مشتاق کھوکھر صاحب بہت مزے کےآدمی تھے۔ ایک سائیکل سوار ’’ تنہا دبستان ‘‘ تھا جس نے اپنے دکھوں کو بھلانےکے لیے ادب کواپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا ۔ وہ صبح سویرے سائیکل پرگھرسے نکلتے ، فوٹو سٹیٹ دعوت ناموں کا ایک پلندہ ان کے پاس ہوتا تھا ۔ وہ سارے شہر کا چکر لگاتے ۔ دعوت نامے تقسیم کرتے ۔ شدید سردی ہو یا شدید گرمی ۔۔چلچلاتی دھوپ ہو یا یخ بستہ ہوائیں ۔۔ شہر کسی ہنگامے یا آفت کی زد میں ہو یا کوئی اور معاملہ ، مشتاق کھوکھر کے معمولات میں تبدیلی نہیں آتی تھی۔کھوکھر صاحب خود بھی طرحی و غیر طرحی مشاعرے کراتے اور دیگر ادبی تنظیموں کے اشتراک سے بھی تقریبات کا اہتمام کرتے ، کئی بار انہیں بعض سینئرز کے رویوں سے مایوسی بھی ہوتی ۔
کوئی انہیں گھر کے باہر انتظار کراتا۔ کوئی گھر موجود ہونے کے باوجود ملاقات سے انکار کر دیتا ۔ پھر کھوکھر صاحب پورے شہر میں اس کا ’’عرس پڑھتے ‘‘ اور لوگوں کو بتاتے کہ فلاں شریف آدمی کا کام دیکھیں میں اس کے گھر گیا تو اس نے کہلوا بھیجا کہ وہ گھر پر نہیں ہے پر ’ سائیں اساں وی برے دے گھر جا کے اوں کو اوندے گھر پچاندے آں ۔ میں تھوڑی دیر بعد ہک پی سی او توں اوں کوں ڈپٹی کمشنر بنڑ کے فون کیتا تے اوں اٹینڈ کر گھدا ۔ میں آکھیا سائیں میں سیکل تے دولت گیٹ توں کاںڈھا ڈیونڑ شالیمار کالونی آیاں تے تساں کوڑ ماریا اے ۔ اونویں تے نعتاں پڑھدے او ‘ ( سائیں ہم بھی برے کے گھر جا کر اسے اس کے گھر پہنچاتے ہیں ۔ میں نے کچھ دیر بعد ایک پی سی او سے ڈپٹی کمشنر بن کر فون کیا تو اس نے اٹینڈ کر لیا ۔ میں نے کہا سائیں میں سائیکل پر دولت گیٹ سے دعوت نامہ دینے شالیمار کالونی آیا ہوں اور آپ نے جھوٹ بول دیا ویسے تو آپ نعتیں پڑھتے ہیں )
یہ اور ایسے بے شمار دلچسپ واقعات ہمیں مشتاق کھوکھر کی زبانی سننے کو ملتے تھے ۔ بسا اوقات وہ بے پر کی بھی اڑا دیتے تھے ، لیکن مجموعی طور پر وہ بے ضرر اور معصوم انسان تھے ۔
سخن ورفورم کے زیراہتمام 27نومبر 2011ء کو ملتان میں جنوبی پنجاب اہل قلم کانفرنس منعقد ہوئی۔اس تقریب کی مہمان خصوصی بشری رحمان تھیں جب کہ صدارت کے لیے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے وقت لیا گیا تھا ۔ تقریب کے لیے پورے وسیب سے ادیب اور شاعر ملتان پہنچے ۔ اسی رات نیٹو فورسز نے پاکستان کے سرحدی علاقے میں دو پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملہ کر دیا اس سلالہ حملے میں ہمارے چھبیس جوان لقمہ اجل بن گئے۔۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عین وقت پرگیلانی صاحب کا دورہ منسوخ ہو گیا ۔ صبح سویرے یہ خبر سنی اور پھر ہم نے سوچا کہ سب مندوبین پہنچ چکے ہیں اس لیے تقریب منسوخ کرنا اب مناسب نہیں ہو گا ۔۔ اس کانفرنس میں گیلانی صاحب کی نمائندگی ان کے صاحب زادے علی موسی گیلانی نے کی اوروزیر اعظم کی جانب سے مستحق ادیبوں کی کتابوں کی اشاعت اور فلاح و بہبود کے لیے سخن ور فورم کو بیس لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کر دیا ۔ یہ اعلان بعد ازاں بس اعلان ہی رہا اور اس پر عمل درآمد کی اس لیے نوبت نہ آئی کہ وزیراعظم ہاؤس کے عملے کی جانب سے اس چیک کے اجراء کے لیےدس لاکھ روپے رشوت مانگی جا رہی تھی ۔۔
چیک تو خیر کیا جاری ہونا تھا ملتان کے ادبی حلقوں میں ماتم بہر حال شروع ہو گیا ایسی پھسوڑی پڑی کہ رہے نام اللہ کا ۔۔ برادرم نسیم شاہد اس زمانے میں بھی پاکستان اخبار میں روزانہ ہی کالم لکھا کرتے تھےانہوں نے اس چیک کے اجراء اور شفافیت کے حوالے سے سوال اٹھانا شروع کر دیے ۔ انہی دنوں اے پی پی میں بحالی کے بعد مجھے ایک لاکھ روپے کے واجبات وصول ہوگئے اور میں اپریل 2012 میں والدہ اور اہلیہ کے ہمراہ عمرے پر روانہ ہو گیا ۔
