Browsing: ادب

اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوں کو اعتماد اور قوت اظہار عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے تھے۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

یہ تصنیف اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ روسی ناول صرف کہانی یا ادب نہیں بلکہ ایک فکری بیداری ہے، جو انسان کو اپنے معاشرے، اپنے ضمیر اور اپنے عہد سے مکالمے پر مجبور کرتی ہے۔ انسانی نفسیات، اخلاقی کشمکش اور سماجی ناانصافیوں کی گہری عکاسی اس کتاب کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔

کتاب حجم میں مختصر ہے، مگر محسوس ہوتا ہے کہ ہر جملہ سوچ سمجھ کر لکھا گیا ہے۔ ضخیم کتابوں میں بعض اوقات غیر ضروری تفصیلات قاری کی دلچسپی کم کر دیتی ہیں، جبکہ اس کتاب میں ہر صفحہ اور ہر سطر اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے یہ کتاب نہ صرف دل چسپ بلکہ دوبارہ پڑھے جانے کے قابل بھی محسوس ہوئی۔

انجینئر ممتاز احمد خان نے کہا کہ اگر میں یہ کتاب نہ لکھتا تو یہ بہت بڑا جرم ہوتا۔ اس کتاب کو لکھنے سے میں نے خود ایک نئے ممتاز احمد خان کو جانا ہے۔ قاری کیلئے اس کتاب میں تاریخی واقعات کے ساتھ دلچسپی کا بہت مواد شامل ہے۔

یہ سب ادیب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں اور وہ انسان کی کہانی ہے۔ ان کے ہاں دکھ بھی ہے، سوال بھی، بغاوت بھی، اور ایک ایسی خاموش دعا بھی جو زمانے کے شور میں بھی سنائی دیتی ہے۔
روس کی سرد راتوں میں جلتے ہوئے چراغ آج بھی ان کے لفظوں سے روشنی لیتے ہیں۔ اور ہم، دور بیٹھے قاری، ان روشنیوں میں اپنے ہی چہرے پہچاننے لگتے ہیں۔

ارشد حسین ارشد کے صاحبزادے عادل ذیشان قریشی نے کہا کہ انہوں نے بہت مشکل وقت گزارا،انتھک محنت کی لیکن ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا ،ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم معاشرے میں بہتر زندگی گزاررہے ہیں۔ سلیم قیصر نے کہا وہ گروہ بندی پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن جوبات ناگوار گزرتی تھی اس کا بر ملا اظہار بھی کردیتے تھے،انہوں نے کہاان کی خدمات کے حوالے سےایک کتاب کی اشاعت ہم سب پر قرض ہے ۔مکمل خبر پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں