میں ہوٹل میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اچانک میری نظر سامنے والی میز پر جا پڑی۔ دیکھا تو ایک ناہنجار نما شخص چائے میں بسکٹ ڈبو ڈبو کر کھا رہا تھا۔بلکہ یوں کہیے کہ چٹاخ پٹاخ کی آوازوں کے ساتھ اپنے بھاڑ نما حلق میں ٹھونس رہا تھا۔اسے ناہنجار اس لیے کہا کہ عام طور پرمیں اسے، اور خاص طور پر اس کے بسکٹوں کو مسلسل للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ مگر مجال ہے جو اس کھٹور شخص کے دل میں اخلاقیات کا ذرا سا بھی جذبہ جاگا ہو۔ یا اس نے مروت کے طور پر ہی سہی، ایک آدھ بسکٹ میری طرف بڑھایا ہو ۔لیکن اس کی اخلاق باختگی اور دیدہ دلیری کی انتہا دیکھیے۔ جیسے ہی پلیٹ میں رکھے بسکٹ ختم ہوئے، اس نے کمال ڈھٹائی اور پوری کمینگی سے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ یہ دیکھ کر میں نے بھی اپنی بچی کچھی خودی کو بلند کرتے ہوئے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔لیکن دل ہی دل میں یہ ضرور بولا کہ ۔اے اخلاق سے عاری شخص! اب مسکرائے کیا ہوت ، جب چڑیاں چگ گئیں سارا کھیت۔
اس کے بعد میں نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور سچے دل سے سوچنے لگا کہ اس ملک سےانسانیت کا جذبہ بالکل ہی ختم ہو چکا ہے۔رہی بات شرم و حیا کی ۔ تو اب وہ بھی شاید کسی میوزیم ہی میں ملے گی۔ اس پتھر دل کی جگہ اگر کوئی دردِ دل رکھنے والا بندہ ہوتا تو میری حالت کے پیشِ نظر اس نے مروتاً ہی سہی، کم از کم ایک بسکٹ کی صلح تو ضرور مارنی تھی۔یہی سوچتے ہوئے اچانک ہی میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ معاشرے سے اخلاقیات کی تنزلی اور مل بانٹ کے نہ کھانے کا نوحہ لکھا جائے۔ یہ خیال آتے ہی میں نے جیب سے کاغذ قلم نکالا اور بڑے دھیان سے لکھتے ہوئے بولا چل میرے خامے۔۔۔ بسم اللہ! میری بات سنتے ہی قلم انگڑائی لیتے ہوئے بیزاری سے بولا۔ پپو یار تنگ نہ کر۔پھر آنکھیں نکالتے ہوئے کہنے لگا۔مجھے تکلیف دینے سے پہلے اک نظر ادھر تو دیکھو ۔ ہوٹل والوں نے تمہارے لیے بڑی سخت فیلڈنگ لگا رکھی ہے۔ اس بار تم چائے کا بل ادا کیے بغیر کسی بھی صورت یہاں سے چمپت نہیں ہو سکو گے۔یہ سنتے ہی میں نے کن اکھیوں سےادھر ادھر دیکھا تو واقعی ہوٹل والوں نے میرے ارد گرد گھیرا تنگ کیا ہوا تھا۔ خاص طور پہ وہ بیرا بڑی ہی خونخوار نظروں سے مجھے گھور رہا تھا جس کی تنخواہ سے پچھلی دفعہ بھی میری چائے کے پیسے کٹے تھے۔
صورتِ حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اندر سے ” تراہ” نکل گیا ۔ لیکن اس کے برعکس میں سجن بے پرواہ ہو کے بولا۔ میری فکر چھوڑو۔۔۔۔ تم سماجی و سیاسی اخلاقیات کے بارے میں کچھ بیان کرو کہ یہ کیونکر تنزلی کا شکار ہوئے؟۔ میری بات سن کر خامہ طنزیہ انداز میں بولا۔لگتا ہے ناہنجار کے رویے نے تمہیں خاصہ دکھی کر دیا ہے۔تو میں کھسیانا سا ہو کر بولا۔۔تو ادھر ادھر کی بات نہ کر، جو کہا گیا ہے بس وہی کر۔یہ سن کر قلم ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولا۔اے کھسیانے شخص! میرا مشورہ تو یہی ہے کہ آج کے دن بغیر ادائیگی مت جانا ۔ کیونکہ بیرے کے ہاتھ میں جھاڑو اور آنکھوں میں انتقام کی آگ دھک رہی ہے۔ جبکہ تمہاری جیب کی حالت یہ ہے کہ وہاں لال بیگ بھی بھوک سے مر گئے ہوں گے ۔اس پر میں بولا۔ اچھا چل، اخلاقیات کو چھوڑ تو مجھے یہاں سے محفوظ نکلنے کی ترکیب بتا۔تو خامہ میری حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے کہنے لگا۔ اے پھٹیچر نما انسان! پرانے زمانے میں مفت چائے پی کر فرار ہونا باقاعدہ "فنونِ لطیفہ” میں شمار ہوتا تھا۔ آج کے لونڈے لپاڑوں کی طرح نہیں جو دو کپ چائے کے ادھار پربھی نمبر بلاک کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس سابقہ دور کے استا د چائے پینے کے بعد کاؤنٹر پر پہنچتے ہی مختلف جیبوں میں ہاتھ ڈالتے۔ پھر یوں ہڑبڑا کر باہر نکالتے جیسے اندر کوبرا سانپ بیٹھا ہو۔ پھر منہ پر شدید مظلومیت سجا کر کہتے۔اوہو! میرا خیال ہے بٹوہ پرانے کپڑوں میں ہی رہ گیاہے۔(حالانکہ اس وقت بٹوہ موجودہ شلوار کی جیب میں بیٹھا ہنس رہا ہوتا)۔ اور ساتھ ہی پکا سا منہ بنا کر کہتے۔کل جرمانے سمیت ادا کر دوں گا۔اور اس سے پہلے کہ ہوٹل والا کچھ سوچے، موصوف جائے وقوعہ سے نو دو گیارہ ہو چکے ہوتے۔
ایک اور طریقہ بڑے نوٹ والا تھا۔ آپ جناب جیب سے سب سےبڑا نوٹ نکال کر کاؤنٹر پر پھینکتے۔ ہوٹل والا روہانسا ہو کر کہتا۔سائیں! میرے پاس چینج نہیں ہے۔ اسی لمحے کا تو جناب کو انتظار ہوتا۔فوری نوٹ واپس جیب میں ٹھونس کر الٹا اسی پر رعب جھاڑتے ہوئے کہتے۔حد ہے یار! اتنے چھوٹے سے نوٹ کے بھی کھلے نہیں ہیں؟ چلو اگلی بار اکٹھے کاٹ لینا۔اس کے بعد خامہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔اب ذرا موجودہ دور کے ڈیجیٹل زمانے کی بھی سن لو۔آج کل کا شہزادہ چائے ختم ہوتے ہی شاہانہ انداز میں آئی فون نکالے گا۔ سکرین پر انگلیاں نچاتے ہوئے کہےگا۔کیش نہیں ہے بھائی، QR کوڈ دکھاؤ۔جیسے ہی چائے والا کوڈ آگے کرے گا۔یہ سوانگ رچاتے ہوئے صدمے سے کہے گا۔اوہ شٹ یار! جاز کیش ہینگ ہو گیا ہے۔ تم نمبر لکھو میں ، گھر جا کر پیسے بھیجتا ہوں۔ لیکن وہ پیسے قیامت تک نہیں آتے۔اور کچھ ہائی ٹیک عیار تو موبائل میں۱۵۰ روپے منتقل ہو گئے ہیں کا جعلی سکرین شاٹ بھی تیار رکھتے ہیں۔ چائے والے کی آنکھوں کے آگے دو سیکنڈ موبائل لہراتے ہوئے کہیں گے۔ سر جی دیکھ لیں ۔ پیسے ٹرانسفر ہو گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن بس آتا ہی ہوگا۔اور اس سے پہلے کہ غریب ہوٹل والا میسج چیک کرے۔ موصوف موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو جاتے ہیں۔
اتنا لکھ کر خامہ صاحب نے تھوڑا سا وقفہ لیا۔پھر کہنے لگے اے ضرورت سے زیادہ کھسیانے شخص۔ اس کے علاوہ بھی فراڈ کے ایک سو ایک طریقے ہیں۔کہاں تک سنو گےَ ؟ کہاں تک سناؤں؟ ۔اس دوران مجھے ہوٹل سے فرار ہونے کی ترکیب سوجھ چکی تھی ۔اس لیے میں قلم کی تحسین کرتے ہوئے بولا۔ تم نے پرانے اور نئے زمانے کے فراڈز پر بہت اچھی روشنی ڈالی۔ اب لگے ہاتھوں پاکستان کے موجودہ سیاسی و معاشی حالات پر بھی کچھ تبصرہ ہو جائے تو۔۔؟ خامہ جو اس سے پہلےبہت بڑھ چڑھ کے باتیں کر رہا تھا۔ میری بات سنتے ہی اس کی آنکھیں دہشت سے پٹاخہ بن گئیں اور چہرے پر بارہ بج گئے( بلکہ سوا ایک بجے تک تو میں نے پکا نوٹ کیا )۔ پھر اس نے سر پر پاؤں رکھ کر ایسی دوڑ لگائی کہ مجھے بس دھول ہی نظر آئی ۔(لیکن کم بخت جاتے جاتے بھی بیرے کو میرے زیر التوا بل تھما گیا)۔تب سے اب تک میرا خامہ لاپتہ ہے۔۔۔کوئی جائے تو لے آئے، میری لاکھ دعائیں پائے۔
فیس بک کمینٹ

