Настройки смартфона позволяют сделать это — перейдя в раздел по безопасности устройства. После установки разрешений пользователь сможет без ограничений загрузить приложение на русском языке. В своем…
Browsing: لکھاری
پٹرول کا تذکرہ سنتے ہی مولانا بڑے ہی جاہ و جلال سے گرجے۔ عزیزم! یہی تو وہ روحانی نکتہ ہے جو تم جیسے کم عقل نہیں سمجھتے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے لوگ پیدل چلیں گے۔ سانس پھولے گا تو زبان پر بے اختیار یا اللہ! میری سچی توبہ! کا ورد جاری ہوگا۔ حکومت تمہیں سڑکوں پر ذکرِ الہیٰ میں مشغول دیکھنا چاہتی ہے
اس دوران بہت سی قیاص آرائیوں نے جنم لیا سید یوسف رضا گیلانی پر ایک بڑا دباؤ یہ تھا کہ اس اغواء کا مقدمہ سیاسی مخالفین کے خلاف درج کرایا جائے مگر انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جس کے بعد سے سید علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی بھر پور مہم چلانے کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔
یہ مبارکباد کا لمحہ تو ہے اوراس لیے بھی ہے کہ ہم نے زندہ نہ ہونے کے باوجود زندہ رہنے کا ڈھونگ رچایا۔ ہم مرنے کے باوجود دفنائے نہ جا سکے۔ ہم سچ بولنے کے باوجود جھوٹے کہلائے اور اس کے باوجود خود کو سچا سمجھتے رہے۔
مبارک باد تو بہت ضروری ہے اوراس لیے ضروری ہے کہ جس معاشرے میں روزانہ بہت سے لوگ خودکشی کرلیتے ہیں اس معاشرے میں ہم جیسے بزدل بہت بہادری یا ڈھٹائی کے ساتھ زندہ ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ یا جھڑپوں کی سالگرہ دھوم دھام سے منائی جارہی ہے۔ شہروں میں عسکری قیادت کے بینر لگائے گئے ہیں اور بڑے بڑے کمرشل ادارے اشتہارات میں افواج پاکستان کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے، ان کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔ ایک غریب ملک میں کسی جنگ کو گلوری فائی کرنے کا یہ رویہ ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔
گزشتہ دنوں چارسدہ کے نامور عالم دین مولانا شیخ محمد ادریس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ شیخ محمد ادریس خیبر پختو نخوا اسمبلی کے سابق رکن تھے۔ وہ عسکریت کی بجائے سیاسی جدو جہد کے قائل تھے ۔ کچھ عرصہ سے انہیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ وہ جمہوریت اور آئین کی حمایت چھوڑ دیں ۔ اُن کے کچھ شاگرد بھی اُن سے پوچھتے تھے کہ جس جمہوریت میں انصاف نہ ہو اور جس آئین کو طاقتور لوگ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں، اس جمہوری نظام کی حمائت کا کیا فائدہ ؟ شیخ محمد ادریس نے دھمکیوں کے باوجود سیاسی و جمہوری جدوجہد کی حمایت جاری رکھی اور آخر کار گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
میڈیا بتا رہا ہے کہ 24 کروڑ رعایا معرکہِ حق جیتنے والی ریاست کی خوشیوں میں برابر کی شریک ہے۔ یہ خبر بھی تو کسی دن نشر ہو کہ اس بار ریاست بھی 24 کروڑ عوام کی خوشیوں میں برابر کی شریک ہے ۔
تمام امن و آشتی، ثالثی و خیر سگالی ایکسپورٹ نہ کریں کچھ اپنے لوگوں کے لیے بھی بچا کے رکھیں۔ یادگاریں ضرور بنائیے مگر یاد رہ جانے کا بھی کچھ سامان تیار کیجیئے۔
ہمیں ابلیسی نمائندے احساس دلا رہے ہیں کہ اب تم خدا کے صاحب الرائے نائب نہیں ہو اب تمہیں اپنے ہونے کی شناخت کے لیے اپنا نظریہ قربان کرنا ہوگا۔۔آپ میں سے بھی بیشتر لوگ اپنے نظریے کو سمجھوتے کے جزدانوں میں رکھ چکے ہیں ۔۔بہت سے عظیم تحریری ورثے ابلیسی خداؤں نے مٹا دیے ۔۔خود میرے بہت سے کلام جنہیں صرف ٹائپ شدہ حالت میں رکھ کر بے فکر تھی کہ محفوظ ہیں ۔۔اور کچھ قیمتی کلام جو ریلیز بھی ہوئے مگر اغوا کاروں کے عزائم سے متصادم تھے انہیں بھی بے صدا کر دیا گیا۔۔
بنگال کے شہریوں کو عام طور سے باشعور اور ترقی پسند سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے بی جے پی کی مذہبی انتہاپسندی کو چیلنج کرنے والی ممتا بینر جی کامیابی سے بنگال میں حکومت کے ذریعے نریندر مودی کی غیر منصفانہ اور غیر معقول پالیسیوں کی سب سے بڑی ناقد رہی ہیں۔ البتہ ان انتخابات میں بنگالی ووٹروں نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں۔
آخر میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ دشمن ہے، نہ نجات دہندہ۔ یہ ایک طاقت ہے، اور طاقت ہمیشہ اپنے استعمال سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر اسے انصاف، دیانت اور انسانیت کے ساتھ استعمال کیا گیا تو یہ دنیا بدل سکتی ہے۔ اگر اسے جھوٹ، لالچ، نفرت اور تباہی کے لیے استعمال کیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔
یاد رکھنا چاہیے، مشین جواب دے سکتی ہے، مگر ضمیر، احساس، حکمت اور ذمہ داری آج بھی انسان کے پاس ہے۔
