Browsing: لکھاری

اب لگتا یہ ہے کہ امریکہ موجودہ دور میں عالمی تھانیداری (Global Policing) کے ہردم مہنگے ہوتے ہوئے کردار کو ترک کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور امریکہ کی جانب سے “پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اجتماعی سلامتی ایگریمنٹ” جیسے علاقائی سلامتی کے معاہدوں کی حمایت اسی بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، تو نئی ابھرتی ہوئی عالمی صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ اب یک طرفہ سلامتی کے روایتی امریکی ماڈل کو اہمیت باقی رہتی ہے یا چین کی مشترکہ اجتماعی سلامتی پالیسی تسلیم کی جاتی ہے؟

حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی بجائے انہیں مسلسل بڑھایا جارہا ہے۔ یہ فاصلے بد اعتمادی اور ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی مکالمہ اور جواب دہی کا طریقہ سنسر اور دیگر پابندیوں کے ذریعے یوں ہی ختم کیا جاچکاہے۔ اس صورت حال کو ’نیو نارمل‘ کر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملکی استحکام اور قومی سلامتی کا سوال ہے۔

لیکن جیسا میں نے کہا کہ یہ بنکاک کا محض ایک چہرہ ہے۔ اگر آپ ثقافت، تاریخ یا کھیل کے دلدادہ ہیں تو یہ شہر آپ کا دل موہ لے گا۔ سونے کے پانی سے بنے ہوئے مندروں سے لے کر مہاتما بدھ کی مورتیوں تک اور میلے ٹھیلوں سے لے کر کِک باکسنگ کے عالمی مقابلوں تک، بنکاک وہ سب کچھ پیش کرتا ہے جو کسی اور شہر میں نہیں۔ یہاں لوگ پلاسٹک سرجری کروانے آتے ہیں، ہر دوسری عورت نے یہاں ’فِلرز‘ لگوائے ہوئے ہیں اور بندے یہاں میک اپ کر کے یوں پھرتے ہیں کہ لڑکی کا گمان ہوتا ہے، انہیں لیڈی بوائے بھی کہا جاتا ہے۔ جنس تبدیل کروانے کی پوری صنعت بنکاک میں ہے۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی یہ شہر کمال ہے، سستا اور اچھا کھانا بنکاک کا طرہ امتیاز ہے۔ ساٹھ بھات (تقریباً ساڑھے پانچ سو روپوں ) میں آپ کسی شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھ کر اچھا کھانا کھا سکتے ہیں اور اگر اِس سے بھی کم پیسوں میں کھانا ہو تو سڑک کے کنارے ریڑھی سے بار بی کیو کھا لیں۔ اِس سے سستا صرف فاقہ۔

اس وقت دنیا بلاشبہ امریکہ جیسی سپر پاور کے غلط فیصلوں اور صدر ٹرمپ جیسے عاقبت نااندیش لیڈر کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے لیکن یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ کوئی ابھی اس غلط حکمت عملی کو چیلنج کرنے پر تیار نہیں ہے۔ گویا دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں۔ لہذا سعودی عرب ہو یا چین ، اسے اپنے مستقبل کے لیے واشنگٹن کی طرف ہی دیکھنا پڑتا ہے۔

اسامہ بن لادن کو نائن الیون کے ایک دہائی بعد ایبٹ آباد کے ایک گھر میں ایک ایسے فوجی ایکشن میں ہلاک کیا گیا جو عالمی ضابطوں کے خلاف اور دہشت گرد ہتھکنڈوں کے قریب تر تھا۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر معاملہ ایک شخص ہی کا تھا تو اسے تو افغانستان میں بھی ویسے ہی ہلاک کیا جاسکتا تھا جیسے اسے پاکستان میں مارا گیا۔

یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ لوگوں کی اکثریت حکومت کو پیر کی رات ہوئے اضافے کا ذمہ دار ٹھہراکر برا بھلا کہنے کے بجائے جماعت اسلامی کے نسبتاًجواں سال امیر حافظ نعیم الرحمن کا تمسخراڑارہی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے جماعت اسلامی کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی ناقابل برداشت قیمتوں کے خلاف دھرنے دے رہی ہے۔

نظریاتی سیاست میں کوئی فرد اہم نہیں ہوتا، طے شدہ عقیدے کے مفروضہ مقاصد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اپنے نظریات سے مخلص فرد یا گروہ غیر ارادی طور پر ایسی قوتوں میں گھر جاتا ہے جو اس کی ذاتی صلاحیت اور اثر و رسوخ سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔

اگر مستقبل میں خواتین اور غیر مسلم نمائندے براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں تو ان کی سیاسی حیثیت اور عوامی جواب دہی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی۔

یہ سوال بھی مسلسل حیرت کا سبب ہے کہ نظام کی تباہی کی ’خبر‘ دینے والا وزیر داخلہ خود کیسے اپنے عہدے پر موجود ہے۔ اگر نظام تباہ ہوچکا ہے تو اس تباہی میں کسی ملک میں امن و امان اور قانون کی بالادستی کے ذمہ دار شخص کو سب سے پہلے مورد الزام ٹھہرانا چاہئے۔ لیکن اسے تو معتمد اور پیامبر کا مقام عطا کرکے عزت واحترام سے سرفراز کیا جارہا ہے۔