ماہرین علم الآثار تاریخ اور لسانیات بتاتے ہیں کہ انسان نے زبان کے ذریعے ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچانی کوئی پچاس سے ستر ہزار سال قبل شروع کی ، جبکہ اس نے غاروں اور جنگلوں سے نکل کر کھیتی باڑی اور چھوٹی بستیاں بسانا 12 سے 15 ہزار سال ہوئے شروع کیا ۔مکمل مضمون کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
Browsing: ادب
1954 ء میں غیر جمہوری قوتوں کے دباؤ میں آکر وزیر اعظم نے دستور ساز اسمبلی کو برخواست کر کے نئی کابینہ بنائی ،جس میں میجر جنرل سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان اور صنعتکار ایم ایم اصفہانی کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔مولوی تمیز اُلدین نے دستور ساز اسمبلی کی برخواستگی کے حکومتی فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چلینج کیا، یہ مقدمہ تمیز اُلدین خان بنام وفاق پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتاتے ہوئے کہا۔ "میں ایک بنگالی مسلمان ہوں” فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا ـ” کیاکوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟” اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا،اُسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اُن کو بچانے کے لیے اُن کے سامنے کھڑی ہوئی ،فوجیوں نے گھر کے اندر باہر ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی ، پھر افراد خانہ کو خوف وہراس اور شدید اذیت میں مبتلا کرکے چلے گے۔
ماں نےاس ر شتے کو یکسر مسترد کر دیا۔ان کے الفاظ میں بحث تھی نہ کوئی سوال،صرف فیصلہ تھا”میں نیچے نہیں أؤں گی”یہ جملہ گھر کی دیواروں سے ٹکرا گیا۔
ایک زمانہ تھا جسے پنجابی میں ”ویلا“ کہتے ہیں، زندگی بہت آہستہ خرام تھی، 1968 اور 69ء کے زمانے میں تانگے میں سوار ہو کر ادبی…
یہ داستان ترک روایت میں "Üç Turunçlar” کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور اس کی کئی علاقائی صورتیں موجود ہیں؛ بعض روایات میں نارنجی کی جگہ لیموں، انار یا دوسری اشیا بھی آتی ہیں۔ ترک لوک کہانیوں کے معروف مجموعے میں Ignác Kúnos کی جمع کردہ "The Three Orange-Peris” بھی شامل ہے۔
ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی کی یہ کاوش بلاشبہ ایک ایسا ادبی شاہکار ثابت ہو گی جو قارئین کے ذوق مطالعہ کی تسکین کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسافروں اور قلم کاروں کے لیے بھی تخلیقی رہنمائی کا ایک مستقل سرچشمہ بنی رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ انگریزی لفظ cot کا ماخذ سرائیکی لفظ” کھٹ“ ہے اور دونوں کا مطلب چار پائی ہے۔ اس طرح سرائیکی میں ایک لفظ ” ونج“ استعمال کیا جا تا ہے جو انگریزی میں went بن جا تا ہے ۔ معنی ان دونوں کے بھی ایک ہی ہیں۔
ایک بچہ سڑک پر رو رہا تھا۔ وہ جلوس میں شامل ہونا چاہتا تھا لیکن اس کی خوف زدہ ماں اسے روک رہی تھی۔ وہ ٹانگیں چلاتا اور روتا رہا۔ وہ ماں کے ہاتھ پر کاٹ کر اس سے جدا ہونے میں کامیاب ہوا اور جلوس میں شامل ہوتے ہی خاموش اور پرسکون ہوگیا۔ اس نے اپنے آنسو تک نہیں پونچھے کہ جلوس کا نظم خراب نہ ہوجائے۔
جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔
