سوشل میڈیا پر دکانیں چمکانیں والوں سے قطع نظر اب ملک کے ممتاز تجزیہ نگار، صحافی اور اندر کی خبر کھوج کر باہر نکال لانے والے…
Browsing: تجزیہ
وزیر اعظم نے 26 اگست کو پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کی عبوری رپورٹ ملنے کے بعد ہسپتال کے اہم ذمہ داروں کو فوری…
وزیر اعظم نے سیکرٹری صحت کو معطل تو کردیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا کیا قصور تھا ؟ کیا وہ تنہا ہی اس سانحہ کے ذمہ دار تھے یا وزیر اعظم کو کوئی چہیتا وزیر بھی جواب دہ ہے؟
22 اگست 1978 کی گونج نکاراگوا کی سرحدوں سے کہیں آگے تک سنائی دیتی ہے۔ یہ سبق دیتی ہے کہ جب مظلوم اقوام کو تمام قانونی راستوں سے محروم کر دیا جائے، تو ان کے پاس ریاست کے جبر و تشدد کا مقابلہ شجاعانہ، نظم و ضبط سے آراستہ قوت سے کرنے کا پورا حق ہے، لیکن ہمیشہ عوام کے مفاد کو ہی اپنا قطب نما بنا کر۔
لکیر حب الوطنی اور غداری کے کے بیچ واضح کی جارہی ہے۔ لیکن اسے نمایاں کرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کا اختیار ’ریاست‘ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ بدنصیبی سے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد اس نادیدہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلق و شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہورہی ہے۔ اور یہاں آباد 25 کروڑ لوگ اس دوران اس مشکل میں ہیں کہ کس آئینے میں اپنا عکس تلاش کریں۔ وہ جو آئین کی کتابوں تک محدود ’ریاست‘ دکھاتی ہے یا وہ جو ہزاروں سال کا تہذیبی ورثہ انہیں فراہم کرتا ہے۔
( تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں دیئے گئے )
پاکستان کے سیاسی نظام میں اپر مڈل کلاس تک کے آدمی کی رسائی صرف اور صرف ووٹر کی حد تک ہے اور اس کے ووٹ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ووٹ دیتے وقت بیچارے کو خود یقین ہی نہیں ہوتا کہ جو جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے ووٹوں کی تعداد کی وجہ سے اگر وہ جیت پاتی بھی ہے یا نہیں یا اس سے جیتنے دیا جاتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک مذاق کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اہم ووٹ دینے والا نہیں بلکہ ووٹ گننے والا ہے
پاکستان میں خیرات کی ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لوگ خیرات دے کر یا لے کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ کوئی یہ جاننا نہیں چاہتا کہ خیرات میں بانٹے جانے والے وسائل کو پیداواری سہولتوں میں صرف کرکے روزگار کے لاتعداد مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ سرکاری بجٹ میں ’بے نظیر انکم سپورٹ‘ پروگرام اس خیرات ثقافت کی نمائیندہ مثال ہے۔ اسی طرح پاکستانی اشرافیہ بھی درحقیقت اسی ’خیرات کلچر‘ کا حصہ ہے۔
یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ جب فریقین ایک دوسرے کی طاقت کے بارے میں بدگمانیوں سے باہر نکل آئیں تو سفارت کاری کا راستہ از خود کھل جاتا ہے۔
یہ پہلو قابل غور ہونا چاہئے کہ ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے عرب ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے کے بارے میں دورہ عراق کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے یہ بات ا س تنازعہ کے ثالث پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران نہیں کہی اور نہ ہی دیگر اہم عرب ممالک کے ساتھ گفتگو میں اس قسم کی کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
تاریخ ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں ہوتی بلکہ اگر صرف عسکری قوت پر انحصار کیا جائے تو عام طور سے مسائل کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
