کیا شیکسپئر نے سچ کہا تھا کہ یہ دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہم سب اس اسٹیج پر اپنا اپنا کردار ادا کرکے چلے جاتے ہیں؟
کیا میں اس لیے آئینہ دیکھتا ہوں کہ میں دوسروں کو کیسا نظر آتا ہوں؟ شاید یہ بات درست ہو۔ ہم سماج میں ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے بہت سی امیدیں وابستہ رکھتے ہیں۔ دوسرے لوگ ہماری ذات کا ایک تصور قائم کرتے ہیں اور پھر، جانے انجانے میں، ہم بھی خود کو اسی تصور کے مطابق دیکھنے لگتے ہیں۔
میری والدہ چاہتی تھیں کہ میں خوب پڑھوں، لکھوں اور کسی قابل بن جاؤں۔ میرے والد چاہتے تھے کہ میں سماج میں کوئی بلند مرتبہ حاصل کروں۔ میں نے ان کی خواہشات کو اپنی خواہشات بنا لیا۔ ان کی خوشی میری خوشی بن گئی اور ان کا اطمینان میرا اطمینان۔
پھر میں نے خود کو اس خوبصورت لڑکی کی نظروں سے دیکھنا شروع کردیا جس سے میں محبت کرتا تھا، یا شاید صرف سمجھتا تھا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ میں سوچتا کہ میں اسے کس انداز میں پسند آؤں گا۔ میں کیسے بال بناؤں؟ کیسے کپڑے پہنوں؟ اور کیسی خوشبو لگاؤں؟
یوں شاید پہلی بار مجھے یہ احساس ہوا کہ میں خود کو اپنی نظروں سے کم اور کسی دوسرے کی نظروں سے زیادہ دیکھ رہا ہوں۔
پھر وہ استاد آیا جسے میں نے اپنا بت بنا لیا اور اس کی پوجا شروع کردی۔ میں پوجا کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ بت ٹوٹ گیا۔ وہ بت اس لیے ٹوٹا کہ میں کبھی اسے اچھا نہیں لگا۔ میں نے خود کو اس کی نظروں میں اچھا لگنے کے لیے بہت محنت کی۔ میں نے اپنے مریضوں کا خیال رکھنے کے لیے دن رات ایک کردیئے۔ شاید اس لیے نہیں کہ مجھے اپنے مریضوں کے ساتھ بہت ہمدردی تھی، بلکہ اس لیے کہ میں استاد کے سامنے خود کو بہترین ثابت کرنا چاہتا تھا۔
شاید میں واقعی بہترین تھا، لیکن میں خود کو اس کی متعصب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ مجھے دیکھتا تو یوں لگتا جیسے کسی کیڑے مکوڑے کو دیکھ رہا ہو، اور رفتہ رفتہ میں بھی خود کو بہت حقیر سمجھنے لگا۔
یہاں شاید مسئلہ صرف اس استاد کا نہیں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ میں نے اپنی ذات کا اختیار بھی کسی دوسرے کو دے دیا تھا۔ میری اپنی نظروں میں میری قدر اس بات سے طے ہونے لگی تھی کہ کوئی دوسرا مجھے کس نظر سے دیکھتا ہے۔
میں ساری عمر یوں ہی بے سمت رہا۔ میں ہر سمت میں دوڑتا رہا، لیکن مجھے کوئی ایسا راستہ نہ مل سکا جس پر میں واقعی چل سکتا۔
میرے بچوں نے مجھ میں اپنی ماں کا بنایا ہوا شخص دیکھا۔ میں بھی خود کو وہی سمجھتا رہا جو میرے بچے مجھے سمجھتے رہے۔ میرا ذہن اپنے بارے میں قائم کیے ہوئے دوسروں کے تصورات سے بھر گیا۔ میں ان تصورات کو اپنے ذہن میں کوئی ترتیب نہیں دے سکا۔ میرا ذہن الجھتا چلا گیا۔
میں اب بھی آئینے کے سامنے آتا تو خود کو دیکھنے کے بجائے یہی سوچتا کہ میں دوسروں کو کیسا لگتا ہوں۔ یہ سوال میرے اندر اتنا گہرا اتر چکا تھا کہ میری اپنی ذات کہیں اس کے نیچے دب گئی تھی۔
