یہ تصنیف اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ روسی ناول صرف کہانی یا ادب نہیں بلکہ ایک فکری بیداری ہے، جو انسان کو اپنے معاشرے، اپنے ضمیر اور اپنے عہد سے مکالمے پر مجبور کرتی ہے۔ انسانی نفسیات، اخلاقی کشمکش اور سماجی ناانصافیوں کی گہری عکاسی اس کتاب کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔
Browsing: ادب
کتاب حجم میں مختصر ہے، مگر محسوس ہوتا ہے کہ ہر جملہ سوچ سمجھ کر لکھا گیا ہے۔ ضخیم کتابوں میں بعض اوقات غیر ضروری تفصیلات قاری کی دلچسپی کم کر دیتی ہیں، جبکہ اس کتاب میں ہر صفحہ اور ہر سطر اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے یہ کتاب نہ صرف دل چسپ بلکہ دوبارہ پڑھے جانے کے قابل بھی محسوس ہوئی۔
اسے عصرِ حاضر کے سماجی اور فکری ادب میں ایک قابلِ توجہ اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب آپ رضی الدین رضی صاحب کے ادارے گردوپیش پبلی کیشنز ملتان سے منگوا سکتے ہیں۔
رابطہ نمبر
03186780423
انجینئر ممتاز احمد خان نے کہا کہ اگر میں یہ کتاب نہ لکھتا تو یہ بہت بڑا جرم ہوتا۔ اس کتاب کو لکھنے سے میں نے خود ایک نئے ممتاز احمد خان کو جانا ہے۔ قاری کیلئے اس کتاب میں تاریخی واقعات کے ساتھ دلچسپی کا بہت مواد شامل ہے۔
گزشتہ کئی سالوں سے ڈیمنشیا کی وجہ سے انہوں نے مشاعروں میں جانا تقریباً بند کر دیا تھا۔ ان سے ملنے آنے والے لوگوں کو وہ پہچان بھی نہیں سکتے تھے۔ بشیر صاحب اپنی یادداشت کھو چکے تھے۔
یہ سب ادیب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں اور وہ انسان کی کہانی ہے۔ ان کے ہاں دکھ بھی ہے، سوال بھی، بغاوت بھی، اور ایک ایسی خاموش دعا بھی جو زمانے کے شور میں بھی سنائی دیتی ہے۔
روس کی سرد راتوں میں جلتے ہوئے چراغ آج بھی ان کے لفظوں سے روشنی لیتے ہیں۔ اور ہم، دور بیٹھے قاری، ان روشنیوں میں اپنے ہی چہرے پہچاننے لگتے ہیں۔
ارشد حسین ارشد کے صاحبزادے عادل ذیشان قریشی نے کہا کہ انہوں نے بہت مشکل وقت گزارا،انتھک محنت کی لیکن ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا ،ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم معاشرے میں بہتر زندگی گزاررہے ہیں۔ سلیم قیصر نے کہا وہ گروہ بندی پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن جوبات ناگوار گزرتی تھی اس کا بر ملا اظہار بھی کردیتے تھے،انہوں نے کہاان کی خدمات کے حوالے سےایک کتاب کی اشاعت ہم سب پر قرض ہے ۔مکمل خبر پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
اقوام متحدہ کے ایک سادہ سے سروے کے مطابق پسماندہ قوموں کے دس لاکھ بچے سالانہ محض بھوک سے جانکنی کے بعد موت کے گھاٹ اُترتے ہیں۔ دوسری سمت اسلحہ کی دوڑ، جنگ پرستی کے نئے ہتھکنڈے اور اس سے ہٹ کر انسانیت کے متعلق کھوکھلی اور دفتری لفاظی ایک شاعر کے تجربے کو فریب نہیں دے سکتی۔ اس کے اس بڑھتے پھیلتے آشوب سے ظہور نظر جو کبھی سچائی کی تلخی کا زہر پینے سے نہیں ہچکچایا تھا، بھلا کس طرح غافل رہ سکتا تھا؟
انکی ایک بیٹی نے شاید بزنس ایڈ منسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا وہ چاہتے تھے زکریا یونیورسٹی میں اسے ملازمت مل جائے میں کہتا تھا کہ اس بچی سے کہوکہ وہ ہمت کرکے موزوں دریچہ کھٹکھٹائے میری اس بات پر وہ ٹھنڈی سانس لے کے کہتے کہ کاش آپ بھی چھوٹے موٹے مخدوم ہوتے یا پھر مخدوم سجاد حسین قریشی زندہ ہوتے تو وہ کبھی مخدوم شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بننے کی چاہت میں جیل نہ جانے دیتے۔
انہوں نے سیکڑوں طلبہ اور ادیبوں کی فکری تربیت کی۔ انہوں نے جابر علی سید، ڈاکٹر اسلم انصاری اور عاصی کرنالی جیسے اکابرین کی رفاقت میں رہ کر ادب کی جو شمع روشن کی، اس سے ان گنت شاگردوں نے فیض پایا۔وہ نام ور ماہر تعلیم ڈاکٹر وحید الرحمان خان اور توحید الرحمان خان کے والد تھے ۔۔
