پاکستان 79 برس کا ہوگیا۔ یہ خوشی کا موقع ہے۔ سرکاری طور پر شادیانے بجائے جائیں گے اور فوجی پریڈ کے علاوہ مختلف تقریبات کا انعقاد ہوگا۔ لیکن اس ملک کی جغرافیائی حدود کے اندر رہنے والے ابھی تک اس کشمکش کا شکار ہیں کہ وہ کون ہیں؟ پاکستانی یا ان کا حوالہ کسی خاص قومیت و پس منظر کی نسبت سے ہے۔
تاہم اس پریشانی کے درمیان سب سے بڑی مشکل وہ خونیں لکیر ہے جو حب الوطنی اور غداری کے بیچ کھینچ دی گئی ہے۔ لکیر کے دونوں طرف والے لوگ اس سے اڑنے والے چھینٹوں سے محفوظ نہیں ہیں ۔ یہ کسی بھی وقت کسی بھی چہرے کو خون آلود کرسکتی ہے۔ حب الوطنوں میں تو اضافہ نہیں ہوتا لیکن غداری کی مہر لگا کر کسی کے لیے زندگی حرام کی جاسکتی ہے۔ لگتا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا نیا ملک بنے گا تو امن کا گہوارہ ہوگا اور مسلمانوں کو سیاسی و معاشی سہولت حاصل ہوگی۔ لیکن حکمرانوں نے اس پہلو پر توجہ دینے کی بجائے نظریاتی سرحدوں کےنام پر ملک میں ایسی صورت حال پید کی ہے کہ ہر شخص اپنے ساتھ والے کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہے۔
یہ شک قومی عارضے کی شکل اختیار کرچکا ہے لیکن کسی طرف سے اس کی اصلاح پر توجہ دینے کی بجائے سرکاری طور سے غدار تلاش کرنے کا مشن اہم فریضہ کے طور پر نصاب اور سیاسی رویوں کی بنیاد بنا لیا گیا ہے۔ یہ سرکاری پالیسی کسی ایک پارٹی یا حکومت کا خاصہ نہیں ہے ۔ حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے درپے حکومتیں یا سیاسی پارٹیاں، اس ایک سوال پر متفق ہوتی ہیں۔ ہر کسی کو غداروں کی شناخت اور ان کے بارے میں باتیں بنانے میں ہی عافیت دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے خطہ زمین پر رہنے والے لوگوں کو اپنی شناخت کے سوال پر شعور دینے کا معاملہ کہیں پیچھے رہ چکا ہے۔ فی الوقت لگ بھگ آٹھ دہائیوں سے ملک دشمنوں، وطن فروشوں، غداروں اور کالی بھیڑوں کو تلاش کرنے کا اہم مشن سرگرمی سے جاری و ساری ہے۔
نام نہاد نظریہ کی بنیاد پر پیدا کیے گئے ا س ماحول میں سوال کرنا یا مسائل کا حل تلاش کرنا ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔ فی الوقت پاکستانیوں سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ پہلے ریاست کا احترام اور اس سے محبت کرنا سیکھیں۔ ابھی حقوق کی بات بہت پیچھے رہ چکی ہے۔ ابھی تو اس استغاثے کا جواب درکار ہے کہ کیا شہریوں نے اپنے فرائض ادا کیے ہیں؟ حقوق و فرائض کی یہ کشمکش حب الوطنی اور غداری کی لکیر کو گہرا اور انسانی رویوں کو شدت پسندی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس تقسیم کی نشاندہی بھی آسان ہے لیکن یہ کہنے کی اجازت نہیں ہے کہ کون کیسے محب وطن ہوسکتا ہے اور غداروں کی صف میں کیسے شامل کیا جاتا ہے۔ ایسی کسی بھی شعوری کاوش کو غدار یا حب الوطنی کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ متعدد سرکاری اداروں کو بھی اس کسوٹی پر انسانوں کو جانچنے کا فریضہ سونپ دیا گیا ہے ۔ اس لیے ہر شخص زبان پر تالہ لگائے رکھتا ہے کہ ذرا سی بھول چوک، اسے یک بیک محب وطن سے غداروں کی صف میں کھڑا کر سکتی ہے۔ اس کے بعد ’مہربان ریاست‘ ایسے نو دریافت شدہ ’غدار‘ کے ساتھ کیا کچھ کرسکتی ہے، اس کے بارے میں جاننے کے لیے علیحدہ مضمون باندھنے کی ضرورت ہوگی۔
