Browsing: لکھاری

1982ء میں انھوں نے ملتان میں “فاران اکیڈمی” کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ادبی پلیٹ فارم کا مقصد پاکستانی ادب اور قومی فکر کے تناظر میں ایک متبادل علمی آواز پیدا کرنا تھا۔ اس ادارے کے ذریعے کئی نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی تربیت ہوئی، جنہوں نے بعد ازاں ملکی ادب میں اپنا مقام بنایا۔
ان کی تصانیف میں “خیال و نظر”، “تناظرات”، “پاکستانی ادب کا منظرنامہ”، “سرائیکی نقد و ادب”، “دل و نظر کا سفینہ” اور سفرنامۂ حج “سجدہ ہر ہر گام کیا” شامل ہیں۔

پگ میرے ویر دی ہمراہ 19 نومبر کو گرما گرم سائیڈ پروگرام انتخابی نشان پگڑی سنبھال جٹا ، تمنا کیسی کیوں نہ ہو ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے اے کہوٹہ بیوٹی پارلر ہم تیری طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو توڑ دیں گے تم نے ڈھاکہ دیا ہم نے لکس انٹرنیشنل سوپ لیا ۔ بالوں اور سیاسی نظام کی خوبصورت آ رائش کے لیے مسلم لیگ ہیئر کٹنگ سیلون آ پ کا مخلص چراغ دین انتخابی نشان ٹیبل ۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

اس عمل میں جس تحمل اور صبر و ضبط کی ضرورت ہے، ٹرمپ جیسا جلد باز لیڈر شاید اس کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اگرچہ سرکاری طور سے امریکہ کی فتح کا حوالہ دیتے ہوئے یہی کہا جاتا ہے کہ امریکہ کو جلدی نہیں ہے۔ وہ غیر معینہ مدت تک انتظار کرسکتا ہے۔
ا

کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہے جو انہیں 2021 میں امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی لیکن طالبان کے انتہا پسند عناصر نے اقتدار ملنے کے بعد اس معاہدے یا دیگر عالمی قواعد و ضوابط کو ماننے کی بجائے اپنی پرانی ڈگر برقرار رکھی۔

مل کی یونین کا دعویٰ ہے کہ ایک سو تینتیس لاشیں تو انہوں نے اٹھائیں ان کے علاوہ بھی درجنوں سائیکل تھے جو کوئی لینے نہ آیا، یہ وہ دور تھا کہ ملتان میں امروز اخبار تھا جو ولی محمد واجد، سعید صدیقی احمر ، مظہرعارف اور حشمت وفا جیسے مزاحمت کاروں کے ذریعے اس قتلِ عام کی خبریں دے رہا تھا۔ تب جی ٹی ایس، کھاد فیکٹری اور دیگر اداروں میں فعال انجمنیں تھیں جس کی وجہ سے یوم مئی پر طالب علم ، استاد اور وکیل خطاب کرتے تو فیض اور جالب ہی نہیں استاد دامن بھی ان کے ترجمان ہو جاتے

پاکستان سے فلپائن تک پھیلے میرے اور آپ جیسے کروڑوں افراد ایران اور امریکہ کو تخت یا تختہ کی صورت حال میں دھکیلنے کے ذمہ دار نہیں۔ ان دونوں کے مابین کئی دہائیوں سے جاری مخاصمت مگر ہماری زندگیاں عذاب بنارہی ہیں اور ہم کسی بھی صورت ان دو ممالک کو لچک دکھانے کو مجبور نہیں کرسکتے۔ رواں ہفتے کا آخری کالم لکھتے ہوئے میرے دل ودماغ آپ کو خیر کی امید دلانے کا ایک فقرہ بھی سوچنے کے قابل نہیں۔

ایران کی انقلابی حکومت نے گزشتہ 47 سال میں اعتماد سازی کی بجائے انتشار اور بلیک میلنگ کی پالیسی اختیار کی۔ اب بھی آبنائے ہر مز کے سوال پر وہ پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا ایران کی مرضی مسلط کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ایران میں چونکہ غیر عوامی حکومت مسلط ہے جو اپنے عوام کی بہبود پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی اسلام پھیلانے میں دلچسپی لیتی رہی ہے، ا س لیے اسے اب بھی اپنے عوام کی پریشانیوں کا زیادہ احساس نہیں ہے۔ ایران میں نہ تو کسی کو رائے دینے کی اجازت ہے اور نہ ہی کوئی شخص حکومت سے سوال کرسکتا ہے کہ جنگ بند کرنے میں کیا قباحت ہے؟

چند روز قبل مطیع اللہ جان نے ایران امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان آئے غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب رکھی تھی جس میں انہوں نے حکومت پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مقدمات بنانے اور ان کے خلاف کاروائیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینل نے انہیں حکومتی دباؤ پر ملازمت سے فارغ کیا۔

حکومت سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو دفن کرنے کا اہتمام کررہی ہے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں ہے کہ وقت تبدیل ہونے کے ساتھ یہی طریقہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کے برعکس استعمال ہوگا۔ عدلیہ کی خود مختاری پر ہونے والے حملے ججوں کو بے اختیار اور جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