Browsing: شاکر حسین شاکر

بھرپور سیاسی زندگی گزارنے کے بعد رانا تاج احمد نون 9 ستمبر 2017ء کی صبح ملتان میں انتقال کر گئے۔ ان کو آبائی گاؤں میں جب سپردِ خاک کیا گیا تو ہزاروں لوگ ان کی معنوی اولاد بن کر نم آنکھوں سے انہیں رخصت کر رہے تھے کہ شجاع آباد کی سیاست کا تاج اب منوں مٹی کے تلے جا سویا ۔ رانا تاج احمد نون کی شخصیت کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ وہ کرپشن کیے بغیر دنیا سے چلے گئے۔ ایسے بے داغ اور اُجلے سیاست دان اب ہمارے بچوں کے نصیب میں کہاں ہیں؟

جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔

اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوں کو اعتماد اور قوت اظہار عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے تھے۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

یہ صرف ایک فون انڈیکس نہیں، بلکہ میری زندگی کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس کے ہر صفحے پر ایک چہرہ آباد ہے، ہر نمبر کے پیچھے ایک آواز محفوظ ہے، اور ہر نام کے ساتھ زندگی کا ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔

یہ کتاب صرف روسی ادب کے مطالعے کے لیے ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کے شفاف اسلوبِ ترجمہ اور گہرے ادبی شعور سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی ضرور خریدنی چاہیے۔ ان کے تراجم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری کو کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ ترجمہ پڑھ رہا ہے؛ یوں لگتا ہے جیسے اصل تخلیق اردو ہی میں لکھی گئی ہو۔

نیاز احمد نے جو کتب شائع کیں اس سے ان کتابوں کو نئے قاری ملے جو ایک عرصے سے الماریوں میں بند تھیں ان کے ایڈیشن ختم ہو چکے تھے۔ نیاز احمد نے ایسی بے شمار کتابوں سے مٹی جھاڑی، ان کو نئے انداز آسے شائع کیا جس سے ملک میں پبلشنگ کی دنیا میں انقلاب آیا۔ انہوں نے کتابوں سے عشق کیا اسی عشق نے ان کو لازوال شہرت عطا کی کہ نیاز احمد خود تو دس سال پہلے ہم سے جدا ہو گئے لیکن ان کی شائع کردہ کتب ان کی یادوں کو ہم سے محو نہیں ہونے دیتیں کہ بقول گلزار:
’’کتابیں جھانکتی ہیں اور نیاز احمد کتاب کے ہر ورق اور لفظ میں موجود ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اگر مجھے کسی نے ملنا ہو، یاد کرنا ہو، وہ کتابوں کا سنگ میل طے کرے اور مجھ سے ملاقات کر لے۔ مَیں ہر کتاب میں اپنے چاہنے والوں کو ملوں گا۔‘‘