میری قیوم خان کے ساتھ، زمانہ طالب علمی سے رفاقت تھی ۔ایک ہی محکمے میں ملازمت کے دوران تربیتی مراحل اور پیشہ ورانہ کورسز کے لیے اندرون اور بیرون ملک اکٹھے گئے اور ہمیشہ ایک ہی کمرے میں قیام کیا۔
قیوم خوگانی بہترین دوست ہونے کےساتھ پیشہ ورانہ زندگی میں قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے ۔اتفاق سے ساہیوال اور بہاولپور میں وہ میری کمانڈ میں رہے انتہائی قریب ہونے کے باوجود ہمیشہ مقام اور مرتبے کا خیال رکھا۔۔ ۔
قیوم خوگانی انتہائی رقیق القلب ،خدا ترس اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے ان کی حساس طبیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہےکہ فلموں اور ڈراموں کے فرضی کرداروں کی موت پر بھی ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے اور اکثر مجھے سرائیکی میں کہتے تھے کہ لالہ بہوں رنے آں(لالہ بہت رویا ہوں )۔ وہ خود پر گزرنے والی کیفیات کا اظہار کرنے میں بھی ماہر تھے اور بہت سی مشکل باتیں آسانی سے کرجاتے تھے۔کرونا کی وبا کو وہ انتہائی سنجیدگی سے لے رہے تھےاورانتہائی محتاط تھے وہ تمام حفاظتی اقدامات کر رہے تھے جس میں ہاتھوں میں دستانوں اور منہ پر ماسک کے ساتھ سینی ٹائز کرنا بھی شامل تھا۔اتنی احتیاط کے باوجود وہ اس بیماری کا شکار ہوگئے۔ علاج کے لیے انہوں نے لاہور کی بجائے ملتان کو ترجیح دی ، طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ میں دوران علاج ان کی طبعیت میں ایک مرتبہ انتہائی بہتری آئی تو سب دوست احباب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔اندرون و بیرون ملک ہمارے تمام مشترکہ دوستوں نے تشویش کے ساتھ ساتھ بے شمار دعائیں دیں۔ وہ محکمے کے انتہائی مستعد، فرض شناس آفیسر تھے انہوں نے دہشت گرد، سماج دشمن اور سفاک مجرموں کی بیخ کنی میں انتہائی سرگرم کردار ادا کیا قیوم خوگانی کو چند ماہ قبل انتہائی اہم ذ مہ داری پر لاہور تعینات کیا گیا تھا جہاں ان کے بچے پہلے سے زیر تعلیم تھے ۔قیوم خوگانی کی شہادت ان کے اہل خانہ دوست احباب اور رفقائے کار کیلئے کسی سانحہ سے کم نہیں۔اور میرے لیے تو ناقابل یقین ہے کہ وہ ہم میں نہیں۔
اتوار, ستمبر 13, 2026
تازہ خبریں:
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ

