ایک انتساب ۔۔”۔۔۔ملتان کے تمام ادیبوں اور شاعروں کے نام "۔۔۔۔ایک کتاب۔۔۔۔ملتان کے ان دنوں کا حوالہ سمیٹے ہوئے ۔۔۔۔جب ایک حرف کی حرمت کتابوں کے ڈھیر پر بھاری تھی ۔۔۔ایک ادبی منظر نامہ ۔۔۔۔۔جب ملتان میں اتنی ادبی اکیڈمیاں تشکیل پا چکی تھیں کہ ادیبوں کی تعداد کم اور اکیڈمیوں کی تعداد میں اضافے کی صورت ادب کے فروغ کا عشق پروان چڑھتا چلاجا رہا تھا۔۔۔صاحبو !!!یہ دور تھا انیس سو اسی تا انیس سو چھیاسی کا ۔۔۔۔۔ اس دور کے ادبی کینوس پر ایک ایسی نابغہ روزگار شخصیت نے اپنے تجربے و مشاہدے کے رنگ۔۔۔ کمال مہارت سے بکھیرے ہیں ۔۔۔۔جو اردو ادب کے ماہر استاد اور ایک بلند پایہ ادیب دانشور و شاعر ہونے کے معتبر حوالوں سے ہی نامور نہیں ۔۔بلکہ حسین آبی رنگوں سے باتیں کرنے کا محبوب مشغلہ انہیں اسیر مصوری بنا کر ایک جمال پسند مصور کا مقام بھی عطا کرچکا ہے ۔جی ہاں لفظوں کی اس کسوٹی پر جو نام پورا اترتا ہے وہ ہے جناب پروفیسر انور جمال صاحب کا۔۔۔۔
ان کے کالموں کے مجموعے جو” نوائے وقت” میں شائع ہوئےان کی کتابی صورت” ملتان رنگ” کو جناب مختار ظفر نے شعر و ادب کی جل ترنگ قرار دیا ہے اور دیباچہ لکھتے ہوئے جناب مصنف کو خوب خراج تحسین پیش کیا۔آپ کتاب کا دیباچہ صفحہ نمبر گیارہ پر لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔”۔پروفیسر انور جمال فی الواقع انور جمال ہیں ۔۔اس لیے کہ ان کی تخلیقات تنقیدات اور تصنیفات میں جمال ہی نظر آتا ہے ۔۔فکر ونظر کی روشنی میں وہ شعر کہے خاکہ نگاری کرےانشائیہ لکھے بذلہ سنجی کرے لطیفے کہے اس کی جمالیاتی حس ایسے گل کدے کی تخلیق کرتی ہے کہ مطلوب عشق و جان و تمنا کہیں جسے ۔۔۔”۔ کتاب کے
صفحہ نمبر انیس پر” ملتان رنگ پروفیسر انور جمال اور رول نمبر 257″ کے عنوان سے جناب رضی الدین رضی کچھ یوں ماضی کے اوراق پلٹتے ہیں ۔”
"۔ادب ادیب اور حب الوطنی جیسا سدا بہار موضوع بھی اس کتاب میں محفوظ ہے ۔۔۔۔کئی کالم تو ایسے ہیں کہ آج چالیس سال بعد بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ آج کی بات ہے ۔۔آئندہ دنوں میں کسی نے 1980کے ادبی منظر نامے میں جھانکنا ہوگا تویقینا یہ کتاب اس کے لیے مددگار ثابت ہوگی "۔۔
جناب رضی الدین رضی کے ناسٹلجیا کے بعد ۔۔۔۔۔صفحہ نمبر بائیس پر جناب شاکر حسین شاکر لکھتے ہیں ایک نہایت دل چسپ مضمون بعنوان "پروفیسر انور جمال کے چالیس برس پرانے نئے نکور کالم ۔۔
"۔۔اب یہ نئے نکور کالم کیسے ہوگئے؟؟؟ ۔۔۔اس امر کی وضاحت وہ یوں کرتے ہیں ۔”۔۔جب پروفیسر انور جمال نے یہ کالم لکھے تب انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ چالیس برس بعد ان کے کالموں کا یہ مجموعہ شائع ہوگا اور ان کالموں پر ان کے وہی شاگرد جو ان کو اخباروں کے دفتر پہنچاتے رہے دیباچہ لکھیں گے ۔۔۔اور یہ کالم ایک بار پھر نئے نکور ہوجائیں گے ۔۔”۔۔۔۔
محترم احباب ان کالموں کے ذریعے گرد گداگر گرما گورستان کے حامل خطہ ملتان میں ہونے والے ادبی سرگرمیوں تقریبات اردو اکیڈمی کے اجلاسوں ۔۔۔ادبی تنظیموں کے علاوہ ریڈیو ٹیلی ویژن تعلیمی ادارے ابلاغی مراکز۔۔۔تصوف کے دربار۔۔۔ آرٹس کونسل۔۔۔شعرو ادب کی رونقوں سے مزین ادبی اخبارات مجلے رسالے
