آمریت کا چکر مکمل ہونے پر قوم وہیں کھڑی ملتی ہے جہاں سے انحراف کیا تھا۔ آج ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہم گزشتہ غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ وقت فیصلہ کرے گا کہ ہم غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں یا غلطیوں کا اعادہ کر رہے ہیں
Browsing: کالم
مغربی پاکستان کے سولہ اخبارات میں 6 مئی 1949 کو ’غداری‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ اداریہ شائع کیا گیا جس میں سول اینڈ ملٹری گزٹ پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے کسی اخبار نے اس شرمناک کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ صرف امروز کے مدیر چراغ حسن حسرت نے یہ اداریہ شائع کرنے سے انکار کیا لیکن ان کی مزاحمت بھی چوبیس گھنٹے میں دم توڑ گئی۔
تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں مرنے مارنے کو بے چین حامی فی الوقت گھروں سے نکل کر ریاستی قوت کو للکارنے کی ہمت سے محروم ہیں۔
’’ہمیں مگرمچھ کہنے سے پہلے سو بار سوچا کریں۔ کیونکہ ہم پانی میں رہتے ضرور ہیں مگر پانی میں پانی نہیں ملاتے۔‘‘ .
ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ وقتی طورپر فقط تحریک انصاف کو دھچکا لگاتا نظر آئے گا۔ سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے مصر رہوں گا کہ بتدریج ہماری سب سیاسی جماعتیں اس کے منفی اثرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گی۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ،
1954 ء میں غیر جمہوری قوتوں کے دباؤ میں آکر وزیر اعظم نے دستور ساز اسمبلی کو برخواست کر کے نئی کابینہ بنائی ،جس میں میجر جنرل سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان اور صنعتکار ایم ایم اصفہانی کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔مولوی تمیز اُلدین نے دستور ساز اسمبلی کی برخواستگی کے حکومتی فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چلینج کیا، یہ مقدمہ تمیز اُلدین خان بنام وفاق پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔
لفظوں کا زخم تو مرہم سے بھر جاتا ہےمگر دوستو! گھر میں موجود بعض ‘خانگی آلاتِ حرب’ ایسے بھی ہیں کہ جن کا درد انسان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپاہج رکھتا ہے۔ دنیا کی ہر جنگ کا انجام معاہدۂ امن پر ہوتا ہے۔لیکن بیگم سے جنگ کا واحد نتیجہ غیر مشروط سرنڈر نکلتا ہے ۔
ہم میں سے بہت سے لوگ سانس لیتے ہیں اور ان کے دل بھی دھڑکتے ہیں، لیکن وہ زندہ نہیں ہوتے۔ وہ زندہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ تنہا ہوتے ہیں۔ وہ زندہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ محبت نہیں کرتے، یا کوئی ان سے محبت نہیں کرتا۔ وہ کسی تعلق میں نہیں ہوتے۔
پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ معاشرہ آخر کس چیز کو زیادہ اہمیت دیتا ہے: آزادی، مساوات، اجتماعی فلاح، جمہوری شرکت، ماحول کا تحفظ، پیداوار، یا ان سب کا کوئی امتزاج۔
بائیس سالہ اشفاق احمد جی پی او کی طرف سے سائیکل دوڑاتے ہوئے زمزمہ توپ کی طرف آئے اور سڑک کے بیچوں بیچ آرائشی چار دیواری پر پاﺅں ٹکا کر پرجوش لہجے میں اعلان کیا کہ پاکستان کے ڈاک ٹکٹ چھپ کر ڈاک خانے میں پہنچ گئے ہیں۔ دیکھئے، نمود عشق میں معمولی سا واقعہ بھی کیسی جذباتی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔
