اگر ہم نے اپنی درسگاہوں کو آؤٹ سورس کر دیا تو صرف عمارتیں اور انتظام نہیں بدلیں گے، بلکہ خدشہ ہے کہ ہماری صدیوں کو محیط تعلیمی روایت، ہماری علمی شناخت اور ہمارا فکری ورثہ بھی آؤٹ سورس ہو جائے گا۔
Browsing: لکھاری
اس وقت خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور افراد کی شرح 29 فیصد ہے ۔ یہ شرح 2018 میں 22 فیصد تھی۔ گویا ملک کا ہر تیسرا شہری اپنی آمدنی سے پیٹ بھرنے کے قابل نہیں ہے۔
ایرانی قیادت کوخطے کی ناانصافیاں اور امریکی تسلط ختم کرنے کی بجائے اپنے عوام کی بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بنیادی وسائل سے محروم ایرانی عوام کی صورت حال کو پیش نظر رکھا جائے تو ایران مزید ایک دن بھی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
حکمران اشرافیہ خوش ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ان کے مابین ریاست کے مائیکرو ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فارمولا طے ہوگیا ہے ۔ خلق خدا کا مگر کیا ہوگا جس کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے گرنے کے خوف سے کاملاََ مایوس و مفلوج محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے ۔
ہزاروں مظاہرین راولا کوٹ کے قرب میں جمع ہیں لیکن حکومت انہیں دارالحکومت مظفر آباد پہنچنے سے روکنے کے انتظامات کررہی ہے۔ شہروں میں کرفیو کی صورت حال ہے اور مساجد سے اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں۔ پورے خطے میں بداعتمادی اور تصادم کی تکلیف دہ صورت حال موجود ہے۔
اسے عصرِ حاضر کے سماجی اور فکری ادب میں ایک قابلِ توجہ اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب آپ رضی الدین رضی صاحب کے ادارے گردوپیش پبلی کیشنز ملتان سے منگوا سکتے ہیں۔
رابطہ نمبر
03186780423
اصل مسئلہ فورسز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے مقاصد اور کارکردگی ہیں۔ عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولت چاہیے۔ اگر کسی ادارے کی تشکیل واقعی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہو تو یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن جب عام آدمی کو ہر طرف وردی ہی وردی نظر آنے لگے تو اس کے ذہن میں سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اگلا نمبر ہمارا تو نہیں؟
ایران نہ صرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے وجود کو ناجائز قرار دے کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور امن کی کوششوں کے درمیان اس دعوے کو دہرانا ضروری سمجھا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ عدلیہ اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ مکالمہ بڑھے، اعتماد بحال ہو اور انصاف کو صرف قانونی اصطلاح کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی قدر کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر ایسا ہو سکا تو نہ صرف عدلیہ کا وقار بلند ہوگا بلکہ پاکستان میں ایک زیادہ منصفانہ، متوازن اور انسان دوست معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط ہو سکے گی۔
کشمیری عوام اور پاکستانی حکمران آپس میں الجھیں گے تو فائدہ بھارت اٹھائیگا۔ آج جس عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنٹ کہا جا رہا ہے صرف آٹھ ماہ قبل ان بھارتی ایجنٹوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنیوالوں کے بارے میں ہم کیا کہیں ؟کل کو آپ اسی ایکشن کمیٹی کیساتھ پھر مذاکرات کرینگے جسے دہشت گرد قرار دیا گیا۔
