Author: ایڈیٹر

سواگتھا کے مطابق مذکورہ کمپوزر نے خود کو ایک سرپرست اور رہنما کے طور پر پیش کیا، اعتماد حاصل کیا، جذباتی تعلق قائم کیا اور پھر اسی تعلق کو استحصال کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ کمپوزر کے ساؤنڈ پروف اسٹوڈیو میں پیش آیا، جہاں وہ خود کو محفوظ تصور کر رہی تھیں، تاہم وہاں مبینہ طور پر خفیہ کیمروں کے ذریعے ویڈیوز بنائی گئیں، جنہیں بعد میں بلیک میلنگ اور دھمکیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

ایران میں چونکہ غیر عوامی حکومت مسلط ہے جو اپنے عوام کی بہبود پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی اسلام پھیلانے میں دلچسپی لیتی رہی ہے، ا س لیے اسے اب بھی اپنے عوام کی پریشانیوں کا زیادہ احساس نہیں ہے۔ ایران میں نہ تو کسی کو رائے دینے کی اجازت ہے اور نہ ہی کوئی شخص حکومت سے سوال کرسکتا ہے کہ جنگ بند کرنے میں کیا قباحت ہے؟

حیدر آباد کنگز مین جمعے کو ایلیمینیٹر 2 میں اسلام آباد یونائیٹڈ سے مقابلہ کرے گی اور یہ میچ جیتنے والی ٹیم فائنل میں پشاور زلمی کے خلاف میدان میں اترے گی۔
یاد رہے کہ پشاور زلمی نے گزشتہ روز کوالیفائر میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست دے کر فائنل کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔

چند روز قبل مطیع اللہ جان نے ایران امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان آئے غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب رکھی تھی جس میں انہوں نے حکومت پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مقدمات بنانے اور ان کے خلاف کاروائیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینل نے انہیں حکومتی دباؤ پر ملازمت سے فارغ کیا۔

حکومت سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو دفن کرنے کا اہتمام کررہی ہے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں ہے کہ وقت تبدیل ہونے کے ساتھ یہی طریقہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کے برعکس استعمال ہوگا۔ عدلیہ کی خود مختاری پر ہونے والے حملے ججوں کو بے اختیار اور جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔

میرے بچپن میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ سے منظور شدہ دوسری جماعت کے قاعدے میں حکمرانِ وقت کے بارے میں بھی یہ ڈیڑھ سطر شامل تھی۔ ‘فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں۔ انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’
انیس سو ستر میں وقت بدلا تو اسی قاعدے میں صرف نام بدلا۔ ‘جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں، انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’ انیس سو بہتر میں شائع ہونے والے اسی قاعدے میں صدر ذوالفقار علی بھٹو کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہنے لگا۔ تب سے اب تک اس نصابی پل کے نیچے سے ویسا ہی پانی رنگ بدل بدل کے بہے چلا جا رہا ہے۔

قم کو آپ نے اس نایاب کتب خانے کی بنیاد دی جہاں اس وقت 40 ہزار کے قریب خطی نسخے اور کتابیں موجود ہیں یہ کتاب خانہ نہ صرف علمی خزانے سے مالا مال ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی حیثیت کا حامل بھی ہے کیونکہ یہاں کئی ہزار سال پرانے خطی نسخے موجود ہیں جن سے آ ج بھی استفادہ کیا جا رہا ہے اگر دنیا کے لحاظ سے دیکھا جائے تو قاہرہ اور ترکی کے کتب خانوں کے بعد اسلامی دنیا کا تیسرا بڑا کتب خانہ آ یت اللہ نجفی مرعشی کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے

ایلن جس طرح کے اداروں میں پڑھا ہے وہ ہمارے خیال یا خواب میں بھی مہذب ترین مُلک یعنی امریکہ کے وہ ادارے ہیں جن میں کوئی بچہ پڑھ رہا ہو تو باپ بے شک فخر کرتا ہے مگر وہ بچہ بیمار ہو جائے یا سیکورٹی والے اسے الٹا لِٹا کے مُشکیں کس لیں یا ہتھکڑیاں ڈال دیں تو مائوں کی آہیں عرش ہلا دیتی ہیں۔