پہلے تو شک تھا اب لوگوں کو بیس لاکھ روپے کی وصولی کا یقین ہو گیا ۔ عمرے سے واپسی کے بعد ایک روز مشتاق کھوکھر کے ساتھ سامنا ہو گیا
کہنے لگے بیس لاکھ روپے میں عمرہ بھی کر آئے مبارک ہو ۔۔
’’ کھوکھر صاحب میں کوئی ملا ہوں جو اس طرح عمرہ کروں گا ؟ آپ کیوں غلط باتیں پھیلا رہے ہیں ُ‘‘
میرے جواب پر انہوں نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے ایک ہی سانس میں ان بہت سے لوگوں کے نام لے دیےجن کی زبانی انہوں نے یہ قصہ سنا تھا ۔۔
مشتاق کھوکھر کو پیار سے سب کانڈھا ملتانی بھی کہتے تھے ۔ عاصی کرنالی صاحب کو وہ اپنا استاد کہتے ان سے اصلاح بھی لیتے لیکن عاصی صاحب کئی بار ان کی غزلوں یا نعتوں کو سرسری طور پر یا عجلت میں دیکھ کر انہیں واپس کر دیتے اور عاصی صاحب کے تصحیح کردہ کلام میں بھی کوئی سقم باقی رہ جاتا ۔۔ ایک بار ہم لقمان ناصر صاحب کی دعوت پر محلہ شریف پورہ میں سائیں حبیب کے ڈیرےپر مشاعرہ پڑھنے گئے ۔ عاصی کرنالی صاحب کی صدارت تھی جب کہ مہمان خصوصی حسین سحر اور اقبال ارشد تھے ۔ اب یہ یاد نہیں کہ عاصی صاحب کو واپس ہم کس کی گاڑی پر چھوڑنے جا رہے تھے لیکن واپسی پر مشاعرے کا احوال زیر بحث آیا تو کسی نے کھوکھر صاحب سے کہہ دیا کہ آپ کی نعت کے فلاں فلاں مصرعے میں گڑ بڑ تھی ۔ کھوکھر صاحب خاموش ہو گئے ۔ ہم نے بھی چٹکی لی کہ کھوکھر صاحب آپ عاصی صاحب کو اپنا کلام دکھا لیا کریں ۔۔ اب کھوکھر صاحب عاصی صاحب کو مخاطب ہو کر شروع ہو گئے ۔۔ ’’ عاصی صاحب آپ کو دکھایا تو تھا ۔۔ ‘‘ لیکن عاصی صاحب نے اس موقع پر خاموش رہناہی مناسب سمجھا ۔۔
مشتاق کھوکھر 11 اگست 1946ء کو ملتان میں پیدا ہوئے انہیں ادبی حلقوں میں مجاہدِ ادب بھی کہا جاتا تھا۔ مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔’’عارف منصور ملتانی‘‘ نے ملتان میں دبستانِ وارثیہ کا سلسلہ متعارف کرایا تو مشتاق کھوکھر نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور پھرملک بھر میں جہاں کہیں بھی مشاعرہ منعقد ہوتا وہ معاشی تنگ دستی کے باوجود شرکت کرتے۔ مشاعروں کے اس سلسلہ میں قمروارثی دبستان وارثیہ کراچی سے ہرسال ردیفیہ کلام کاانتخاب شائع کرتے ہیں جس میں مشتاق کھوکھر کا بہت سا نعتیہ ادبی سرمایہ محفوظ ہے۔
انہوں چند برس ’’منظر‘‘ رسالہ کی سیریز شائع کی جس میں ملتان کی بہت سی شخصیات کے بارے میں مضامین شائع کیے۔ ملتان کے گردونواح کے شعراء اور ادبی شخصیات کے بارے میں لگ بھگ 250 منظوم نظمیں لکھیں اور تقریبات میں پڑھیں۔ مگر اپنے تخلیق کردہ ادبی سرمائے کو وہ کتابی شکل نہ دے سکے انہوں نے نامور شاعر’’ارشد ملتانی‘‘ مرحوم کے فن اور شخصیت پر ایک کتاب بھی مرتب کی۔ زندگی کے آخری ایام میں گردے فیل ہوجانے کے باعث ایک ماہ تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے ۔ اس موقع پر سخن ور فورم نے ادبی بیٹھک میں ان کے علاج معالجے کے لیے ایک کاوش کی اور جتنا بھی ممکن ہوا سب نے اس میں اپنا حصہ ڈالا ۔ ہم نےان کی تیمارداری کےبہانے گیارہ مارچ دو ہزار تیرہ کو ان کےگھر پہنچے ۔ ۔ کھوکھر صاحب آبدیدہ ہو گئے ۔ ہماری خواہش تھی کہ ان کا علاج ہو اور وہ ہمارے درمیان اسی طرح موجود رہیں ۔ لیکن یکم اپریل2013ءکو وہ ہم سے جد ہو گئے کہ انہیں معلوم تھا ’’ اتھ آوے دا آوا چٹ اے ‘‘اور سب کے لیے تقریبات سجانے والا یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کی وفات کے بعد اسے بھی اسی طرح فراموش کر دیا جائے گا ۔ آج ان کی برسی پر تحریر کیا جانے والا یہ مضمون بس ایک یاد دہانی ہے کہ ملتان والو کانڈھا ملتانی کو فراموش نہ کرو ۔
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

