔ فارسی پڑھتا تھا جو خواجہ معراج الدین ہمیں پڑھاتے تھے۔ البتہ میں نے اُردو اختیاری لے رکھا تھا اور یہ ہمیں صوفی صاحب پڑھاتے تھے۔ اب میں کیا عرض کروں، اُردو کے ثقیل سے ثقیل الفاظ بھی ان کے ہونٹوں سے چھوتے ہی سبکبار اور شیریں ہو جاتے۔ میں کالج میگزین کا ایڈیٹر تھا اور اُردو میں تقریریں کرنے کا بھی مجھے شوق تھا، لہٰذا مجھ پر بہت مہربان تھے۔ یوں تو دو سال جو میں نے کالج میں گزارے ضیاءصاحب سے اکتسابِ نور میں بسر ہوئے مگر مجھے ان کا ایک جملہ آج تک نہیں بھولا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس جملے کا میری آئندہ ادبی زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے۔ بعض اوقات ایک معمولی سا اشارہ سائکی کے اندر جا کر ایک بیج کی طرح جڑیں پکڑ لیتا ہے۔ پھر جب حالات سازگار ہوں تو ایک انکھوے کی طرح پھوٹ نکلتا ہے۔ یہی قصہ اس جملے کا ہے۔ ایک روز باتوں باتوں میں مجھ سے کہنے لگے۔ دیکھو وزیر علی! (ان دنوں میں وزیر علی خان تھا) مجھے یقین ہے ایک دن تم کتابیں لکھو گے۔ یاد رکھو! کتاب سے بڑی اور کوئی شے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی کتاب ہی کے ذریعے اپنی مخلوق سے رابطہ قائم کیا تھا۔ بس ان کا یہ، جملہ ایک اشارہ یا suggestion بن کر میرے اندر اتر گیا اور پھر اس کے جو نتائج (اچھے یا برے) نکلے وہ آپ کے سامنے ہیں۔ خدا کرے آپ بخیر و عافیت ہوں، کبھی سرگودھا آنے کا بھی سوچیے۔”
اس خط کے متن سے ہم ڈاکٹر وزیرآغا کے اسلوب سے بھی لطف اٹھا سکتے ہیں۔کیونکہ یہی اسلوب ان کا انشانیوں میں ہمیں دکھائی دیتا ہے۔
گورنمنٹ کالج جھنگ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وزیر آغا گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے۔اور وہاں سے معاشیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔1953 میں ان کی کتاب” مسرت کی تلاش” میں شائع ہوئی۔ 1956 میں انہوں نے "اردو ادب میں طنزومزاح "کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
1960 میں ان کی زندگی کا وہ دور شروع ہوا جس کو وہ ساری زندگی یاد کرتے رہے۔ جب انہوں نے مولانا صلاح الدین احمد کا رجحان ساز ادبی رسالے” ادبی دنیا "میں بطور مدیر معاون کے کام کرنا شروع کر دیا۔وہ مسلسل تین برس تک اس ادبی مجلے کے ساتھ وابستہ رہے۔اور 1965 میں انہوں نے اپنا ادبی مجلہ اوراق شائع کرنا شروع کیا۔ تو انہوں نے اس کے سرنامے پہ لکھا۔
صلاح الدین احمد کی یاد میں
” اوراق” میں انہوں نے تخلیقی، تنقیدی اور تجزیاتی مضامین کو فروغ دیا۔اس رسالے میں ایسے موضوعات کو جگہ دی گئی جو اس سے پہلے کسی ادبی رسائل میں پڑھنے کو نہیں ملتے تھے۔اس کے مواد کو دیکھتے ہوئے اوراق کی پذیرائی پوری دنیا میں شروع ہو گئی۔یہی رسالہ پاکستان میں رجحان ساز اصناف کے فروغ میں اپنی اشاعت تک سرگرم رہا۔
جہاں تک ڈاکٹر وزیرآغا کی تخلیق کی بات ہے۔تو ان کی ابتدائی نظمیں 1948 میں ادبی دنیا میں شائع ہوتی رہیں۔یہیں سے ان کے اسلوب کا تعین ہوتا ہے۔انہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔جو صرف ڈاکٹر وزیر آغا کا ایک خاصہ ہیں۔ خاص طور پہ نثری نظم کہنے والوں کے لیے اوراق کسی توشہ خاص سے کم نہیں تھا۔جس زمانے میں ڈاکٹر وزیراردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے کوشاں تھے۔وہ زمانہ ہمیشہ ان کا قرضدار رہے گا۔کا تاریخ کے اس دور میں جب اردو میں نئے تجربات نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔انہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے طالب علموں کو نئی راہیں فراہم کی۔ان کے شاندار اسلوب کی وجہ سے پوری دنیا منتظر رہتی تھی کہ کب وزیرآغا نئی چیز لکھیں اور ادبی دنیا میں وہ سرمایہ بن جائے۔ ان کے تحقیقی مقالات آج بھی یونیورسٹیوں بطور نصاب کے پڑھائے جاتے ہیں۔ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علم جب تک ڈاکٹر وزیر آغا کی تخلیقات کا مطالعہ نہ کر لیں۔ان کی تحقیق مکمل نہیں ہوتی۔یہی ڈاکٹر وزیر آغا کے لکھے ہوئے کی کامیابی ہے۔کیونکہ ان کا لکھا ہوا ہر لفظ ہر دور میں بطور حوالے کے کام دیتا ہے۔شاعری میں ان کی نظم نے بہت مقبولیت حاصل کی۔لیکن غزل میں انہوں نے جو اسلوب اپنایا۔اس نے بھی اپنے ہم عصر ادب کو متاثر کیا۔ان کی تنقید و تحقیق کے موضوعات ایسے ہیں۔جس پر اردو میں صرف وزیر آغا نے ہی دیکھا۔اس سے پہلے اور ان کے بعد ان موضوعات پر کسی نے قدم نہیں اٹھایا۔
ان کی کتابوں کی تعداد 60 بتائی جاتی ہے۔کچھ اہم کتابوں کے نام ملاحظہ کریں۔
ان کی تصانیف درج ذیل ہیں:-
1۔ اردو ادب میں طنز و مزاح 1958
2 تخلیقی عمل 1970
3 اردو شاعری کا مزاج 1965
4۔ تصورات عشق و خرد اقبال کی نظر میں 1977
5 مجید امجد کی داستان محبت 1991
6 غالب کا ذوق تماشا 1997
7۔ نظم جدید کی کروٹیں 1963
8۔تنقید اور احتساب 1968
9۔ نئے مقالات 1972
10۔ نئے تناظر 1979
11۔ معنی اور تناظر 1998
12۔ تنقید اور مجلسی تنقید 1975
13۔ دائرے اور لکیریں 1986
14۔ تنقید اور جدید اردو تنقید 1989
15۔ انشائیے کے خدوخال 1990
16۔ ساختیات اور سائنس 1991
17۔ دستک اس دروازے پر 1994
18 امتزاجی تنقید اور سائنس فکری تناظر 2006
19 شام کی منڈیر سے (خود نوشت)
20۔شام اور سائے (شاعری)
21دن کا زرد پہاڑ (شاعری)
22۔نروان (غزلیں)
23۔آدھی صدی کے بعد (شاعری)
24۔خیال پارے (انشائیے)
25۔چوری سے یاری تک (انشائیے)
26۔دوسرا کنارہ(انشائیے)
27 ۔شام دوستاں آباد(خاکے)
اسی طرح اگر ہم ان کی شاعری کی بات کریں۔تو بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جی چاہتا ہے ان کو بار بار پڑھتے رہیں۔
اردو ادب کا یہ شاندار شاعر،ادیب، انشائیہ نگار ،مزاح نگار،خاکہ نگار ،مترجم ، دانشور،مدیر ،محقق اور منفرد نثر نگار جب
"آدھی صدی کے بعد” کے عنوان سے اپنی منظوم خود نوشت لکھتا ہے۔تو پڑھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔جس میں انہوں نے اپنی زندگی کو شاعری میں بیان کیا۔ لیکن جب "شام کی منڈیر سے”
وہ اپنی خود نوشت لکھتے ہیں۔توپروفیسر ڈاکٹر پرویز پروازی لکھتے ہیں۔” اس کو پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے۔یہ ایک ایسے شخص کی خود نوشت ہے جس نے تنقید کو نیا لب و لہجہ ،انشائیے کو نیا ڈھنگ، اپنی کہانی کہنے کو نیا آہنگ عطا کیا۔اور خود کسی چیز کا سیر ہے اپنے سر نہیں باندھا۔یہ ایک ایسے شخص کی خود نوشت بھی ہے جسے جتنا متنازع بنانے کی کوشش کی گئی اس کی شخصیت اتنی ہی ابھرکر سامنے آئی۔”
شام کی منڈیر کے آخری حصے میں وہ لکھتے ہیں۔
"میں جب پرندے کی اڑان کو دیکھتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے پرندہ درخت کی زنجیروں کو جھٹک کر آزاد ہو گیا ہے۔پھر جب دوسرے ہی لمحے اسے ایک اور درخت کے چھتنار میں داخل ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے اس نے پھر سے پابندی قبول کر لی ہے گویا اڑان آزادی کا وہ کوندا ہے۔جو پل بھر کے لیے اپنا آپ دکھا کر واپس آتا اور اپنے بدن کو پھر سے اوڑھ لیتا ہے۔تخلیق کار اگر اڑان بھر کر آسمان کی پہنائیوں میں گم ہو جائے اور گھر لوٹنے کا راستہ بھول جائے تو وہ تخلیق کاری سے محروم ہو جاتا ہے سو واپسی بہت ضروری ہے اسی سے قوس وجود میں آتی ہے۔ میرے لیے اپنے کمرے سے نکل لان تک جانا اور پھر لوٹ کر کمرے میں آجانا بھی ایک قوس ہی کے مشابہ ہے کیا عجب کہ مجھے آخری اڑان بھرنے تک لوٹ آنے کے اس تجربے کی سعادت بار بار حاصل ہوتی رہے۔”
اور پھر ادب کے اس شاندار پرندے نے اپنی آخری اڑان سات ستمبر 2010 کو لی۔ جس کے بعد ڈاکٹر وزیر صغا کی واپسی تو نہ ہوئی۔البتہ ان کی منفرد تخلیقات ہمیشہ ہمارے ساتھ زندہ رہیں گی۔
فیس بک کمینٹ

