ان کے فرزند اور جانشین نے مذکورہ مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے بدلہ لینے کا عہدہ باندھا۔ عوام کو یقین دلایا کہ خمینائی کے قاتلوں کو ان کے بستر میں فطری موت نصیب نہیں ہوگی۔ آیت اللہ مجتبیٰ خمینائی کی جانب سے جاری ہوئے تحریری بیان کوبغور پڑھنے کے بعد ناقابل علاج سادہ لوح افراد ہی ایران اور امریکہ کے مابین دائمی امن کے حصول کے لئے مذاکرات کی بحالی کی امید برقرار رکھ سکتے ہیں۔
Browsing: لکھاری
زندہ قومیں اپنی تاریخ میں سنہ 71ء یاد رکھتی ہیں اور جنہیں زندگی سے تعلق نہ ہو وہ اپنا سنہ 71ء فراموش کر دیتے ہیں۔
کیا عوام کو بتایا جاتا ہے کہ روزانہ کتنے مسافر سفر کرتے ہیں، کل آمدنی کتنی ہے، آپریشنل اخراجات کیا ہیں اور فی مسافر کتنی سبسڈی دی جا رہی ہے؟
یہ کتاب صرف روسی ادب کے مطالعے کے لیے ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کے شفاف اسلوبِ ترجمہ اور گہرے ادبی شعور سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی ضرور خریدنی چاہیے۔ ان کے تراجم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری کو کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ ترجمہ پڑھ رہا ہے؛ یوں لگتا ہے جیسے اصل تخلیق اردو ہی میں لکھی گئی ہو۔
یہ سفاکیت کوئی مذہبی گروہ نہیں دکھا سکتا۔ ہاں، سرمایہ دار کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ کہیں سرمایہ دار مذہب کو استعمال تو نہیں کر رہا؟ کہیں دنیا کے معصوم لوگ اسی طبقے کے ہاتھوں گمراہ تو نہیں ہو رہے؟
خامنہ ای کے جنازے پر آنسو بہانے والوں کا ایک سمندر موجود تھا لیکن اس سوگ کو پاسداران کی شدت پسندی کا تصدیق نامہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ نہ ہی ان جلوسوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوکر بھی موجودہ رجیم کا ساتھ دیتے رہیں گے۔
غیر ملکی خواتین حال ہی میں گرفتار ہوئے پاکستانیوں کو ایک اور ملک میں ملی تھیں۔ انہوں نے طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کو کرپٹو کرنسی کے دھندے میں سرمایہ کاری کو اکسایا۔ اس کا اعتماد جیتنے کے لئے اسے گرانقدر منافع کی رقم بھی ادا کی گئی۔ بعدازاں مگر یہ ہی خواتین سرمایہ ہڑپ کرتی نظر آئیں۔ سوال اٹھتا ے کہ ہزاروں ڈالر مبینہ طورپر ہڑپ کرلینے کے بعد وہ مزید سرمایہ کاری کے لالچ میں پاکستان آنے کو آمادہ کیوں ہوئیں؟
ارنا کے مطابق نماز جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔ تیسرے مرحلے میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
پہریدار اب تھک رہے ہیں۔ ان کی لوہے کی لاٹھیاں اب ہجوم کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ جب وہ ایک کو مارتے ہیں تو اس کی جگہ دس نئے سر ابھر آتے ہیں۔
ے شک خارجہ امور میں ہمیں قابل تعریف کامیابیاں ملی ہیں لیکن سمجھنا چاہیے کہ مطلق العنان ریاستیں خرابیوں سے توجہ بٹانے کے لیے خارجہ محاذ پر کامیابیوں کا ڈھول پیٹا کرتی ہیں۔