یہ سب اس وقت بھی جاری رہا جب میری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی تھی۔ شدید اضطراب سے میرے جسم کے پٹھے اکڑ چکے تھے اور بے چینی نے میری راتوں کی نیندیں اڑا دی تھیں۔
تب میں نے سوچا کہ شاید سب لوگ اسی طرح سوچتے ہیں۔ شاید ہم سب خود کو دوسروں کی نظروں سے دیکھتے ہیں تاکہ خود کو ان کے لیے بہتر، زیادہ قابلِ قبول اور زیادہ پسندیدہ بنا سکیں۔ شاید یہی سماجی زندگی کی قیمت ہے۔
لیکن پھر ایک سوال نے مجھے روک لیا۔
کیا میرا دوسروں کے بارے میں یہ گمان درست ہے؟
کیا دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو خود کو صرف اپنی نظروں سے دیکھتے ہیں؟ کیا ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کی پسند، ناپسند، توقعات اور فیصلوں سے آزاد ہوکر اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟
مجھے اپنے امتحانات کے دن یاد آگئے۔ ایک تعلیمی ورکشاپ میں ہمیں کسی نے بتایا تھا کہ امتحانات میں ہمیں خود کو ’’بیچنا‘‘ ہے، یعنی خود کو نمائش کے لیے پیش کرنا ہے۔ جیسے شوکیس میں رکھے ہوئے پلاسٹک کے ماڈل، جو مختلف ملبوسات زیبِ تن کیے کھڑے ہوتے ہیں تاکہ کسی گاہک کی نظر ان پر پڑے اور وہ ان کا پہنا ہوا لباس خرید لے۔
مجھے یہ سب مصنوعی لگنے لگا۔
کیا میں اور ہم سب برائے فروخت ہیں؟ کیا ہم مصنوعات ہیں؟ کموڈیٹیز؟
یقیناً نہیں۔ ہم تو جیتے جاگتے، آزاد انسان ہیں۔
لیکن شاید مسئلہ یہ ہے کہ جدید سماج ہمیں مسلسل یہ سکھاتا رہتا ہے کہ خود کو دوسروں کے سامنے کیسے پیش کرنا ہے۔ امتحان میں اپنے آپ کو ثابت کرو۔ ملازمت کے لیے خود کو پیش کرو۔ معاشرے میں اپنی حیثیت بناؤ۔ لوگوں کو متاثر کرو۔ کامیاب دکھائی دو۔ اپنی بہترین تصویر دکھاؤ۔
اور پھر ہم رفتہ رفتہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سب کے پیچھے ایک حقیقی انسان بھی موجود ہے۔
تو کیا ہوا اگر ہم سماجی جانور ہیں؟ تو کیا ہوا اگر ہمیں دوسروں کے لیے خود کو قابلِ قبول بنانا ہے؟ کیا ہم اپنی زندگی جی کر دوسروں کے لیے محفوظ نہیں بن سکتے؟
کیا ہمیں دوسروں کو اچھا لگنا چاہیے یا ہمیں ان سے محبت کرنی چاہیے؟ کیا ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ ہم دوسروں کے لیے کارآمد کیسے ہوسکتے ہیں، یا ہمیں انہیں اپنا مصنوعی عکس دکھا کر فریب دینا چاہیے؟
یقیناً ہمیں خود سے اور دوسروں سے دیانت دار رہنا چاہیے۔
شاید انسان ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب کو اچھے لگیں۔ شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے اچھے انسان بننے کی کوشش کریں۔ شاید ہمیں اپنی قدر دوسروں کی داد سے نہیں بلکہ اپنے عمل کی سچائی سے متعین کرنی چاہیے۔
لیکن پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ اس سب میں میرا اور دوسروں کا کوئی قصور ہی نہ ہو؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی بڑے معاشرتی نظام نے ہمیں رفتہ رفتہ خود سے دور کردیا ہو؟ ایک ایسا نظام جو ہمیں مسلسل دوسروں کی نظروں میں اپنی قدر تلاش کرنا سکھاتا ہے؟
