دنیا میں احتجاج کے لیے اب صرف انسان ہی باقی نہیں رہے۔ انسانوں نے جب احتجاج کے نت نئے طریقے ایجاد کر لیے تو جانوروں نے بھی سوچا کہ آخر ہم کس جرم میں پیچھے رہیں؟ چنانچہ گزشتہ روز مگرمچھوں کی عالمی تنظیم کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں دنیا بھر سے مگرمچھوں نے شرکت کی اور پاکستانی اداروں کی جانب سے بعض بدعنوان افراد کو ’’بڑا مگرمچھ‘‘ قرار دیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اجلاس میں مگرمچھ برادری کے نمائندوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ انسان ایک دوسرے کو مختلف القابات سے نوازتے ہیں، لیکن کسی ایسے شخص کو جس نے قومی خزانے کو اپنی جیب سمجھ رکھا ہو، ہماری برادری کے نام سے پکارنا سراسر زیادتی ہے۔
ایک بزرگ مگرمچھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم صدیوں سے دریاؤں، جھیلوں اور دلدلوں میں خاموشی سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم نے کبھی کسی سرکاری فائل پر دستخط نہیں کیے، کسی ٹینڈر میں حصہ نہیں لیا، کسی منصوبے کی لاگت نہیں بڑھائی اور نہ ہی کسی ترقیاتی اسکیم کا بجٹ کھایا۔ پھر بھی جب کوئی صاحب کروڑوں کا حساب نہ دے سکیں تو فوراً انہیں بڑا مگرمچھ کہہ دیا جاتا ہے۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟‘‘
اس پر پورا ہال مگرمچھوں کی تالیاں بجانے سے گونج اٹھا۔
اجلاس میں ایک نوجوان مگرمچھ نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ اگر انسانوں کو کرپشن کی دنیا میں کوئی مناسب مثال درکار ہے تو انہیں اپنی لغت درست کرنی چاہیے۔ اس نے کہا، ’’ہم پانی میں رہتے ہیں، مگر قومی خزانے میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔ ہم شکار کرتے ہیں تو سامنے سے کرتے ہیں، فائلوں کے پیچھے چھپ کر نہیں۔ ہم اپنے شکار کو نگلتے ہیں تو کم از کم یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس نے کس کو کھایا ہے۔ یہاں تو کبھی کبھی کھانے والا بھی معصوم اور کھانے والا بھی سرکاری ریکارڈ میں غائب ہوتا ہے۔‘‘
اس جملے پر ایک طرف قہقہے بلند ہوئے جبکہ دوسری طرف چند مگرمچھوں نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔
اجلاس میں سب سے اہم قرارداد مگرمچھوں کے صدر نے پیش کی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کے تمام متعلقہ ادارے فوری طور پر اس اصطلاح پر نظرثانی کریں جس کے تحت بڑے مالی اسکینڈلز میں ملوث افراد کو ’’بڑے مگرمچھ‘‘ کہا جاتا ہے۔
صدر مگرمچھ نے کہا، ’’ہمیں یہ لفظ سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا میں کرپشن کا سب سے بڑا مسئلہ ہم ہیں۔ حالانکہ ہم نے کبھی سرکاری محکمے کی گاڑی اپنے رشتہ دار کے گھر نہیں بھیجی، کبھی ترقیاتی منصوبے کا تخمینہ نہیں بڑھایا، کبھی جعلی بل نہیں بنایا اور نہ ہی کسی فائل کو اس لیے روکا کہ اس میں ہمارے لیے کچھ نہیں تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں بہت سے ایسے جانور موجود ہیں جو مگرمچھوں سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔ ’’ہاتھی ہم سے بڑا ہے، وہیل ہم سے بڑی ہے، ڈائنوسار تو ہم سے بھی بہت پہلے دنیا میں موجود تھے۔ لیکن کسی نے انہیں بڑے مالی بے ضابطگیوں کی علامت نہیں بنایا۔ صرف ہمیں ہی کیوں بدنام کیا جا رہا ہے؟‘‘
مگرمچھوں کی عالمی تنظیم کے قانونی مشیر نے اجلاس کو بتایا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو تنظیم عالمی عدالتِ حیوانات سے رجوع کرنے پر بھی غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مگرمچھوں کی ساکھ پہلے ہی غیر ضروری طور پر خراب کی جا چکی ہے، حالانکہ دنیا کے کسی مگرمچھ کے خلاف یہ الزام سامنے نہیں آیا کہ اس نے کسی سرکاری محکمے میں بیٹھ کر عوامی پیسے کا حساب مانگنے والے افسر کو فون کر کے کہا ہو کہ ’’دیکھ لیں گے‘‘۔
اجلاس میں ایک اور دلچسپ تجویز بھی سامنے آئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کسی ایسے شخص کو مگرمچھ کہنے سے پہلے اس سے مگرمچھ برادری کی باقاعدہ اجازت لینا ضروری ہوگی۔ اگر اجازت نہ لی گئی تو اسے محض ’’بااثر شخص‘‘، ’’بااختیار صاحب‘‘ یا ’’معزز ملزم‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کیا جائے۔
مگرمچھوں کے صدر نے پاکستانی اداروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ کسی کرپٹ شخص کو مگرمچھ کے ساتھ تشبیہ دی گئی تو دنیا بھر کے مگرمچھ احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔ احتجاج کے پہلے مرحلے میں مگرمچھ دریا سے باہر نکل کر خاموش احتجاج کریں گے، دوسرے مرحلے میں وہ دلدل میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کریں گے، جبکہ تیسرے مرحلے میں وہ اس قدر منہ کھول کر احتجاج کریں گے کہ دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ اصل غصہ کیا ہوتا ہے۔
تاہم اجلاس کے اختتام پر ایک دانش مند بوڑھے مگرمچھ نے سب کو نصیحت کی کہ انسانوں سے زیادہ ناراض ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس نے کہا، ’’انسانوں کی عادت ہے کہ جس چیز سے ڈرتے ہیں اسے مثال بنا لیتے ہیں۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ اصل مگرمچھ پانی میں نہیں، بعض اوقات فائلوں کے اندر بیٹھے ہوتے ہیں۔‘‘
یہ بات سن کر پورا اجلاس چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔
پھر ایک مگرمچھ نے آہستہ سے پوچھا، ’’اگر اصل مگرمچھ فائلوں میں بیٹھے ہیں تو کیا انہیں پکڑنے کے لیے ہمیں بھی سرکاری دفتر جانا پڑے گا؟‘‘
صدر نے جواب دیا، ’’ہرگز نہیں! ہم اپنی عزت بچانے کے لیے پہلے ہی بہت کچھ کر چکے ہیں۔ اب انسانوں کو خود اپنی لغت درست کرنا ہوگی۔‘‘
اور یوں مگرمچھوں کا اجلاس ختم ہوگیا۔
البتہ جاتے جاتے صدر نے ایک آخری اعلان ضرور کیا:
’’ہمیں مگرمچھ کہنے سے پہلے سو بار سوچا کریں۔ کیونکہ ہم پانی میں رہتے ضرور ہیں مگر پانی میں پانی نہیں ملاتے۔‘‘ .
انٹرنیشنل مگر مچھ ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس : مگرمچھوں نے کیسے آنسو بہائے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
ایڈیٹر4 Views

