ہمارے ملک کے نام نہاد میڈیا میں ایک سے بڑھ کر ایک بے ادب اور گستاخ بھرا پڑا ہے، تہذیبی وضع داری تو ان میں نام کو نہیں، ان میں عام و خواص کے درجات کو سمجھنے کی کوئی نہ کوئی اہلیت ہے نہ ہی تمیز ہے، میڈیا کی آزادی کے یہ نومولود دعوے دار ہر کس و ناکس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ اللہ کیا دور تھا کہ باشعور لوگ سیدوں کی اور ان کے کہے کی دل سے قدر کرتے تھے اور ان کے افعال سے صرفِ نظر کرتے ہوئے سادات کے ہاتھوں کو چومتے، ان کے منہ سے نکلے ہوئے ہر بول کو دوسروں کے سامنے دہراتے پھرا کرتے تھے اور سید کے لبوں پر آئی بددعا کے خوف سے لرزا کرتے اور وفورِ عقیدت کے باعث سید زادوں کو نذرانے پیش کیا کرتے اور یقین رکھتے کہ اس سے ان کی دنیا و آخرت سنور جائے گی (یقینِ کامل بلا شبہ ایک نعمتِ بے بہا ہے) اور اب کیا دورِ خرابی ہے کہ ایک سید نے حق سچ کی ایک بات کیا کہہ دی کہ ایک طوفانِ بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا۔ یہاں موزوں لگتا ہے کہ سید محسن نقوی کی اس تقریر کے کچھ اہم حصے آپ کے سامنے رکھے جائیں جس پر ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہے، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کس قدر "خلوص اور بے ریائی” سے کہی گئی سیدھی اور صاف باتوں کو یار لوگوں نے کیا سے کیا معنی دے دیے اور لگے شور مچانے۔
واقعہ یہ ہے کہ "شاہ جی” نے وطنِ عزیز کے چند "چنیدہ خیرخواہِ ملت اور دردمند مخیر لوگوں” (جنھیں حاسدین نے مفاد پرست دولتمند سرمایہ داروں اور بڑے تاجروں کا اجتماع اور نجانے کیا کیا کچھ کہا) سے خطاب کرتے ہوئے بہت فکر مند ہو کر کہا تھا کہ:
"… یہ نظام جس کے اندر ہم رہ رہے ہیں، یہ کولیپس (collapse) کر چکا ہے، چاہے آپ مانیں یا نہ مانیں! آپ دس سال بعد بھی یہیں بیٹھے ہوں گے اور اسی طرح تقریر کر رہے ہوں گے اور اسی طرح اپنے مسئلے بیان کر رہے ہوں گے۔۔۔۔ جس نظام کو آپ پچھلے 70 یا 80 سال سے کھینچ (ان کی وضع داری دیکھئے کہ گھسیٹ رہے ہیں نہیں کہا) رہے ہیں، اس کے اندر اب مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہم سب جمہوریت چاہتے ہیں، لیکن موجودہ نظام سے مخصوص نتائج نہیں نکل رہے
(وزیرِاعظم شہباز شریف کی محنت و دیانت کے وہ دل سے قائل ہیں، اس کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے کہا) ‘اگر وزیرِاعظم 14 سے 16 گھنٹے بھی کام کریں، تب بھی اس پرانے ڈھانچے (فریم ورک) کے ساتھ نظام کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، جب تک ایک بڑا ری سیٹ (سسٹیمک ری سیٹ) نہ کیا جائے ۔۔۔ نوجوانوں کو صرف لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ دے کر خوش نہیں کیا جا سکتا، وہ نظام میں انصاف اور تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس نظام کو درست کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو سکیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھ کر اس پر فیصلہ کرنا ہوگا۔۔۔”
