2025ء میں مذاکرات کے دوران امریکا نے اسرائیل کیساتھ ملکر ایران پر حملہ کر دیا اور 2026ء میں بھی امریکا نے مذاکرات کو ایک دھوکے کے طور پر استعمال کیا۔ دو مرتبہ دھوکہ کھانے کے بعد بھی ایرانی مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن انہیں ضمانت چاہئے کہ تیسری مرتبہ مذاکرات کے نام پر ان کیساتھ دھوکہ نہیں ہو گا۔
Browsing: ایران
ایران میں قیادت کا بحران دکھائی دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایرانی نظام نے اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے باوجود حکومتی نظام برقرار رکھا ہے۔ لیکن یہ غیر واضح ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان رابطوں اور اعتماد کی کیا صورت حال ہے۔ اس ماحول میں رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کی غیر حاضری محسوس کی جاتی ہے۔
ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا ان سیکیورٹی بریچز میں اندرونی عناصر شامل ہوتے ہیں؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس کا جواب صرف مستند شواہد کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔ اب تک کسی قابلِ اعتبار عالمی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ ایران میں موجود کسی مخصوص مذہبی برادری ، خواہ وہ کلیمی ہو، مسیحی ہو یا زرتشتی ان میں سے کسی کا ان واقعات میں کوئی کردار رہا ہے۔ زیادہ تر تجزیہ کار ان واقعات کو بین الاقوامی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑتے ہیں۔
وہ جب شہنشاہ ایران کو سعودی عرب لے کر گیا تو اس وقت اس کا تاریخی استقبال ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ہم ایک اسلامی بلاک بنائیں گے یہ ذوالفقار علی بھٹو کیوں پیدا ہو گیا تھا ایسے لوگوں کو تو غریب قوموں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے ایسی قومیں جن کو اپنی قوت کا پتہ نہ ہو جن کو اپنی مضبوطی کا پتہ نہ ہو جن کو اپنے بیماریوں کا پتہ نہ ہو ان میں ایک شعور والا کیوں پیدا ہو گیا تھا یہ وہ شعور والا تھا جو تمام صیہونی اور استعماری قوتوں کو چبھنے لگ گیا ۔
کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اب تک ایران میں 11000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔
لیویٹ نے مزید یہ بھی کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی اُن کی پہلی ترجیح ہے۔‘
’نو کنگز‘ کی تحریک گذشتہ برس جون میں صدر ٹرمپ کی سالگرہ کے موقع پر شروع ہوئی تھی جس میں ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں 2100 مقامات پر 40 سے 60 لاکھ افراد شریک ہوئے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے سوال پر المسلمی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک ڈراؤنا خواب ہے، اور یہ اسے مزید خوفناک بنا دے گا۔‘
’’عالمی میڈیا‘‘ کی جانب سے پھیلائی ناامیدی کے باوجود میں یہ امید دلانے کو مجبور ہوں کہ یہ کالم چھپنے کے 24سے 72گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوا تو ہمیں آئندہ کئی برسوں تک خلیج وایران ہی نہیں بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے پاکستان سے فلپائن تک پھیلے ملکوں میں بھی کامل ابتری کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
صحافی بارک راود نے خبر دی کہ ٹرمپ کے داماد اور دیرینہ دوست پاکستان کی وساطت سے ایران کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان رابطوں ہی نے پیر کی شام ٹرمپ کی جانب سے ہوئے اعلان کی راہ ہموار کی
زلفغاری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔‘
