Browsing: لکھاری

گزارش ہے کہ آج کل اچھی بھلی، ہٹی کٹی بھینس بھی مہنگائی کے ہاتھوں پچک کر بکری معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی یہ دنیا ہے پیارے! یہاں ہم نے اچھے اچھے ‘سانڈ نما’ سورماؤں کو حالات کے آگے بھیگی بلی بنتے دیکھا ہے۔

ہ آصف علی زراری کے قریب ترین دوستوں میں سے ایک ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کو رحمن ملک مرحوم کے رویے کی وجہ سے ڈرامائی پریس کانفرنسوں کے بعد آصف علی زرداری سے دوری اختیار کرنا پڑگئی تھی۔ رحمن ملک مگر اپنے عہدے پر قائم رہے۔ وزارت داخلہ میں ’’کچھ تو ایسا ہے‘‘ کہ جو بھی شخص وہاں بیٹھا ہو ’’مستقل‘‘ ہوا محسوس ہوتا ہے۔

سوال دینی کتب کی خریداری کے بارے میں تھا، اس لیے اسے آسانی سے حرام قرار دے کر ملکی حکومت کو بے بس کرنے کی شعوری کوشش کی گئی جو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایک طرف ٹرمپ خاندان کو راضی کرنے کا جتن کررہی ہے تو دوسری طرف بعض زعما اس کاروبار سے اپنی دولت میں اضافہ کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے

کسی ملک میں تخلیقی سرگرمی کا معیار ناگزیر طور پر اجتماعی بندوبست کی توانائی سے بندھا ہے۔ ہم نے جو اجتماعی ذہن مرتب کیا ہے وہ تخلیقی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکا اور سوویت یونین میں فلم کے میدان میں کڑا مقابلہ رہا اور بازی امریکا کے ہاتھ رہی۔ وجہ یہ کہ سوویت یونین میں تخلیقی سرگرمی پر نظریاتی قبا اوڑھے ہوئے کم سواد ، خوشامدی اور جعل ساز اہلکاروں کا اجارہ تھا۔

مسئلہ یہ ہے کہ مولوی نے ہمیں یہ بتایا ہوا ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے لہذا آبادی کنٹرول کرنا یا بچے کم پیدا کرنا دینی احکامات کے خلاف ہے۔ اِس سوچ نے پاکستان کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔
اسکولوں میں جگہ نہیں، ہسپتالوں میں بستر نہیں، پینے کو صاف پانی نہیں، لیکن غریب کی جھونپڑی میں آٹھواں بچہ جنم لے رہا ہوتا ہے۔

خدا نے ہر انسان کو باضمیر پیدا کیا ہے، لیکن انسان ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے اسے بہلاتا رہتا ہے۔ اسی لیے ہم سرکاری اور نجی کاروباری عمارتوں کے اندر وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی عبادت گاہیں دیکھتے ہیں۔ انھیں بنانے والے اس عمل کو صدقۂ جاریہ سمجھتے ہیں۔ یعنی اس کے بعد ان کاروباری عمارتوں میں وہ کوئی بھی بددیانتی کریں، ان کا ضمیر مطمئن رہے گا کہ صدقۂ جاریہ کے چشمے سے ان کے لیے بخشش کے آبِ زم زم تو پہلے ہی رواں دواں ہو چکے ہیں۔

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان خدشات کا اندازہ تھا اسی لئے کہتے ہیں کہ انہوں نےکسی تقریب یا جلسے میں اس وقت کے صوبائی وزیر بلدیات جام صادق علی کو مخاطب کرتے ہوئے ازراہِ مذاق ہی سہی کہا، ’’مجھے زمینوں کی بندر بانٹ کی بڑی خبریں مل رہی ہیں بس مزار قائد کو بخش دینا۔ ‘‘

اگر ایران نے عرب ممالک پر حملوں پر کنٹرول نہ کیا تو بعض ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی اس تنازعہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ لڑائی پاسداران انقلاب کی طاقت سے زیادہ اسرائیلی حکمت عملی کی کامیابی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
(

یہ صرف ایک فون انڈیکس نہیں، بلکہ میری زندگی کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس کے ہر صفحے پر ایک چہرہ آباد ہے، ہر نمبر کے پیچھے ایک آواز محفوظ ہے، اور ہر نام کے ساتھ زندگی کا ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