ہمارے فکرمند وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سامنے بیٹھے سادہ دل اور مخیر لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش بھی کی کہ کرپٹ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو چندے میں کروڑوں (انھوں نے پچاس کروڑ سے دس کروڑ تک کی رقوم کے بندوں کی طرف اشارہ کیا، اگر حاضرین میں سے آدھے بھی اس چندہ بازی میں شریک تھے تو ان چندوں کی رقم اربوں کھربوں تک پہنچ جاتی ہے) روپے کے چندے کیوں دیتے ہیں؟ انہوں نے حاضرین سے سوال کیا کہ اس کی بجائے وہ خود اپنی حلال کی کمائی خرچ کرکے سیاست میں کیوں نہیں آتے، اگرچہ انھوں نے اس حوالے سے چند موٹی موٹی مثالیں دے کر وضاحت کی کوشش نہیں کی (اگرچہ وہ ایسا کر سکتے تھے لیکن خاندانی وضع داری کے قائل ہیں، اس لیے بس اشارہ کر کے دیے گئے) ورنہ وہ کئیوں (سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں) کا بھرم کھول سکتے تھے لیکن داد دیجئے عالی نسب سید زادے کو کہ اس نے اپنی گفتگو کی روانی کو اپنے قابو میں رکھا۔۔۔ اور قوم کے مستقبل یعنی نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی طرف اپنی توجہ اور کلام کی باگ موڑ لی اور حاضرین کو خبردار کیا کہ اگر یہ کاکروچ/ جینزی (اگرچہ اردو میں اس کے لیے ایک مہذب لفظ "لال بیگ” موجود ہے) اکٹھے ہو گئے تو پھر کچھ باقی نہیں رہے گا ۔
(ایک ضعیف راوی کی بے حد ضعیف روایات ہے کہ حاضرین میں سے اکثر جن میں کئی نامور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے مالکان بھی شامل تھے (اور انہیں میں سے ایک نے رضاکارانہ طور پر نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے ایک جامع پریزنٹیشن بھی دی تھی جس سے متاثر ہو کر شاہ جی نے دل گرفتہ تقریر کر ڈالی) خوف زدہ ہو کر اپنی آرام دہ کرسیوں کے نیچے جھانکنے لگے تھے، شکر ہے خواتین کی توجہ اس جانب نہیں گئی ورنہ وزیرِداخلہ صاحب کے لیے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا اور وہ ساری تقریر بھول کر ان کی فکر میں پڑ جاتے)
سب کچھ کہنے کے بعد ‘واہ رے سید زادے، تو نے ان مسائل کا کیا شافی و کافی حل تجویز کر دیا، سبحان اللہ! سبحان اللہ!’ انہوں نے پُرجوش انداز و آواز میں کہا: ان سب مسائل کا حل یہ ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں (اور ملک کو 33 صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے)، یعنی اپنا اپنا ڈویژن، اپنا اپنا صوبہ! واہ! قوم کا یہ گلہ بھی ختم ہو جائے گا کہ سیاسی جماعتیں دو تین خاندانوں کی میراث بن کر رہ گئی ہیں، اس سے اللہ کے فضل و کرم سے 33 سیاسی خانوادے وجود میں آئیں گے اور یوں اقتدار ترقی پسندوں کی من پسند اصطلاح کے مطابق "گھاس کی جڑوں کی سطح (grass root level) تک پہنچ جائے گا اور ثقہ و ضعیف ہر قسم کا راوی چین لکھے گا اور چیں چیں بولے گا، ان شاء اللہ!
