جب بھی تحریک پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر بات ہوتی ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ تحریک پاکستان میں بنگالیوں نے نمایاں کردار ادا کیا تھا، اور بنگالی پاکستان کے سب سے بڑے حامی تھے۔چونکہ آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ڈھاکہ میں ہوا تھا،اور اس کے بانی ارکان میں زیادہ تعداد بنگالیوں کی تھی اس کے علاوہ قراردادِ پاکستان پیش کرنے والے بھی ایک بنگالی تھے، اس لیے بنگالیوں کو ہی پاکستان کا اصل بانی قراردیا جاتا ہے ۔ ایسا کہہ کر لوگ پاکستان کے حصول کی خاطر ہندوستان کے دوسرے خطوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں پر پانی پھیر دیتے ہیں، وہ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان بنانے میں جتنا کردار ہندوستان کے بنگالی مسلمانوں نے ادا کیاہے اُتنا ہی کردار ہندوستان کے دوسرے مسلمانوں نے بھی ادا کیا ہے۔ بٹوارے کے وقت صرف بنگال کے مسلمان نہیں ، بلکہ یوپی، بہار اور پنجاب کے مسلمانوں نے بھی اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ یہ درست ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام میں بنگالی رہنماؤں کے نمایاں کردارادا کیا تھا، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہی رہنماؤں کی وجہ سے آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ بنگالی کبھی پاکستان کے حامی نہیں رہے ، وہ متحدہ بنگال کو اپنا وطن بنانا چاہتے تھے ۔
1905ءمیں بنگال کی تقسیم کے بعد جب ہندوستان کے ہندؤوں نے اس تقسیم کے خلاف پر زور احتجاج شروع کیا ، اور مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کیا تو بنگالیوں نے اپنے لیے ایک علحیدہ اور خودمختار ملک کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گے۔لیکن وہ اکیلے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے لیے انہیں دوسرے مسلمانوں کی مدد چاہئیے تھی ۔چنانچہ ہندوستان کے مسلم رہنما ( جن میں ز یادہ تربنگالی تھے ) 1906ء میں نواب سلیم اللہ کی سرپرستی میں ڈھاکہ میں جمع ہوئے اور مسلمانوں کی ایک نئی سیاسی جماعت ’’آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ قائم کی۔قائد اعظم نے اکتوبر 1913 ء میں آل انڈیامسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، اس سے پہلے وہ کانگریس کے رکن تھے۔ بعد میں ہندوستان کے بہت سے نواب، نواب زادے اور صاحب زادے اس تنظیم میں شامل ہو گئے۔اس کے بعد بنگال اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے مسلمانوں نے مل کر آزادی کے حصول کی خاطر کی جانے والی جدوجہد میں حصہ لیا۔ لیکن آزادی کے بعد بنگالی مسلمانوں کی قربانیوں کو دبا یا گیا اور پنجاب اور دوسرے خطوں کے مسلمانوں کی قربانیوں اُجاگر کیا گیا،حالانکہ آزادی کے حصول کی خاطر بنگالی مسلمانوں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔صرف پنجاب ہی نہیں بنگال بھی تقسیم ہوا تھا،جہاں پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان آنے قافلوں پر حملے ہوئے تھے، وہیں مغربی بنگال اور مشرقی بنگال سے آنے والے قافلوں پر بھی حملے ہوئے تھے۔
حسین شہید سہروردی اور مسلم لیگ کے بنگالی لیڈروں کی پوری کوشش تھی کہ متحدہ بنگال جس میں کلکتہ بھی شامل ہو ایک الگ اور خودمختار ریاست بنے،اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مشرقی بنگال اور مغربی پاکستان کے درمیان تقریباًبارہ سو میل کا فاصلہ تھا، ان دونوں صوبوں کو ملانے کے لیے کوئی زمینی راستہ نہ تھا ادر درمیان میں دشمن ملک بھارت حائل تھا۔ اس کے علاوہ دونوں صوبوں کی زبان، ثقافت، جغرافیہ اور آب وہوا ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ متحدہ بنگال کو الگ ریاست بنانے کے حامیوں کا کہنا تھا کہ چونکہ بنگال کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی زبان اور ثقافت ایک ہے ، اس لیے اسے الگ ریاست کا درجہ ملنا چاہئے ۔قائد اعظم کا خیال تھا کہ محض زبان اور ثقافت کی بنیاد پر بنگال کو ایک الگ ملک کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ 1971 ءمیں دنیا کے نقشے پر اُبھرنے والا بنگلہ دیش 1947ء میں ہی مسلم لیگ کی منظوری ساتھ معرض وجود میں آ سکتا تھا، جو غیر منقسم بنگال پر مشتمل ہوتا لیکن کانگریس اس کی قیام کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بن کر کھڑی ہو گئی ، اوربنگال ایک آزاد خود مختار ملک نہ بن سکا۔ بنگال کی تقسیم اور اس کے دوبارہ متحد ہونے کے واقعے نے برصغیر کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے تھے، آئیے ایک نظر تقسیم بنگال پر ڈالتے ہیں ۔