رعنائی فکر کے ساتھ قلم بند ہیں ۔
۔۔محترم احباب انسانی زندگی کے تحرک میں روز و شب کے بے شمار ہنگامے ہیں کبھی تو وقت کی رفتار دیکھتے ہوئے یوں لگتاہے ۔۔۔۔۔ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں یا وقت بہت آگے جا چکا ہے ۔۔۔۔۔۔گویا
"چلتے چلتے نقطہ آغاز آجاتا ہے پھر ۔۔۔
۔جن سے ہم اب تک نہ نکلے دائرے ایسے بھی ہیں
۔۔۔ماضی کے سنہری اوراق سمیٹتی یوئی اس کتاب میں ان لوگوں کا ذکر خیر بھی ملتا ہے جو آج اس دنیا میں نہیں ۔۔جناب عاصی کرنالی ثمر بانو ہاشمی عرش صدیقی کو کون بھلاسکتا ہے خطہ ملتان کا ادبی منظر نامہ ان کے تمام ادبی ناموں کے ساتھ جگمگا رہا ہے ۔۔۔جن کو تو بس عصمت لوح وقلم عزیز تھی ۔۔۔
۔۔۔سہرےکتبے خطبہ استقبالیہ خطبہ صدارت اور نثری شعری مسودوں کی اصلاح کے تذکروں میں ایک۔۔۔۔ پیراگراف صوفی محمد صاحب کے ادارہ شعر وادب کے حوالے پڑھیے ۔۔۔۔۔اور تحریر کی شگفتگی کا ادراک کیجیے ۔۔جناب انور جمال لکھتے ہیں ۔۔۔۔
صوفی فقیر محمد صاحب نے سر گودھا میں ایک ادبی اصلاحی ادارہ قائم کیا۔۔اورپھر آنے والے سائلوں کی یہ ضیافت کہ ان کی فرمائش پر سہرےقطعےسپاسنامے اور خطبہ صدارت تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکھ دیتے ہیں اور کچھ حاصل نہیں کرتے ۔۔۔اب ہم پر یہ راز فاش ہواکہ صوفی صاحب ان تمام صلاحیتوں کے باوجود فقیر کیوں رہ گئے ۔۔۔”
اسی مضمون میں صفحہ نمبر تین سو سڑسٹھ پر ایک اقتباس مزید دل چسپ تاریخی ہے ۔۔۔۔ اور باقی ادبی ستاروں کی کہکشاوں کی تلاش میں یہ کتاب سخن سرائے پبلیکیشنز سے حاصل کرنے کے لیے جیب صرف ،چھ سو روپے ضرور ہونے چاہیں ۔۔۔۔۔بے حد شکریہ سر انور جمال آپ نے مجھے یہ تحفہ ادب اپنے آٹو گراف کے ساتھ عنایت کیا ۔۔۔۔۔واپس آتے ہیں کتاب کے صفحہ نمبر 367 پر ۔۔۔۔۔”
کھڑکی کھلی رکھنا” کے حوالے یہ دل چسپ اقتباس… "کھڑکی کھلی رکھنا کے عنوان سے مجلس فنون میں انوار احمد نے اپنا افسانہ پڑھا ۔۔۔صدارت پروفیسرفاروق عثمان نے کی ۔۔۔تنقید کا آغاز جابر علی سید نے کیا اورکہا کہ عنوان مریضانہ دروں بینی کے خلاف احتجاج ہے اور افسانے کی تکنیک شعور کی رو ہے جس میں خود کلامی بھی ہے اور خارجی زندگی سے رابطہ بھی ۔۔۔فاروق عثمان نے کہا کہ افسانے میں بوڑھے کا کردار بڑا اہم کردار لیکن سوال یہ ہے کہ افسانہ نگار نے پہلے اس بوڑھے کی طرف ذرا توجہ نہ دی ۔۔۔اور پھر اس کی طرف ایسا ما ئل ہوا کہ دوسری طرف دھیان ہی نہ دیا ۔۔۔۔آخر اس کے اندر ایسی تبدیلی کیوں ہو ئی۔۔۔۔۔۔تبدیلی سے متعلق ۔۔۔اس تنقیدی سوال کا جواب نئے لکھنے پڑھنے والوں کے لیے آج بھی لکھنے کا۔۔۔ حوصلہ بلند کرےگا ۔۔۔۔کہ تنقید نشست کتنی اہمیت کی حامل ہوتی یے ۔۔یاد رہے ۔۔ملتان کا ادب نامہ انہیں بلند پایہ ادیبوں کی ادبی کاوشوں سے زندہ و تابندہ ہے ۔۔۔۔۔
آخر میں سر انور جمال کا شعر انہیں کی نذر ۔۔۔۔
میں جلتی دھوپ کا موسم ہوں میرے ساتھ نہ چل
مرا سفر تو عبارت ہے رائیگانیو ں سے ۔۔۔
مٹیں گے بھی تو نقش چھوڑ جائیں گے
بقا کا نام ہے زندہ ہم ایسے فانیوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
صائمہ نورین بخاری کا تبصرہ : ملتان رنگ ، ماضی کے سنہری اوراق اور پروفیسر انور جمال
ایڈیٹر19 Views

