Browsing: تجزیہ

عطااللہ تارڑ اور سہیل آفریدی کے بیانات یکساں طور سے واضح کرتے ہیں کہ اپوزیشن ہی نہیں حکومت بھی مسائل کی شدت سمجھنے یا انہیں حل کرنے کی طرف پیش قدمی کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

جس روز آئینی عدالت کے سربراہ کا آئینی بالادستی کے بارے میں روح افز ابیان شائع ہؤا ہے ، اسی روز یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ آئینی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کی طرف سے نجی ہسپتال میں علاج کرانے کی سہولت فراہم کرنے کے حکم کی تمام دستاویزات طلب کرلی ہیں۔

حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی بجائے انہیں مسلسل بڑھایا جارہا ہے۔ یہ فاصلے بد اعتمادی اور ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی مکالمہ اور جواب دہی کا طریقہ سنسر اور دیگر پابندیوں کے ذریعے یوں ہی ختم کیا جاچکاہے۔ اس صورت حال کو ’نیو نارمل‘ کر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملکی استحکام اور قومی سلامتی کا سوال ہے۔

22 اگست 1978 کی گونج نکاراگوا کی سرحدوں سے کہیں آگے تک سنائی دیتی ہے۔ یہ سبق دیتی ہے کہ جب مظلوم اقوام کو تمام قانونی راستوں سے محروم کر دیا جائے، تو ان کے پاس ریاست کے جبر و تشدد کا مقابلہ شجاعانہ، نظم و ضبط سے آراستہ قوت سے کرنے کا پورا حق ہے، لیکن ہمیشہ عوام کے مفاد کو ہی اپنا قطب نما بنا کر۔

لکیر حب الوطنی اور غداری کے کے بیچ واضح کی جارہی ہے۔ لیکن اسے نمایاں کرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کا اختیار ’ریاست‘ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ بدنصیبی سے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد اس نادیدہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلق و شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہورہی ہے۔ اور یہاں آباد 25 کروڑ لوگ اس دوران اس مشکل میں ہیں کہ کس آئینے میں اپنا عکس تلاش کریں۔ وہ جو آئین کی کتابوں تک محدود ’ریاست‘ دکھاتی ہے یا وہ جو ہزاروں سال کا تہذیبی ورثہ انہیں فراہم کرتا ہے۔
( تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں دیئے گئے )

پاکستان کے سیاسی نظام میں اپر مڈل کلاس تک کے آدمی کی رسائی صرف اور صرف ووٹر کی حد تک ہے اور اس کے ووٹ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ووٹ دیتے وقت بیچارے کو خود یقین ہی نہیں ہوتا کہ جو جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے ووٹوں کی تعداد کی وجہ سے اگر وہ جیت پاتی بھی ہے یا نہیں یا اس سے جیتنے دیا جاتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک مذاق کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اہم ووٹ دینے والا نہیں بلکہ ووٹ گننے والا ہے