غیر ملکی خواتین حال ہی میں گرفتار ہوئے پاکستانیوں کو ایک اور ملک میں ملی تھیں۔ انہوں نے طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کو کرپٹو کرنسی کے دھندے میں سرمایہ کاری کو اکسایا۔ اس کا اعتماد جیتنے کے لئے اسے گرانقدر منافع کی رقم بھی ادا کی گئی۔ بعدازاں مگر یہ ہی خواتین سرمایہ ہڑپ کرتی نظر آئیں۔ سوال اٹھتا ے کہ ہزاروں ڈالر مبینہ طورپر ہڑپ کرلینے کے بعد وہ مزید سرمایہ کاری کے لالچ میں پاکستان آنے کو آمادہ کیوں ہوئیں؟
Browsing: لکھاری
ارنا کے مطابق نماز جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔ تیسرے مرحلے میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
پہریدار اب تھک رہے ہیں۔ ان کی لوہے کی لاٹھیاں اب ہجوم کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ جب وہ ایک کو مارتے ہیں تو اس کی جگہ دس نئے سر ابھر آتے ہیں۔
ے شک خارجہ امور میں ہمیں قابل تعریف کامیابیاں ملی ہیں لیکن سمجھنا چاہیے کہ مطلق العنان ریاستیں خرابیوں سے توجہ بٹانے کے لیے خارجہ محاذ پر کامیابیوں کا ڈھول پیٹا کرتی ہیں۔
پاکستان میں خیرات کی ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لوگ خیرات دے کر یا لے کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ کوئی یہ جاننا نہیں چاہتا کہ خیرات میں بانٹے جانے والے وسائل کو پیداواری سہولتوں میں صرف کرکے روزگار کے لاتعداد مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ سرکاری بجٹ میں ’بے نظیر انکم سپورٹ‘ پروگرام اس خیرات ثقافت کی نمائیندہ مثال ہے۔ اسی طرح پاکستانی اشرافیہ بھی درحقیقت اسی ’خیرات کلچر‘ کا حصہ ہے۔
یہ کتاب آپ گردوپیش پبلی کیشن ملتان رضی الدین رضی صاحب سے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کر کے منگوا سکتے ہیں۔
03186780423
خاتون سمجھی کہ پاکستان سے واقعتا کوئی دیوانہ دہشت گرد اس کے کمرے میں گھس آیا ہے۔ مجھے کمرے میں چھوڑ کر باہر نکل گئی۔ میں سمجھا پولیس بلوانے گئی ہوگی۔ وہ مگر میرے پاسپورٹ کی فوٹو کاپیاں مختلف لوگوں کو بھجوانے کے بعد ریسیپشن سے فون پر ان سے باتیں کرتی نظر آئی۔ میں کرسی پر چپک کے بیٹھا رہا۔
حادثے کے بعد شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ جب فریقین ایک دوسرے کی طاقت کے بارے میں بدگمانیوں سے باہر نکل آئیں تو سفارت کاری کا راستہ از خود کھل جاتا ہے۔
کاہنہ کے ٹیوشن سنٹر کا حادثہ تو یہ خبر دیتا ہے کہ مجبور اور لاچار ماں باپ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو وہ بنیادی تعلیم دلانے کے لیے کیسے اسکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں، جو درحقیقت حکومت کی ذمہ داری ہے۔
