دیگر صحافیوں کی طرح وہ بھی بے روزگاری کا شکار ہو گئے اور یہی ان کی موت کی وجہ بنی ۔ان کی نمازِ جنازہ آج سہ پہر ؑعصر کی نماز کے بعد جلال مسجد پارک گلگشت کالونی میں ادا کی جائے گی ۔
Author: ایڈیٹر
مختار ریڈیو سے ٹیلی ویژن پر چلے آئے تھے مگر دل کی پرانی لگن بے طرح لاگو ہو رہی تھی۔ ٹیلی ویژن کے بابو لوگ از قسم ضیا جالندھری، مسعود نبی نور ریڈیائی تکنیک کے استاد مختار صدیقی کا ہنر کیسے سمجھتے۔
کیٹلن ڈورنبوس مگر کوئی عام صحافی نہیں۔ NY Postکی رپورٹر ہونے سے قبل وہ امریکی فوج کے ترجمان رسالے سے وابستہ تھی۔ امریکی فوج کی مدد سے وہ کئی جنگوں کی برسرِ میدان حرب جاکر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران موصوفہ نے میرے دو ہنر مند ساتھیوں -طلعت حسین اور فہد حسین- کے ٹی وی پروگراموں میں بھی حصہ لیا۔
انٹرویو میں عارفہ صاحبہ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات پوچھ رہی تھیں اور میں اصرار کر رہا تھا کہ مذاکرات دوبارہ ہوں گے۔ انکے لئے مجھ پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ 13 اپریل کو پیر کی شب جیونیوز پر کیپٹل ٹاک میں ایک دفعہ پھر جب اس خاکسار نے بڑے اعتماد سے کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات دوبارہ ہونے والے ہیں تو کچھ امریکی صحافیوں نے واشنگٹن میں اپنے ذرائع کو کریدنا شروع کیا۔
ہرجانے کی ضد پر قائم رہنے سے عرب ممالک بھی اپنے انفرا اسٹرکچر کو ہونے والے نقصان کا ازالہ چاہیں گے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ ٹرمپ کی ایران پر مسلط کی ہوئی جنگ غیر قانونی تھی۔ لیکن اس وقت امریکہ کسی ضابطے یا ا صول کو نہیں مانتا، اقوام متحدہ بے وقعت ہوکر رہ چکی ہے۔ ان حالات میں کسی بھی طرح دانشمندی سے امریکی جارحیت کا راستہ روکنا ضروری ہے۔
پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے یہ بھی بتایا کہ ’اگر مذاکرات ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اسی مقام پر ہوں گے یعنی اسلام آباد میں منعقد ہوں گے جہاں پہلے ہوئے تھے۔‘
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر لیں، 14 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ایران-امریکا جنگ بندی اور خطے کی تازہ ترین صورتحال جانیے
شیخ عبدالحفیظ سلیم نام تھا۔ حفیظ ہوشیار پوری کے نام سے جانے گئے ۔ قصبہ جھنگ کے قریب موضع دیوان پور میں 5جنوری 1912ءکو جنم لیا۔…
ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرانے، اور تنازعات ختم کرانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ تاریخ میں نوبل امن انعام کا ان سے بڑا حقدار پیدا نہیں ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے بسیار گوئی اور انا کے اسیر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے رویہ کی وجہ سے دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
مسعود کہتے ہیں کہ تم اپنی ٹویٹ کی پوسٹ شیئر کرنے کے عادی ہو اور ہم ملٹری پوسٹوں پر اپنے لہو سے اپنی تاریخ لکھ رہے ہیں
