Browsing: لکھاری

پانی کے سوال پر دونوں ملکوں کے درمیان شروع ہونے والی کوئی جنگ مکمل تباہی کے بغیر ختم نہیں ہوگی۔ اس جنگ کی لپیٹ میں برصغیر ہی نہیں دیگر ممالک بھی آسکتے ہیں۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ اسے جتنی جلدی پڑھ کر سمجھ لیا جائے دنیا کے امن کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

اگر اس سرزمینِ وحی کے دفاع کا موقع آتا تو یقین مانیے، ہر مسلمان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا تھا۔ اس لیے کہ یہ موقع اس کی ساری زیست کا ثمر ہوتا۔ اس کی زندگی کی معراج ہوتا۔ سرزمینِ توحید کا دفاع اس کا سب سے بڑا اعزاز ہوتا۔ یہی اسکا رستہ یہی اسکی منزل ہوتا ۔ یہی اس کی دنیا یہی اس کا دین ہوتا۔

زندگی بھر اخلاقیات کی دھجیاں اڑائیں، لوگوں کے حقوق غصب کریں، ناپ تول میں کمی کریں، ملاوٹ کریں، جھوٹ بولیں، اور آخر میں کوئی ایسا نسخہ مل جائے کہ بس ایک چکر کاٹیں اور سیدھے جنت کے باغوں میں پہنچ جائیں۔ یہ مفت کی جنت کا وہ لولی پاپ ہے جو ہم نے خود کو دے رکھا ہے۔

یہ پہلو قابل غور ہونا چاہئے کہ ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے عرب ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے کے بارے میں دورہ عراق کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے یہ بات ا س تنازعہ کے ثالث پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران نہیں کہی اور نہ ہی دیگر اہم عرب ممالک کے ساتھ گفتگو میں اس قسم کی کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے

امریکہ کے ساتھ کسی قابل قبول معاہدے کے بغیر نہ تو ایران پر سے تمام پابندیاں ختم ہوں گی اور نہ عرب ممالک کے لیے خود سر ایران کی بالادستی ماننا ممکن ہوگا۔ یہ مسئلہ فتح کے شادیانے دھیمے کرکے بقائے باہمی کے اصول کے تحت علاقے کے تمام ملکوں کے ساتھ مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنے سے ہی حل ہوسکتا ہے۔

کتاب کے نام میں حالیہ ایران امریکا جنگ کے تناظر میں ایک نئی معنویت پیدا ہوئی ہے ۔۔ ہمیں اس کے مطالعے کے دوران ایران ایک ابابیل کی طرح امریکی ہاتھیوں کے لشکر کو کنکریوں کے ذریعے بھس کے ڈھیر میں تبدیل کرتا نظر آتا ہے ۔۔

1984ء میں میرے بھارت روانہ ہونے سے قبل اندراگاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھ قتل کردی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں دلی کے علاوہ شمالی بھارت کے کئی شہروں میں خوفناک سکھ دشمن خونی فسادات ہوئے۔ بھارتی میڈیا اپنی سرکار کے ایماء￿ پر دہائی مچاتا رہا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک کو پاکستان بھڑکارہا ہے۔