دنیا جانتی ہے کہ سید کا ایک وصف یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسن کو کبھی نہیں بھولتا (وہ خود بھی محض نام کے محسن نہیں اور پورا میڈیا ان کے احسان تلے خوب اچھی طرح دبا ہوا ہے) اس لیے وہ خود اپنے محسن اور پوری قوم کے محسن سید کا ذکر کرنا بھی نہیں بھولے اور تمتماتے چہرے کی عقیدت اور لہجے کی سعادت مندی سے کہا کہ ایک شخص ہے جو بڑے دشمن کے خلاف جنگ جیتتا ہے اور سفارتی میدان میں عظیم کامیابیاں سمیٹ کر لاتا ہے، اس لیے، ہمیں اس (سید) کے وژن کو پورا کرنے میں تعاون کرنا چاہیے! یہ بھی ہماری تہذیبی وضع داری میں شامل ہے کہ ہم ایسی عظیم ہستیوں کا براہِ راست نام نہیں لیا کرتے (اور انھیں عام طور پر کسی لقب یا خطاب سے پکارتے ہیں)، اسی لیے نقوی صاحب نے اس عظیم ہستی کا نام لینے سے گریز کیا، اس لیے ہم بھی انہی کی پیروی میں کوئی اندازہ لگانے سے باز رہیں گے، سیدوں کی پیروی کارِ ثواب بھی تو ہے، مفت کا یہ ثواب کیوں گنوائیں۔
مسئلہ یہ ہوا کہ معصوم سید زادے کے اس سیدھے صاف اور کھرے بیان پر کف آلود بحثیں شروع ہو گئیں، ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا کہ اس بیان میں ایسا کیا تھا کہ اس پر ہنگامہ برپا کیا جاتا، لیکن یار لوگوں نے اس بیان کے بعد ملک میں سیاسی بے یقینی اور حکومت کے خاتمے کی افواہیں پھیلانا شروع کر دیں، افترا پرداز افواہ سازوں کے بیانیے نے اس قدر زور پکڑا کہ نقوی صاحب کے کئی انتہائی سادہ لوح پیٹی بھائی وزیر بھی غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے، وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف (آپ جانتے ہیں کہ ہمارے سسٹم میں وزیرِ دفاع کا اول و آخر فرض حکومتِ وقت کا دفاع کرنا ہوتا ہے) نے بغیر سوچے سمجھے اپنی ٹوئیٹ میں نقوی صاحب پر اس سسٹم کا اہم حصہ ہونے کی پھبتی کستے ہوئے طنز کے تیر چلا دیے، ادھر وزیرِاعظم کے خصوصی مشیر رانا ثنا اللہ (جن کا منصب اور کام تو اپنے مشورے وزیرِاعظم کے گوش گزار کرنا ہے لیکن وہ ہر وقت کس نہ کسی چینل پر بیٹھے حکومت کے مخالفین کو ملاحیاں سنا رہے ہوتے ہیں) نے تو حد ہی کر دی، انھوں نے نہ صرف یہ طنز کیا کہ اسی سسٹم کے باعث ہی نقوی صاحب نے تیس سال کا سفر (سیاسی؟) ساڑھے تین برس میں طے کر لیا، (گویا یہ موجودہ نظام کی کامیابی کی بڑی دلیل ہو) وہ اسی پر نہیں رکے بلکہ انھوں نے "معززینِ وطن” کے اس عظیم المرتبت اجتماع میں شامل بہت سے معزز لوگوں کو خاکم بدہن "فراڈیا اور واردتیا” کہہ دیا، میری عاجزانہ تجویز ہے کہ ان معتبر و معزز لوگوں کو مل کر یا انفرادی طور پر "ہتکِ عزت” کے دعوے دائر کرنے چاہئیں۔ قوی امکان ہے کہ موجودہ مثالی عدالتی نظام میں انھیں "انصاف” ضرور ملے گا (انتہائی سستے انصاف کے لیے بھاری فیس باہم چندہ اکٹھا کرکے دینا یا انفرادی طور پر ادا کرنا ان مخیر لوگوں کے لیے کون سا مشکل کام ہے)۔۔۔۔ وہ تو خیر ہوئی کہ ملک کے وزیرِاعظم انِر ایبل میاں شہباز شریف جیسے مدبر اور وسیع القلب اور صلح کل شخص ہیں اور انھیں وزیرِ اطلاعات جناب جسٹس رفیق تارڑ سابق صدرِ پاکستان کے فرزندِ ارجمند عطا اللہ تارڑ اور ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ کی اہم ترین خاتون ممبر آپا نثار فاطمہ کے فرزند جلیل و جمیل وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال چوہدری جیسے فطین اور مدبر لوگوں کی معتبر مشاورت انھیں مسلسل حاصل ہے کیونکہ وہ ان کی باضمیر کابینہ کا حصہ اہم ترین ہیں اور پھر سہ بار سابق وزیرِاعظم پاکستان، شہر پنجاب، مردِ مومن (جنرل غلام جیلانی اور مردِ مومن مردِ حق ضیاء الحق کے تربیت یافتہ) جناب میاں نواز شریف مدظلہ العالی کی بابصیرت اور جرأت مندانہ سرپرستی انھیں حاصل ہے، اس لیے یہ معاملہ بہت جلد بحسن و خوبی نمٹا لیا گیا۔۔۔ اور صرف چند روز کے غور و خوض کے بعد ہمارے سید بادشاہ نے وزیرِاعظم پاکستان سے ملاقات مناسب سمجھی اور سب غلط فہمیاں (اور شاید خوش فہمیاں بھی) دور ہو گئیں، تو انہوں نے 5 اگست 2026ء کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی تقریرِ دلپذیر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی باتوں کا مطلب غلط سمجھا گیا، لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے زور دے کر کہا کہ، "میں آج بھی اپنے اس بیان (اور موقف) پر قائم ہوں۔۔۔”
اسی دوران میں ڈی جی آئی ایس پی آر (جو بفضلِ تعالیٰ تھری سٹار جنرل ہیں) نے ایک سوال کے جواب میں سید محسن نقوی کے بیان کو چاہیے ان کی ذاتی رائے قرار دیا، لیکن نئے صوبوں کی تشکیل کی ضرورت کی حمایت کردی اور سسٹم کے کولیپس ہونے کو بھی بالواسطہ تسلیم کر لیا، جس سے الحمد للہ سید کی بات کی حقانیت اظہر من الشمس ہو گئی، لیکن اس سے یہ ہوا کہ پاکستان میں نئی صوبہ سازی کی برسوں کی باسی کڑھی میں پھر ابال آگیا۔ یادش بخیر (یہ کہنا بہت ناموزوں ہے کیونکہ اس میں اکثر لوگوں کو خیر کا پہلو نظر نہیں آتا، لیکن کوئی اور ترکیب ذہن میں نہیں آئی، اس لیے یہی کہہ دیا)، جنرل ضیاء الحق کے دور (استبداد) میں بھی پاکستان کے ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز پیش کی گئی اور اس پر خوب مباحثے ہوتے رہے، لیکن نتیجہ کچھ نہ نکلا، اکثر قوم پرست البتہ ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہانپتے رہے۔۔۔
مجھے اس دور کے ایک نامور سرائیکی قوم پرست سیاست کار، جو ایک سرائیکی سیاسی جماعت کے سربراہ بھی تھے، ایک انتہائی نجی محفل میں نشے کی جھونک میں جھومتے ہوئے بولے کہ "سائیں! سائیں، میری بات ہو چکی ہے، اس بار جرنیل سنجیدہ ہیں، اس لیے ہماری جدوجہد کامیاب ہو گی!” اس درویش نے نوجوانی کی حماقت کے گھیرے میں آ کر کہا، "سائیں خان صاحب! جرنیلوں کی مرضی پر انحصار ہے تو آپ کی جدوجہد کہاں سے آ گئی؟” "خان صاحب” کا مجھ سے خطاب اور جواب ناگفتہ بہ ہے کیونکہ نقل کر دیا تو کوئی نہ کوئی حد ضرور جاری ہو جائے گی۔۔۔ مزے کی بات ہے کہ اب بھی اس تجویز کے حامیوں کے یقین کی بنیاد وہی ہے جو موصوف و مرحوم سرائیکی قوم پرست رہنما کی تھی۔ لیکن اس معاملے پر مزید گفتگو کی ضرورت بہر طور ہے اور سیدوں کی مدح سرائی بھی ابھی باقی ہے۔۔۔!
(بشرطِ ہمت و جرأتِ رندانہ اور حوصلہ افزائیِ دوستاں سلسلۂ تحریر جاری رہ سکتا ہے، یعنی یہ ہلاشیری کہ۔۔۔۔ "شیر بنڑ شیر!” )
سیدان بادشاہ گر کی مدح میں کچھ مزید باتیں سید علمدار حسین بخاری کا کالم ( دوسرا حصہ )
ایڈیٹر2 Views