آسانی کے لیے اتنا اشارہ کافی ہے کہ اگر کوئی کسی بھی طریقے سے ملکی اشرافیہ کا حصہ بن چکا ہے تو اس کی حب الوطنی پر شک نہیں کیاجاسکتا ۔ اگرچہ بوقت ضرورت اشرافیہ کے کچھ حصے اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے میں غداری کے جراثیم تلاش کرلیتے ہیں ۔ لیکن یہ عارضی صورت حال چند مخصوص قدم اٹھانے سے تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس لیے اگر آپ ملک کے مفاد یافتہ، بااختیار اور طاقت ور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو تاحیات حب الوطنی آپ کا پیدائشی حق ہے۔ باقی ماندہ سب لوگ مشتبہ شمار ہوں گے۔ ان کے لیے خود حفاظتی کے نقطہ نظر سے آسان طریقہ یہ ہے کہ زبان بند رکھی جائے اور کسی معاملہ پر رائے دینے یا پریشانی کا اظہار کرنے سے باز رہا جائے۔ ناسمجھ لوگ اسے اظہار رائے پر پابندی قرار دیتے ہیں لیکن درحقیقت یہ طریقہ لکیر کے پار غداروں میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے اختیار کیاجاتا ہے۔ پاکستان میں میڈیا کی نئی تصویر میں مدیروں کی ’سیلف سنسر شپ‘ کی اصطلاح عام ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان ’اپنی مدد آپ کے تحت‘ اپنے میڈیا منیجرز کے ذریعے ایسی کسی خبر یا رائے کی ترسیل روکتے ہیں جس پر ناراضی کا اظہار ہوسکے یا کسی ادارے کو ملک کے دشمنوں کا ایجنٹ قرار دیا جائے۔ بعینہ ’حب الوطن‘ کا لبادا پہنے رکھنے کے لیے بیشتر لوگوں کو چپ کا روزہ رکھنا ہی سود مند لگتا ہے۔ اسی لیے ہمارے محبوب وزیر اعظم اسے سنسر یا رائے کے اظہا رپر پابندی نہیں سمجھتے اور ببانگ دہل ملک میں پریس کی مکمل آزادی کا دھنڈورا پیٹ سکتے ہیں۔ ملک میں آزادی ہے، کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جمہوریت ہے۔ ووٹ سے منتخب ہوکر حکومت قائم کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس بات کا فیصلہ ریاست کرے گی کہ کب آزادی رائے کا حق، ملک دشمنی و غداری میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے عوام ووٹ دے سکتے ہیں لیکن ریاستی مفاد کے چوکیدار ہی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں کہ کون سے ووٹ شمار ہونے چاہئیں اور کن ووٹوں کو مسترد کرنا وسیع تر ’قومی مفاد‘ میں ہوگا۔
پاکستان بنا تو مسلمان خوش تھے۔ ایک خطہ زمین، ایک عقیدہ اور اپنے ہی لوگوں کی حکومت۔ پھر اپنے لوگوں میں کون مسلمان کے بعد کون زیادہ مسلمان کی تلاش میں تقسیم در تقسیم کا دردناک عمل شروع ہؤا۔ بابائے قوم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ’ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ آغاز کررہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری ہیں اور برابر کے شہری ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا مسلک سے ہو، اس کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ‘۔ لیکن ان کے آنکھیں موندتے ہیں پاکستانی آئین ساز اسمبلی کی ’مسلمان اکثریت ‘نے ’قرار داد مقاصد‘ میں طے کیا کہ ایسے باتوں سے نظریہ پاکستان گہنا سکتا ہے ۔ اس لیے ’ کائنات پر اللہ کی حاکمیت کی یاددہانی کرانا ضروری ہے۔ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ عقید فرد کا ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا ، اس لیے یہاں پر اسلام کے بتائے ہوئے قاعدے قانون کے مطابق ہی معاملات طے ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح جمہوریت بھی ضروری ہے لیکن پاکستان میں وہی جمہوریت نافذ ہوگی جس کی اسلام اجازت دے گا۔ اس قرار داد نے ریاست کے ناتواں کاندھوں پر یہ ذمہ داری بھی ڈال دی کہ وہ مسلمانوں کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی اسلام کی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق گزارنے کے قابل بنائے گی‘۔
