گوادر : پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع گوادر میں اتوار کو ’بلوچ قومی اجتماع‘ منعقد ہو رہا ہے اور اس اجتماع میں شرکت کے لیے جانے والے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک قافلے پر مستونگ میں فائرنگ ہوئی ہے جس میں 14 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما اور قافلے میں موجود بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ فائرنگ ایک مقامی ہوٹل کے قریب اس وقت کی گئی جب قافلہ کوئٹہ کراچی ہائی وے پر پہنچنے والا تھا۔
مستونگ میں نواب غوث بخش رئیسانی شہید میموریل ہسپتال کے ترجمان ارباب اویس کاسی نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے 14افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک تھی جنھیں طبیّ امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ پہلے ان کے قافلے کو کوئٹہ کے نواح میں سونا خان تھانے کے علاقے میں روکا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جب یہاں سے انھیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تو انھوں نے دشت سے کنڈ میسوری کے راستے مستونگ جانے کی کوشش کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں بھی ایف سی اور پولیس کے اہلکارموجود تھے جنھوں نے قافلے کو روکنے کے لیے مبینہ طور پر آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ لاٹھی چارج بھی کیا، لیکن قافلے کے لوگ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب قافلہ کوئٹہ کراچی ہائی وے کے قریب پہنچا تو اس پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ان کے 14ساتھی زخمی ہوگئے ہیں۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی گاڑیوں پر فائرنگ ایف سی کے اہلکاروں نے کی، جس سے چھ گاڑیوں کے ٹائر بھی پھٹ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ فی الحال انھوں نے فائرنگ کے واقعے کے خلاف آئندہ کا لائحہ طے ہونے تک جائے وقوعہ کے قریب ہائی وے پر دھرنا دیا ہوا ہے۔
اس واقعے کے حوالے سے متعدد ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں، جن کی اگرچہ آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جاسکی، لیکن بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ وہ اسی واقعے کی ہیں۔ان ویڈیوز میں فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں، لیکن فائرنگ کرنے والے نظر نہیں آرہے ہیں۔
گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ان گولیوں کے خالی خولوں کو اکھٹا کیا جارہا ہے جو قافلے پر فائر کیے گئے تھے، جبکہ بعض ویڈیوز میں قافلے میں شامل چند گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔اس واقعے کے حوالے سے انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے ڈپٹی کمشنر مستونگ سے فون پر رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جبکہ کمشنر قلات سے رابطہ نہیں ہوسکا۔تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مستونگ میں فائرنگ سے متعلق خبریں صرف افواہیں ہیں۔ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی اطلاعات غیر مصدقہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو دانستہ طور پر خرابی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے، قانون سے کوئی مبرا نہیں، امن میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ترجمان کے مطابق گوادر میں مظاہرے کے درپردہ عزائم واضح ہیں، پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے، تاہم قانون کسی کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انھوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی دعوت دے چکے ہیں اور اس حوالے سے وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبائی اسمبلی میں پالیسی بیان بھی دیا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
مستونگ : بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قافلے پر فائرنگ : 14 افراد زخمی، اطلاعات غیر مصدقہ ہیں۔۔۔ حکومت
ایڈیٹر6 Views