اگر ایسا ہے تو ہمیں کسی بڑے انقلاب سے پہلے ایک چھوٹے انقلاب کی ضرورت ہے۔
اور اس انقلاب کا آغاز شاید مجھے، اور شاید آپ کو بھی، خود سے کرنا چاہیے۔
مجھے خود کو دوسروں کے بجائے اپنی نظروں سے دیکھنا ہوگا۔
میں اپنی نظروں سے کیسا لگتا ہوں؟
میں خود کو نظر نہیں آرہا۔
شاید یہی میری سب سے بڑی مشکل ہے۔
بے شمار اعصابی دھاگوں کے جال نے مجھے جکڑ رکھا ہے۔ دوسروں کی آوازیں میرے اندر اتنی بلند ہوگئی ہیں کہ اپنی آواز سنائی نہیں دیتی۔ لیکن مجھے جدوجہد کرنا ہوگی۔ مجھے اپنی دریافت کے سفر پر نکلنا ہوگا۔
مجھے اپنے اندر چھپی ہوئی محبت اور انسانیت کو ڈھونڈنا ہوگا۔ مجھے یہ جاننا ہوگا کہ میں دوسروں کی توقعات، ان کے فیصلوں اور ان کی نظروں سے الگ، اپنی ذات میں کیا ہوں۔
شاید خود کو دریافت کرنا دوسروں سے الگ ہوجانا نہیں، بلکہ دوسروں کے ساتھ رہتے ہوئے اپنی ذات کو گم نہ کرنا ہے۔
میں دوسروں سے محبت کرسکتا ہوں، ان کے لیے کارآمد ہوسکتا ہوں، ان کی حفاظت کرسکتا ہوں، ان کی خوشی میں شریک ہوسکتا ہوں، لیکن اس کے لیے مجھے اپنا وجود ان کے حوالے کرنے کی ضرورت نہیں۔
مجھے دوسروں کی نظروں میں اچھا بننے کے بجائے شاید اپنی نظروں میں سچا بننا ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سے اصل آزادی شروع ہوتی ہے۔
میں خود کو بدل کر ہی دنیا کو بدل سکوں گا۔ ورنہ سب کچھ یوں ہی چلتا رہے گا، یہاں تک کہ ہم سب دنیا کے اسٹیج پر اپنا اپنا کردار ادا کرکے رخصت ہوجائیں گے۔
شاید شیکسپئر درست کہتا تھا۔
دنیا واقعی ایک اسٹیج ہے۔
لیکن شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے اس اسٹیج پر کون سا کردار ادا کیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ پردہ گرنے سے پہلے، کیا ہم کبھی یہ جان سکے کہ اس کردار کے پیچھے ہم خود کون تھے؟
بدھ, اکتوبر 7, 2026
تازہ خبریں:
- لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا جائے : سہیل آفریدی
- ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید
- سابق کور کمانڈر جنرل احسان الحق کو گورنر خیبر پختونخوا بنائے جانے کا امکان
- دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے رحیم یار خان کا ایک مزدور قتل
- پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گورنر راج ‘کی طرف پیش قدمی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ہر صوبے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج کا جواز : نصرت جاوید کا کالم
- ماں کہانی سنا ۔۔۔ رضی الدین رضی کی نظم
- ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ
- پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا روز، شرکا کا بنوں اور کرک کی سرحد پر پڑاؤ
- غامدی صاحب کی تعبیرِ دین : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