’قرارداد پاکستان‘ کے ان تقاضوں نے ان ملاؤں کو کلی اختیار اور رہنمائی کا حق تفویض کردیا جنہیں بوجوہ اسلام کی تشریح و توجیہ کا حق پہلے ہی دیا جاچکا تھا۔ یوں جستہ جستہ عام لوگوں کا یہ خطہ ایسے مذہبی جنونیوں میں تبدیل کردیا گیا جو اب فتوؤں کی لاٹھیاں اٹھائے ایک دوسرے کا سر پھوڑنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔
پاکستان قائم ہؤا تو اس میں صرف مسلمان نہیں تھے۔ یہ مسلمان پنجابی، سندھی، پشتون، بلوچ یا کوئی دوسری نسلی نسبت بھی رکھتے تھے۔ وہ بلاشبہ ایک ہی رسول کا کلمہ پڑھتے ہیں لیکن ان کی زبان، ثقافت ، تہذیب اور سماجی رویے انہیں علیحدہ علیحدہ شناخت بھی دیتے ہیں۔ یہ امتیازات کسی بھی طرح تضاد کی بنیاد نہیں بن سکتے تھے لیکن پاکستان بننے کے بعد ’پاکستانی ‘کو شناخت کی بنیاد بنانے اور مختلف نسلی گروہوں کو اس حوالے سے اپنی پہچان قائم رکھنے کا موقع دینے کی بجائے ’نظریہ پاکستان‘ کا ایسا کلیہ تلاش کیا گیا جو انسانوں کے زمینوں سے تعلق کو ختم کرکے ایک خاص عقیدے اور نظریے کا پابند کرتا ہے۔ اس طرح ایک ہی ہلے میں ملک کی اقلیتوں کو پاکستان میں ’اجنبی ‘ بنا دیا گیا اور اس کے بعد مسلکی بنیاد پر تقسیم نے مسائل اور نفرتوں کے بوجھ میں اضافہ کیا۔
اب یہ لکیر حب الوطنی اور غداری کے کے بیچ واضح کی جارہی ہے۔ لیکن اسے نمایاں کرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کا اختیار ’ریاست‘ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ بدنصیبی سے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد اس نادیدہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلق و شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہورہی ہے۔ اور یہاں آباد 25 کروڑ لوگ اس دوران اس مشکل میں ہیں کہ کس آئینے میں اپنا عکس تلاش کریں۔ وہ جو آئین کی کتابوں تک محدود ’ریاست‘ دکھاتی ہے یا وہ جو ہزاروں سال کا تہذیبی ورثہ انہیں فراہم کرتا ہے۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ناروے
جمعہ, اگست 14, 2026
تازہ خبریں:
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- یوم آزادی: حب الوطنی اور غداری کے بیچ خونیں لکیر : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نام ور ترقی پسند دانشور پروفیسر امین مغل لندن میں انتقال کر گئے
- سنگین جرائم کی آماجگاہ بنا اسلام آباد : نصرت جاوید کا کالم
- ملتان ایئرپورٹ سے ایک دن میں 37 پروازوں کا نیا ریکارڈ
- عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کتابوں کی آخری ہچکی :وسعت اللہ خان کا کالم
- بلوچستان کے ضلع سوراب میں 15 اکست تک رات کا کرفیو : قلات اور خضدار میں پابندیاں
- نئے صوبے کی باتیں :امر جلیل کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ: توقعات اور حقائق : سید مجاہد علی کا تجزیہ

