جب کردار زندہ ہو تو نام خود بخود معتبر ہو جاتے ہیں، اور جب کردار مر جائے تو دنیا کی تمام مقدس تختیاں بھی اعتماد کو واپس نہیں لا سکتیں۔
Browsing: لکھاری
اس وقت پورے برطانیہ کی کل پوے سات کروڑ آبادی میں تقریباً 4 فیصد سے بھی زیادہ لوگ ہم جنس پرست ہیں (یعنی انہوں نے مردم شماری کے فارم میں خود کو ہم جنس پرست ڈکلیئر کیا ہوا ہے) ایسے لوگوں کو یہاں ہر طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہے۔
کہتے ہیں عمر بڑھتی ہے تو پرانی چوٹوں میں بھی درد اٹھتا ہے۔ اگر کسی نے اپنا درد بیان کیا ہے تو اسے سن لیجیے اور اپنے اندر کے پوٹینشل متشدد کو لمحہ بھر کو سلا دیجیے۔ مہربانی ہو گی۔
پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ معاشرہ آخر کس چیز کو زیادہ اہمیت دیتا ہے: آزادی، مساوات، اجتماعی فلاح، جمہوری شرکت، ماحول کا تحفظ، پیداوار، یا ان سب کا کوئی امتزاج۔
بادی النظر میں کوئی فریق بھی براہ راست طویل المدت جنگ کی طرف نہیں بڑھنا چاہتا۔ مکہ معظمہ پر میزائل پھینکنا یا عراق سے سعودی آئل پائپ لائن پر حملہ ، ایسے ہی غلط اندازوں یا فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ فریقین اس بحران سے نکل آئیں گے۔
بائیس سالہ اشفاق احمد جی پی او کی طرف سے سائیکل دوڑاتے ہوئے زمزمہ توپ کی طرف آئے اور سڑک کے بیچوں بیچ آرائشی چار دیواری پر پاﺅں ٹکا کر پرجوش لہجے میں اعلان کیا کہ پاکستان کے ڈاک ٹکٹ چھپ کر ڈاک خانے میں پہنچ گئے ہیں۔ دیکھئے، نمود عشق میں معمولی سا واقعہ بھی کیسی جذباتی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔
جس روز آئینی عدالت کے سربراہ کا آئینی بالادستی کے بارے میں روح افز ابیان شائع ہؤا ہے ، اسی روز یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ آئینی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کی طرف سے نجی ہسپتال میں علاج کرانے کی سہولت فراہم کرنے کے حکم کی تمام دستاویزات طلب کرلی ہیں۔
اب لگتا یہ ہے کہ امریکہ موجودہ دور میں عالمی تھانیداری (Global Policing) کے ہردم مہنگے ہوتے ہوئے کردار کو ترک کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور امریکہ کی جانب سے “پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اجتماعی سلامتی ایگریمنٹ” جیسے علاقائی سلامتی کے معاہدوں کی حمایت اسی بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، تو نئی ابھرتی ہوئی عالمی صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ اب یک طرفہ سلامتی کے روایتی امریکی ماڈل کو اہمیت باقی رہتی ہے یا چین کی مشترکہ اجتماعی سلامتی پالیسی تسلیم کی جاتی ہے؟
حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی بجائے انہیں مسلسل بڑھایا جارہا ہے۔ یہ فاصلے بد اعتمادی اور ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی مکالمہ اور جواب دہی کا طریقہ سنسر اور دیگر پابندیوں کے ذریعے یوں ہی ختم کیا جاچکاہے۔ اس صورت حال کو ’نیو نارمل‘ کر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملکی استحکام اور قومی سلامتی کا سوال ہے۔
ایران، امریکہ/اسرائیل جنگ میں یاران سرپل اور میڈیا والے اپنا زور خطابت دکھاتے رہے کہ امریکہ/اسرائیل کی ایران کے ساتھ مسلط کی گئی جنگ سے پوری…
