تحریر بولی جانے والی زبان کے مقابلے میں بہت بعد میں وجود میں آئی، تقریباً پانچ ہزار سال پہلے میسوپوٹیمیا اور مصر میں اس کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ لکھنے سے انسان کو حساب، قانون، کہانی اور عقیدہ محفوظ کرنے میں مدد ملی
Browsing: لکھاری
دنیا کا پہلا بڑا شہر ارک (Uruk) موجودہ عراق میں سمجھا جاتا ہے، تقریباً 4000 قبل مسیح۔ اس کے بعد مصر میں ممفس، بلوچستان میں مہرگڑھ ،وادی سندھ میں موہنجوداڑو اور ہڑپہ (2600 قبل مسیح) آباد ہوئے۔
خیبر پختون خوا میں چونکہ پیپلز پارٹی کا گورنر ہے، اس لیے اسحاق ڈار کی نگرانی میں قائم ہونے والی غیر رسمی مگر ’سپر کمیٹی ‘درحقیقت پیپلز پارٹی کی سیاسی نگرانی کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس اقدام سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم پارٹی سیاسی مفاد کی حفاظت کررہے ہیں یا قومی سلامتی اور جمہوریت کے لیے فکرمند ہیں۔
ماہرین علم الآثار تاریخ اور لسانیات بتاتے ہیں کہ انسان نے زبان کے ذریعے ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچانی کوئی پچاس سے ستر ہزار سال قبل شروع کی ، جبکہ اس نے غاروں اور جنگلوں سے نکل کر کھیتی باڑی اور چھوٹی بستیاں بسانا 12 سے 15 ہزار سال ہوئے شروع کیا ۔مکمل مضمون کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
یہ قیدی حکومت پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اس حکومت کو عمران خان فوبیا سے رہا ہونا ہے اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔
انجینئر ممتاز احمد خان نے اپنی زندگی کے تجربات کو جس دیانت، بے باکی اور اخلاص کے ساتھ قلم بند کیا ہے، وہ اس کتاب کو محض ایک آپ بیتی نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور قومی دستاویز کا درجہ عطا کرتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وقتی انتظامی سکون کو مستقل سیاسی استحکام کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ قوموں کی ترقی کا راستہ مضبوط اداروں، شفاف حکمرانی، آئینی بالادستی اور عوامی اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے۔
اگر تحریک انصاف کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ وفاقی حکومت ناجائز اور فارم 47 کی وجہ سے قائم ہوئی ہے تو بھی اس حکومت کی مخالفت میں کسی پارٹی یا سیاسی حکومت کو فوج کے خلاف محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔
تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں مرنے مارنے کو بے چین حامی فی الوقت گھروں سے نکل کر ریاستی قوت کو للکارنے کی ہمت سے محروم ہیں۔
’’ہمیں مگرمچھ کہنے سے پہلے سو بار سوچا کریں۔ کیونکہ ہم پانی میں رہتے ضرور ہیں مگر پانی میں پانی نہیں ملاتے۔‘‘ .
