ہم میں سے بہت سے لوگ سانس لیتے ہیں اور ان کے دل بھی دھڑکتے ہیں، لیکن وہ زندہ نہیں ہوتے۔ وہ زندہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ تنہا ہوتے ہیں۔ وہ زندہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ محبت نہیں کرتے، یا کوئی ان سے محبت نہیں کرتا۔ وہ کسی تعلق میں نہیں ہوتے۔
Browsing: لکھاری
عطااللہ تارڑ اور سہیل آفریدی کے بیانات یکساں طور سے واضح کرتے ہیں کہ اپوزیشن ہی نہیں حکومت بھی مسائل کی شدت سمجھنے یا انہیں حل کرنے کی طرف پیش قدمی کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
اجلاس کے بعد وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے وزیراعلی ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی باونڈری پر کیل لگانے کا مطلب ہے کہ اس صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہورہی ہے، کیا اس صوبے کے عوام یہ سمجھے کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش پر کام شروع ہوچکا ہے۔
حیرت کا اظہار کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اسلام آباد پر دھاوے کو ہر صورت روکنے کو ڈٹی حکومت اس جماعت کے پٹرولیم لیوی کے خلاف دیے دھرنوں کی راہ میں حائل کیوں نہیں ہورہی۔
ہم نے ایک ایسی جمہوریت بنا لی جس میں ووٹ دینے کا حق تو محفوظ ہے مگر جن چیزوں پر ووٹ دیا جاتا ہے، وہ بیلٹ باکس سے باہر منتقل ہو چکی ہیں۔ فرمانبردار شاہ کا سوال یہی تھا کہ اگر میرا ووٹ اُس جگہ تک نہیں پہنچتا جہاں میرا بجلی کا بل بنتا ہے، تو میرا ووٹ ہے کیا؟
انتخابی اعتبار سے یہ جماعت 2002 کے علاوہ کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ 1970 کی دہائی میں قائم ہوئی پارلیمان میں البتہ حزب مخالف کی صفوں میں بیٹھے اس کے چند رہ نماؤں نے بھٹو حکومت کو پریشان رکھا۔
اِس وقت اپوزیشن جماعتیں بھی اپنی اپنی پرواز کر رہی ہیں اور تین حصوں میں تقسیم ہیں۔ پی ٹی آئی، اپوزیشن اتحاد، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کسی پرواز کا حصہ نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’سیف لینڈنگ‘ کون کرتا ہے اور اگلی پرواز کے ہمسفر کون کون ہوتے ہیں۔
’اعلان اسلام آباد‘ کے نام سے طے والے معاہدہ میں بھی امریکہ شکست خوردہ ہی دکھائی دیتا تھا ۔ البتہ ایران کے حقیقی حکمرانوں، پاسداران انقلاب نے اس کا احترام کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر جنگ کا آغاز کیا۔
ہمارے سیاسی لیڈر صرف ایک طاقت کی آواز سننا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ آواز مخالف فریق تک نہ پہنچے۔
مذہب کی تعبیر ہر عہد میں بدلی ہے۔ جو لوگ آج ہمیں راسخ العقیدہ نظر آتے ہیں، اپنے زمانے میں وہ بدعتی کہلائے تھے۔ امام غزالی پر فلسفے کی آمیزش کا الزام لگا، ابنِ عربی پر کفر کے فتوے لگے، مغل دربار کی خطاطی اور مصوری کو مولوی نے کبھی جائز نہ کہا مگر آج وہی مصوری اسلامی آرٹ کے عجائب گھروں کی زینت ہے۔
