دستیاب تاریخ کے مطابق علم لسانیات کی بنیاد ہی برصغیر میں رکھی گئی۔ پانینی (500 ق م) نے سنسکرت کی گرامر اشٹادھیائی لکھی جس میں 3959 قاعدے ہیں۔ آج کی جدید لسانیات میں جو phoneme اور morpheme کی اصطلاح ہے وہ پانینی ہزاروں سال پہلے استعمال کر چکا تھا۔ اسی لیے پانینی کو دنیا کا پہلا لسانیات دان کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد پتنجلی، بھرتری ہری سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
انگریزوں اور ہندوستانیوں کا دور
سر ولیم جونز (1786) جن پر ہم نے گزشتہ مضمون میں بات کی، انہوں نے یہ ثابت کیا کہ سنسکرت اور فارسی بہنیں ہیں۔
جان گلکرسٹ (John Gilchrist) فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے پرنسپل تھے ، انہوں نے 1796 میں اردو/ہندی کی پہلی گرامر لکھی اور ثابت کیا کہ اردو کا ڈھانچہ ہندی ہے۔
راجہ رام موہن رائے (1830) – انہوں نے بنگالی اور سنسکرت گرامر پر کام کی –
راجندر لال مترا اور بھاؤ داجی ،یہ ہندوستانی تھے جنہوں نے جونز کے نظریے پر 1850-60 میں مضامین لکھے۔
مولانا محمد حسین آزاد پہلے شخص تھے جنہوں نے اسے اردو زبان میں عام استادوں اور طلبہ کے لیے لیکچر کی صورت میں پیش کیا۔
مولوی چراغ علی (1844-1895)
ایک نام مولوی چراغ علی بھی ہے جو سر سید احمد خان کے قریبی رفیق اور حیدرآباد ریاست کے فنانس سیکرٹری تھے۔
وہ لسانیات دان تو نہیں تھے، البتہ کثیر اللسان (polyglot) تھے۔ ان کی تعلیم گھر پر ہوئی اور وہ فارسی، عربی، انگریزی، فرانسیسی، عبرانی، آرامی، لاطینی اور یونانی جانتے تھے۔
ان کا کام زبان کی بناوٹ پر نہیں بلکہ الفاظ کے معنی پر تھا۔ وہ سرسید کے سکول آف تھاٹ سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن مجید میں "جہاد” کا مطلب جنگ نہیں بلکہ جدوجہد ہے، اور اس دور کے انگریز مستشرقین کے اعتراضات کے جواب دیے۔ ۔
چراغ علی زبانوں کو استعمال کر کے مذہب کی اصلاح کرتے تھے۔
جبکہ محمد حسین آزاد نے زبانوں کی آپس کی رشتہ داری کو سائنسی طور پر ثابت کیا ۔
مولانا محمد حسین آزاد (1830-1910) اردو کے پہلے جدید لسانی محقق تھے۔ ان کی کتاب سخن دانِ فارس دراصل ان لیکچروں کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1860 کی دہائی میں لاہور کے ٹریننگ کالج میں معلموں کو دیے تھے۔ اس کا پہلا حصہ 1872ء میں اور دوسرا 1887ء میں شائع ہوا۔
یہ کتاب بظاہر فارسی زبان کی تاریخ پر ہے، لیکن آزاد کا اصل مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ فارسی اور اردو اور ہندی کی ماں سنسکرت آپس میں اجنبی نہیں، سگی بہنیں ہیں۔
اس وقت تک عام خیال تھا کہ اردو فارسی سے نکلی ہے اور فارسی عربی کی بہن ہے۔ آزاد نے سر ولیم جونز کے اس نظریے کو جو 1786 میں پیش ہوا تھا، پہلی بار اردو میں عام فہم انداز میں پیش کیا کہ دنیا کی بڑی زبانیں ایک ہی خاندان سے ہیں۔
آزاد لکھتے ہیں کہ "قدیم آریا جب اپنے وسط ایشیائی وطن سے نکلے تو ایک شاخ ایران کی طرف گئی اور ایک ہندوستان کی طرف۔ اس لیے پارسی اور سنسکرت دو بہنوں کی طرح ہیں جو بچپن میں جدا ہو گئیں”۔
آزاد نے صرف دعویٰ نہیں کیا، سینکڑوں الفاظ سے ثابت کیا کہ ان کی جڑیں ایک ہیں۔ ان کے نزدیک فرق صرف تلفظ کا ہے
1 صوتی تبدیلی کا اصول
آزاد کہتے ہیں سنسکرت کا ‘س’ فارسی میں اکثر ‘ہ’ بن جاتا ہے۔
– سنسکرت سندھو فارسی ہندو
– سنسکرت سوم فارسی ہوم (سوم رس)
– سنسکرت سَپتَ (سات) فارسی ہفت
2. اعداد
سنسکرت ایک فارسی یک
سنسکرت دو فارسی دو سنسکرت دَشَ (دس) فارسی دہ
3 رشتے
سنسکرت ماتَر فارسی مادر
– سنسکرت بھراتَر فارسی برادر
– سنسکرت دُہِتَر فارسی دختر(بیٹی)
4 عام استعمال کے الفاظ
– سنسکرت نام فارسی نام
سنسکرت نو (نیا) فارسی نو
– سنسکرت چَکشُ (آنکھ) فارسی چشم-
– سنسکرت گرم فارسی گرم
آزاد کہتے ہیں یہ اتفاق نہیں ہو سکتا۔
سخندانِ فارس کی اہمیت
1.اردو میں تقابلی لسانیات کی پہلی کتاب یورپ میں جو کام جونز اور میکس مولر نے انگریزی میں کیا، وہ کام آزاد نے اردو میں کیا۔
2. اردو کی اصلیت کی وضاحت
انہوں نے ثابت کیا کہ اردو نہ تو صرف فارسی ہے نہ ہندی، بلکہ دونوں کی مشترکہ وارث ہے۔
3. سائنسی طریقہ
انہوں نے زبان کو "نامیاتی” چیز کہا جو وقت کے ساتھ خود بڑھتی اور بدلتی ہے، یہ خیال اس زمانے میں بالکل نیا تھا۔
مختصر یہ کہ سخندانِ فارس ایک نصابی کتاب سے بڑھ کر وہ پہلی اینٹ ہے جس پر اردو لسانیات کی عمارت کھڑی ہے۔ آزاد نے عام مسلم ہندوستانی کو پہلی بار بتایا کہ جس فارسی پر ہمیں ناز ہے اور جس سنسکرت کو ہم پرایا سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں ایک ہی ماں کی بیٹیاں ہیں۔
ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
ایڈیٹر1 Views

