Browsing: ایران

حالت جنگ میں فریقین اپنی پوزیشن اور دشمن کی کمزوری کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔ یہی صورت حال اس وقت ایران کے خلاف جنگ جوئی میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ تمام تر طاقت کے باوجود نہ تو تہران میں حکومت تبدیل کرا سکا ہے اور نہ ہی اب جنگ بند کرنا اس کے اختیار میں دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کے امن اور اس ریجن کے استحکام کے لیے یہ صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔

بھائی چوڑے بازار کی گلیوں میں ادھر اُدھر گھوم رہے تھے کہ ایک سکھ نے انہیں پہچان لیا اور کہا کہ آپ کی ایک امانت ہمارے گھر میں محفوظ ہے۔ اندر گیا اور جزدان میں لپٹا ہوا کلام مقدس کا نسخہ اٹھا لایا اور عقیدت سے چوم کر بھائی کے ہاتھوں پر رکھ دیا۔

بعض لیڈروں کا کہنا تھا کہ جنگی حالات کی وجہ سے عبوری سربراہی کونسل معاملات دیکھ رہی تھی اور اس انتخاب میں جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یوں بھی آیت اللہ علی خامنہ ای اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کو نیا لیڈر بنانے کے خیال کو مسترد کرچکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلابی حکومت میں موروثیت نہیں ہونی چاہے۔ 1979 میں برپا ہونے والا ایرانی انقلاب درحقیقت شاہی موروثیت ہی کے خلاف تھا۔ البتہ کسی نہ کسی عذر کی بنا پر مرحوم لیڈر کے بیٹے کو نیا لیڈر بنا کر اسلامی انقلابی حکومت نے خود موروثیت کی بنیاد رکھ دی ہے۔

وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے صحافی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کے امریکی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات درست ہیں؟
جس پر امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کہ مجتبی خامنہ ای زخمی ہیں یا نہیں۔
انھوں نے مشورہ دیا کہ مجتبی خامنہ ای عقلمندی کا مظاہرہ کریں اور صدر ٹرمپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں۔

پاکستانی عوام دو پاٹوں کے بیچ خاموش تماشائی بننے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ بحرانوں اور بیرونی خطرے میں یک مشت ہوجانے والی قوم اس وقت شدید اندیشوں کی صورت حال کے باوجود کئی سطح پر تقسیم ہے اور قومی اتفاق رائے مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ایران کو اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جس محاذ آرائی کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی ملا رجیم نے نظریاتی تقسیم کی بنیاد پر خود کو ایک خاص مسلک کا نمائیندہ بنا کر علاقے کے تمام ممالک کے لیے چیلنج بنانے کی کوشش کی۔

ٹرمپ نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ کو بطور ایران کے نیا سربراہ ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایسا شخص چاہتے ہیں جو ایران میں ہم آہنگی اور سکون لانے میں اہم کردار ادا کر سکے۔‘