میرے سید بھرا سید محسن نقوی (حال وزیر داخلہ مملکت اسلامیہ پاکستان و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ) نے چند روز قبل پاکستانی قوم کا سب سے زیادہ درد رکھنے والے لوگوں کے ایک عظیم الشان اجتماع سے بہت ہی دردیلا خطاب کرتے ہوئے انتہائی دردمندی سے یہ کہا کہ یہ "نظام” (سیاسی، معاشی و معاشرتی وغیرہ) collapse ہو چکا ہے!۔۔ ہم جیسے اردو میڈیم بدتمیز کو اصحاب حل وعقد۔۔۔ (یہاں عقد سے مراد شادی ہرگز نہ لیا جائے اگرچہ اس کی خواہش کرنا عین ثواب ہے)۔۔ یعنی ‘اصلی اور وڈے حکمرانوں اور ان کے ذہنی، عقلی اور عملی کارندوں ۔۔۔ کے خطابات اور گفتگوئیں سمجھنے کے لئے ہر پل انگریزی لغات کا سہارا لینے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اس لئے لفظ collapse کے معنی جاننے کے لیے فورا لغت/ ڈکشنری اٹھائی تو ” ڈھے جانا, منہدم ہونا، گر پڑنا، ڈھیر ہو جانا، ٹوٹ جانا، دھنس جانا، ٹوٹ کر بکھر جانا، دفعتاً ختم ہو جانا” وغیرہ اس کے معانی ملے ۔۔
بے حد حیرت ہوئی کہ سید بادشاہ نظام کی اس منہدم اور برباد شدہ'(کردہ) عمارت کے ملبے پر کھڑا کس حوصلے کے ساتھ اس کی نوحہ خوانی کر رہا ہے ۔۔۔۔ لیکن پھر ان کی نوحہ گری پر آنسو بہاتے حاضرین کی وڈیو کلپ کو غور سے دیکھا تو ان کو کنکھیوں سے باہم اشارہ بازی کرتے دیکھ کر یوں لگا کہ وہ تو ڈھئی ہوئی عمارت کا ملبہ خریدنے والوں کا مجمع ہے (جن میں ہر فرد خود اپنی بولی کے عوض اپنی مرضی کا ملبہ خریدنے کو تیار ہے) لیکن شاہ جی کے چہرے کے ماتمی تاثرات دیکھ کر یہ بدگمانی کچھ کم ہوئی، پھر اسی دوران میں جب شاہ جی نے اس قوم کے لئے مسیحائی کرنے والے ایک جید اور تگڑے سید کا ذکر کرنا شروع کیا تو ان کے چہرے پر چھا جانے والے نور عقیدت و محبت کے باعث یقین جانئے ہم بھی فرط جذبات سے بےقرار ہوگئے اور شاہ جی کے ہاتھ چومنے کی کوشش میں ٹی وی سکرین سے ٹکراتے ٹکراتے اس لئے بچ گئے کہ خاتون خانہ نے ٹی وی چینل بدلنے کا حکم صادر کیا تھا اور ان کی آواز ہمیں اس دنیائے آب و گل میں یوں کھینچ لائی جیسے کسی پیاسے کو ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے سے پیاس بجھانے کے لمحے میں گردن سے پکڑ کر گھسیٹ لیا جائے ۔۔۔ہم نے سہم کر پیچھے دیکھا اور چینل بدل دیا، دل پر کیا گزری یہ دل ہی جانتا ہے ۔
معذرت خواہ ہوں اس جذباتیت پر لیکن ۔۔۔ خیر میری وضاحتیں آپ کہاں مانیں گے ۔۔۔ بات ڈکشنری سے کولیپس کے معنی دیکھنے کی ہو رہی تھی جو ہم نے ترنت دیکھے اور آپ کو بھی بتائے۔
بات دو اعلیٰ مرتبت سیدوں کی ہو تو ہمارے اندر کی بے چینی نے ہمیں مختلف معتبر چینلز، اخبارات اور غیر معتبر سوشل میڈیا (اس نام نہاد میڈیا کو نامعتبر میں اس لئے کہتا ہوں کہ میرے دونوں ممدوح سید یہی کہتے ہیں، آپ چاہے اسے نسلی تعصب کہیں لیکن یہ میری مجبوری ہے) کو دیکھنا بھالنا شروع کیا تو بس خون ہی کھول گیا۔۔۔ (جاری ہے بشرط ہمت)
اتوار, اگست 9, 2026
تازہ خبریں:
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- عمران خان کی قید : حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں سوا سال کی بچی زیادتی کے نتیجے میں دم توڑ گئی
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ
- ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے : وجاہت مسعود کا کالم
- کیا ریفرنڈم نئے صوبوں کی راہ ہموار کر دے گا : نصرت جاوید کا کالم

