Browsing: لکھاری

70کی دہائی تک شاید کسی کو سہراب گوٹھ کا پتا تک نہ ہو مگر سپر ہائی وے جہاں سے شروع اور جہاں ختم ہوتی ہے کراچی سے جانے اور پہنچنے تک وہ 80کی دہائی میں اسلحہ اور ڈرگ کا سب سے بڑا اڈہ بن گئی جہاں سے کراچی میں اس کی سپلائی شروع ہوئی اور پھر شہر خون آلود ہوگیا۔

پاکستان میں آئندہ کئی نسلوں تک اسی طبقے کی ذریات حکومت کریں گی جس نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر ایسے وسائل جمع کر لیے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلا سکتے ہیں۔ ان بچوں کی بڑی تعداد پاکستان واپس نہیں آئے گی۔ جو تھوڑے بہت یہاں لوٹیں گے انہیں محمد شعیب، معین قریشی، شوکت عزیز اور باقر رضا جیسے موسمی پرندوں میں شمار کیجیے۔

یہ طے نہیں کرپارہا کہ امریکہ اور ایران مک مکا کی جانب بڑھ رہے ہیں یا جنگ کے ایک رائونڈ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ذہن میں موجود کنفیوڑن سے شرمندہ ہوں کر ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہوا یہ کالم گھسیٹ مارا ہے۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

ماہرین کی ’تحقیق‘ یہ بھی تھی کہ اسے بہت زیادہ چمک والے جوتے نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ایسے جوتے مہنگے وکلا اور بینکرز پہنتے ہیں سو جوتوں کی چمک کچھ کم ہونی چاہیے مگر اتنی کم بھی نہ ہو کہ اشرافیہ اسے گھٹیا سمجھے اور اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ عام بندہ اسے اشرافیہ میں سے سمجھے سو اُس کی ٹیم نے ’مناسب چمک‘ کا معیار طے کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ کو 7300 ڈالر دیے اور یقینی بنایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے جوتے پہنے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں ۔

پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی دنیا میں پانچویں اور معیشت 40 ویں نمبر پر ہے۔ انسانی ترقی میں پاکستان 193 ملکوں میں 168 ویں نمبر پر ہے۔ 1574 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ پاکستان 145 ممالک میں 121 ویں نمبر پر ہے۔

اردو اخبارات میں ایسا کیا انوکھا پن ہے کہ کوئی پڑھے۔ خبریں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے مل جاتی ہیں۔ اشتہارات سے عام قاری کو کیا غرض۔ میگزین صفحات کم یا ختم ہوچکے ہیں۔ خیر، ان میں بھی کیا ہوتا ہے۔ پٹے ہوئے موضوعات پر پھسپھسے مضامین۔ آپ لکھنے والے کو پیسے نہیں دیں گے تو وہ شوقیہ چاند ماری کرے گا۔ اس پر تو ایسا ہی مال ملے گا۔ ان سے بہتر مواد بی بی سی اور دوسری نیوز ویب سائٹس پر مل جاتا ہے۔

معاہدہ ابراہیمی کی بات کرنا ایک سیاسی مؤقف ضرور ہے لیکن صدر ٹرمپ اس مؤقف کو معروضی و زمینی حقائق کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے، اسرائیل کو اپنی عالمی ذمہ داریاں قبول کرنے پر مجبور کریں۔ اگر ٹرمپ یا امریکہ یہ کام کرنے سے قاصر ہے تو وہ علاقے کے ممالک سے مطالبہ نہیں کرسکتا کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔بنیادی مسائل حل کیے بغیر اسرائیل کے لیے مشرق وسطیٰ میں کوئی احترام پیدا نہیں ہوسکتا۔

مارچ 2026ء سے قبل دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار امریکہ خلیجی ممالک سے بھیجے تیل کی ترسیل کے نظام کا یک وتنہا ضامن تھا۔ اسی باعث بحرین وقطر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم ہوئے تھے۔ خلیجی ممالک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے گزشتہ کئی دہائیوں سے اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بھی خریدا جارہا ہے جو اب کام آتا نظر نہیں آرہا۔