1905ء میں برطانوی وائسرائے لارڈ کرزن نے انتظامی بہتری کے نام پر بنگال کو دو حصوں مشرقی بنگال اور مغربی بنگال میں تقسیم کیا تھا۔اس تقسیم سے بنگال کے مسلمان بہت خوش تھے، کیونکہ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی او ر اس طرح اُ نہیں ایک علیحدہ صوبہ مل گیا تھا،لیکن اُن کی یہ خوشی اُس وقت عارضی ثابت ہوئی جب ہندومغربی بنگال میں اکثریت میں ہونے کے باوجویہ برداشت نہ کر سکےکہ مشرقی بنگال مسلم اکثریت والا صوبہ بنے ۔ مشرقی بنگال کے الگ صوبہ بننے سے پورے بنگال پر ہندؤوں کی سیاسی اور اقتصادی اجارہ داری اور بالادستی ختم ہو تی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوؤں نے تقسیم بنگال کی سخت مخالفت کی اور اس تقسیم کی منسوخی کے لیے احتجاج کے نام پر عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی۔ انگریزی مال کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ قانون کی خلاف ورزی شروع کر د ی گئی، اور ٹیکسوں کی ادائیگیاں روک دی گئیں ۔ یہاں تک کہ وائسرائے کو قتل کرنے کی سازشیں تیار ہونے لگیں۔ان حالات میں انگریز سرکار نے ہندؤوں کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوے 1912ء میں بنگال کی تقسیم منسوخ کر دی ،اور پھر سے مشرقی اور مغربی بنگال متحد ہو گے۔ اس منسوخی سے مشرقی بنگال کے مسلمانوں کو سخت صدمہ پہنچا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ تقسیم بنگال کے خلاف احتجاج میں پورے ہندوستان کے ہندؤو ں نے بنگال کے ہندؤوں کا پوری طرح ساتھ دیا تھا، جبکہ ہندوستان کے مسلمانوں نے مسلمان بنگالیوں کا اُس طرح ساتھ نہیں دیا جس طرح ہندوستان کےہندؤوں نے بنگالی ہندؤوں کا ساتھ دیا تھا۔
’’کیمبرج ہسٹری آف انڈیا ‘‘ کے مطابق تقسیم بنگال کو منسوخ کرانے کے لیے بلووں میں ہندو وکلا سب سے آگے اور پیش پیش تھے۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ مشرقی بنگال کے ایک نیا صوبہ بننے کا یہ بھی مطلب ہوگا کہ ڈھاکہ میں ایک نئی ہائی کورٹ کا قیام عمل میں آئے گا جس کی وجہ سے ان کے عدالتی بزنس پر اثر پڑے گا۔ واضح رہے کہ غیر منقسم بنگال میں ایک ہی ہائی کورٹ تھی جس پر ہندو وکلا کا قبضہ تھا اور جہاں ان کی پریکٹس اور عدالت بزنس عروج پر تھا، جسےوہ ماند پڑتےنہیں دیکھ سکتےتھے ۔اسی طرح ہندو صحافیوں کو اس بات کا ڈر تھا کہ مشرقی بنگال کو اگر واقعی ایک نیا صوبہ بنا دیا گیا تو وہاں سے نئے اخبارات و رسائل کا اجراہوگا،جس کی وجہ سے ان اخبارات و رسائل وغیرہ کی اشاعت متاثر ہوگی جو مغربی بنگال سے شائع ہوتے ہیں۔ اس طرح بنگال کی تقسیم کو انہوں نے اپنی کمائی کی تقسیم سے تعبیر کیا جس کے لیے وہ ہرگز تیار نہ تھے۔”
بنگال کے دوبارہ اتحاد کے بعد، کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ نے حکومت کے لیے مل کر کام کیا۔ اس کے قائدین میں نواب سلیم اللہ، چٹا رنجن داس، فضل الحق اور سرت چندر بوس شامل تھے۔ 1920ء کے شروع میں فرقہ وارانہ فسادات نے پھر سے جنم لیا، تاہم ہندوستانی مسلم محاذ کے درمیان ایک ناکام عدم تشدد کی صف بندی کے نتیجے میں جسے خلافت تحریک کہا جاتا ہے اور مہاتما گاندھی کے زیر قیادت ہندوستانی قوم پرست عدم تعاون کی تحریک اٹھی۔ چنانچہ سیاسی اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہوگیا کہ اتحاد کے ایسے حربے اختیار کیے جائیں جو فرقہ وارانہ دشمنیوں سے بالاتر ہوں۔ جس سیاست دان نے اس میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا وہ شیر بنگال مولوی فضل الحق تھے، جو 1937ء سے 1943ء تک بنگال کے وزیر اعلیٰ رہے۔ انہوں نے اپنی ’’کسان کرشک پروجا پارٹی‘‘ قائم کی اور مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کیا۔ 1940ء میں لاہور میں لیگ کے سالانہ اجتماع میں مولوی فضل الحق نے ’’پاکستان کی قرارداد‘‘ پیش کی، جس میں مسلمانوں کے لیے آزاد ریاستوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قراردادِ لاہور کے بعد بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردادِ لاہور میں آزاد مسلم ریاستوں کے بجائے ایک ملک مشرقی اور مغربی پاکستان ملک بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
( جاری ہے )
کیا تحریک پاکستان میں صرف بنگالی مسلمانوں نے کردار ادا کیا ؟ : محمد اسلام تبسم کا تجزیہ ( پہلا حصہ )
ایڈیٹر5 Views

