گلگت : پاکستانی گلوگارہ قرۃ العین بلوچ کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ رات دیوسائی نیشنل پارک میں کیمپنگ کے دوران ایک بھورے ریچھ کے حملے میں زخمی ہوگئیں تھیں۔ جس کے بعد انھیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ قرۃ العین بلوچ کو بازو پر کچھ زخم آئے ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کو ہسپتال سے ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے اور وہ اس وقت سکردو میں ہی ہیں۔
گگلت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق یہ واقعہ دیوسائی نیشنل پارک میں بڑا پانی کے قریب پیش آیا۔ گلوکارہ کو زخمی حالت میں ریسکیو کر کے سکردو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انھیں طبی امداد دی گئی۔
فیض اللہ فراق کے مطابق حکومت نے اس واقعے کے بعد دیوسائی میں رات کے وقت کیمپنگ پر پابندی عائد کردی ہے۔ آئندہ کوئی سیاح رات کے وقت دیوسائی میں کیمپنگ نہیں کرسکے گا۔ ایسا حفاظتی اقدامات کے تحت کیا گیا ہے۔
نانگاپربت اور پہاڑی سلسلے ہمالیہ کے درمیان دیوسائی نیشنل پارک تین ہزار کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ پارک کئی نایاب جانوروں کی آماجگاہ ہے جن میں بھورے ریچھ بھی شامل ہے۔
گذشتہ کچھ عرصے میں گللگت بلتستان میں سیاحت اور کیمپنگ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ سنگر قرۃ العین بلوچ نے بھی دو روز قبل اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر سکردو میں قیام سے متعلق ایک پوسٹ شئیر کی تھی۔
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

